رشتوں کو ٹوٹنے سے بچائیں

تازہ خبر مضامین

ازقلم : عبدالقیوم شاکرالقاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء امام وخطیب مسجد اسلامیہ نظام آباد
9505057866

رشتوں کی آس زندگی کی مٹھاس ہوتی ہے
اس حقیقت کو آج کے ٹکنالوجی والے دور میں اپنی اولاد کو اور سماج کے ہرطبقہ کو سمجھنے اورسمجھانے کی بہت زیادہ ضرورت ہے
حقیقت یہ ہیکہ آج جس تیزگامی کے ساتھ رشتوں ناطوں کومسلم معاشرہ میں توڑنے کا رواج بنتا اور عام ہوتا جارہاہے وہ انتہائی تشویشناک اور قابل فکر ہے راقم سطور کے دل میں خیال آیا کہ اس حوالہ سے کچھ شعور بیداری کی جاے اور موجودہ دور میں جو دوریاں بڑھتی جارہی ہیں اس کی چند وجوہات اور اس کا تدارک کرنے کی کوشش کی جاے ۔۔۔۔

بہرحال انسان کو سب سے پہلے یہ سمجھ لینا اور ہمیشہ یادرکھنا چاہیے کہ اس دنیا میں اس کی آمد ہی رشتوں کی بنیادپر ہوی ہے انسان پیداہوتے ہی رشتوں کے حسین بندھن میں بندھا ہوتا ہے ماں باپ بھای بہن دادھیال ننھیال پھر زندگی کے مختلف مراحل ومدارج طےء کرتے ہوے سسرال میکہ دوست احباب جیسے بے مثال رشتوں سے جڑجاتا ہے جو اس کو زندگی کی حقیقت سے آشنا کراتے ہیں ہمارے مذہب مذہب اسلام نے رشتوں اور قرابت داریوں کے سلسلہ میں ان کو جوڑنے اور ان کا خیال رکھنے کے حوالہ سے انتہای شاندار اور بہترین تعلیمات واحکامات دییے ہیں

چنانچہ قرآن مجید میں بارہا اس بات کی جانب توجہ دلای گئ کہ ارحام اور رشتہ داریوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو ان کا خیال رکھو ان کو جوڑے رکھو اورتوڑنے سے اجتناب کرو
عربی زبان میں رشتہ داری کو رحم کہتے ہیں جو رحمان سے بناہے اور رحمان اللہ تعالی کا ایک خاص صفت مہربانی پر دلالت کرتا ہے

الرحم شجنۃ من الرحمان
ان رشتہ داریوں کا براہ راست تعلق اللہ کی ذات عالی سے ہے جس نے تمہیں بنایا پیدا کیا وجود بخشا اگر تم ان کو توڑوگے تو اللہ تعالی تم کو اپنی ذات سے توڑدے گا گویا اپنوں سے رشتہ توڑنا اللہ تعالی سے رشتہ توڑنے کے مترادف ہے انسان اپنے پیداکرنے والے سے ہی رشتہ توڑ لے تو بھلا وہ انسان کیا زندگی گذارے گا ۔۔۔ رشتہ داری خواہ نسبی ہوں یا سسرالی بہرحال رشتہ داری ہے جن کو اللہ تعالی نے ہی بنایاہے اور تمہیں ان کے حقوق اداکرنے کا پابند کیا ہے اگر تم نے اس سے پہلو تہی کی تو پھر عنداللہ ماخوذ تو ہوں گے ہی لیکن تمہاری اپنی زندگی کی مٹھاس ختم ہوجاے گی اور تم اجنبی بن کر رہوگے اور تنہاء انسان کسی قسم کء خیر وبھلای کانہ حقدار ہوتا ہے نہ اس میں کسی کو دلچسپی ہوتی ہے بلکہ اس شمار ہی نہیں ہوتا اسی لےء حدیث پاک میں کہا گیا کہ

لاخیرفی من لایآلف ولایؤلف
جس انسان سے کسی دوسرے کا کوی تعلق خاطر ہی نہ ہوں اپنوں اور پرایوں سے ملنا جلنا ان کے ساتھ ہمدردی وخیرخواہی کرنے کا مزاج ہی نہ ہوں تو پھر اس انساں میں کوئ خیر اور بھلای ہے ہی نہیں
اگر انسان ملنے جلنے والاہوں اور اپنوں کی جانب سے تلخیاں آے تو اس پر صبر کرنے والا ہوں تو وہ انسان انسان ماناجاے گا ۔
ہمیں یہ بات بھولنا نہیں چاہیے کہ
باری تعالی نے جب رشتہ داری اور رحم کو پیدا فرمایاتو رشتہ داری نے دربارخداوندی میں شکایت کرتے ہوءے یوں گویا ہوی
ھذامقام العائذبک من القطیعۃ

کہ میں آج اپ کے سامنے پناہ مانگنے کے لےء کھڑی ہوان لوگوں سے جو مجھے توڑدیتے ہیں تو باری تعالی نے صاف لفظوں میں فرمادیا کہ

ان أصل من وصلک واقطع من قطعک
جو تجھ کو جوڑے گا میں اس کو اپنے سے جوڑلوں گا اور جو تجھ کو توڑے گا اس سے میں بھی اپنا رشتہ توڑلوں گا
کتنی تہدید اس حدیث پاک میں دی جارہی ہے ان لوگوں کو جورشتوں کو توڑتے ہیں
ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ اس قسم کی حرکتوں سے باز آجائیں اور رحمت الہی کے مستحق بن جائیں
جبکہ صلہ رحمی کے لےء دین بھی شرط نہیں ہے حضرت اسماء نے اپنی والدہ کے متعلق آپ علیہ الصلوۃ والسلام سے سوال کیا کہ میری والدہ مسلمان نہیں ہیں لیکن وہ مجھ سے صلہ رحمی کی امید لگاکر آئیں ہیں تو آپ نے فرمایا کہ ان کے ساتھ لازما صلہ رحمی کرو
نیز صلہ رحمی کی اعلی مثال دے کو سمجھادیا گیا کہ بدلہ دینے کا نام صلہ رحمی نہیں ہے بلکہ توڑنے والوں سے جڑنا صلہ رحمی ہے

لکن الواصل الذی اذاقطعت رحمہ وصلھا
اگر تم سے کوئ بندہ رشتہ توڑرہا ہوں تو تم اس کو جوڑو اس کا نام ہے صلہ رحمی جو آج ہم مسلمانوں میں ہی نایاب ونادر بن چکی ہے آج کے اس سوشل میڈیای دور میں جہاں ہمارے اندر بہت ساری برائیاں جنم لے چکی ہیں وہیں رشتہ داریوں کی بےوقعتی اور رشتہ داروں سے بے اعتنای والاگناہ بھی جنم لے چکاہے شاید انہی حالات کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیاتھا کہ قیامت سے پہلے رشتہ داریاں ٹوٹ سی جائیں گی جھوٹی گواہی عام ہوجاے گی اور سچی گواہی نایاب ہوتی جاے گی
ہم اپنے مسلمان بھائیوں بہنوں سے بس یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جب ان رشتوں میں ایک مرتبہ بندھے گےء ہیں اور اللہ تعالی ہی نے اس کو قائم فرمادیا ہے تو پھر اس کو نباہنے کی کوشش کریں معمولی سی باتوں اور غلط فہمیوں کو بنیاد بناکر اپنی زندگیوں سے کھلواڑ نہ کریں اوروں کو جگ ہنسای کا موقع نہ دیں

 

یہ بھیں:  پڑھی سیکریٹریٹ کی دونوں مساجد کا نقشہ تیار

ماہ کے اواخر تک دونوں مساجد کا سنگ ِ بنیاد۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی

:

 

ہم اس دین کو ماننے والے ہیں جس نے دشمنوں کوبھی دعائیں دینا سکھلایا یہ رشتہ دار تو ہمارے اپنے ہیں کوی کسی کی ماں ہے تو کوی باپ ہے کوی بھای بہن سے جڑے ہیں تو کسی کے درمیان شوہر بیوی کا تعلق ورشتہ ہے
اس لےء انتہای سنجیدگی کے ساتھ ہمیں غوروفکرکرنے کی ضرورت ہے