رشحات قلم: عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع نظام آباد تلنگانہ
9505057866
ماہ مقدس رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ہر طرف وہی گہماگہمی کے نظارے ہیں کہیں تنظیمی اعتبار سے تیاریاں عروج پر ہیں تو کہیں گھرانوں میں استقبال ہورہا ہے کہیں انفرادی زندگی اس ماہ کی منتظر ہے تو کہیں مساجد میں سہولت وراحت کے انتظامات دیکھنے کو مل رہے ہیں
راقم الحروف آمد رمضان سے قبل پیشگی مبارکباددیتے ہوے اس جانب خصوصی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہیکہ اس ماہ مبارک کا اصل تعلق قرآن مجید سے ہے چونکہ باری تعالی نے اس ماہ کو نزول قرآن کےلےء منتخب فرمایا اور
شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن
کہ کر اس ماہ کی عظمت ورفعت میں دوبالگی فرمادی اوریہ عام پیغام بھی دے دیا کہ بندہ خدا اس ماہ مبارک کی قیمتی ساعتوں اور لمحات میں جہاں اور بہت سارے اعمال صالحہ وکار خیر کرتا ہے وہیں تلاوت قرآن کا اہتمام بھی لازمی کریں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق بکثرت اس ماہ میں قرآن مجید کی تلاوت ہونی چاہیے خود آپ علیہ السلام بھی معمول سے زیادہ اس ماہ میں تلاوت فرمایاکرتے تھے
قرآن مجید کی تلاوت سے مراد عام لوگ صرف نماز تراویح میں قرآن کا پڑھنا یاسننا لیتے ہیں
حالانکہ اس ترغیب کا مطلب ہے تراویح کے علاوہ قرآن مجیدکا پڑھنا ۔۔۔
قرآن کریم کو رمضان سے خاص تعلق اور گہری نسبت حاصل ہے یہی وجہ ہیکہ آپ علیہ السلام رمضان میں نسبتا زیادہ تلاوت کا اہتمام کرتے حضرت جبریل علیہ السلام کا نبی اکرم کے ساتھ قرآن مجید کا دورکرنا بھی اس کی گواہی دیتا ہے
تراویح میں ختم قرآن کا اہتمام بھی اسی کی جانب اشارہ کرتا ہے
صحابہ کرام وبزرگان دین اور اسلاف امت کا معمول سے زیادہ اس ماہ میں قرآن پڑھنا یہ سب چیزیں بتاتی ہیں کہ رمضان المبارک میں قرآن سے مسلمانوں کو خصوصی لگاؤ اور اعلی درجہ کا تعلق ہونا چاہیے
لیکن افسوس
کہ ہم مسلمان اس حوالہ سے بہت غافل ثابت ہوے ہیں
ہم میں سے اکثریت تو اولا قرآن کوپڑھنا نہیں جانتی اور جو جانتے ہیں وہ پڑھتے نہیں اور جو پڑھتے ہیں وہ لوگ کس طرح
کس انداز سے پڑھتےہیں وہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں
صرف علماء حفاظ اور تراویح میں قرآن سنانے والوں کو ہی اس شغف قرآن پر عامل دیکھا گیا ہے
لیکن کیا عام مسلمانوں کو اس حکم سے مستثنی ماناجاے گا ؟کیا ہر مسلمان مرد وعورت کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ قرآن مجید کوپڑھیں ؟
اور اللہ کے اس عظیم کلام سے حقیقی برکت حاصل کریں
جس کی تاکید احادیث میں کی گیء کہ
تبرک بالقرآن فانہ خرج من اللہ
قرآن مجید سے برکت حاصل کرو یہ اللہ کی ذات سے نکلا ہوا کلام ہے اس کی بڑی تاثیر زندگیوں میں ہوتی ہے
یوں تو روزآنہ ہی ہمارے گھرانوں میں اس کی تعلیم وتلاوت ہونا چاہیے
جن کو پڑھنا نہیں آتا ان کو سیکھنے کی فکر کرنا لازم ہے قرآن مجید کو چھوڑ کر مسلمان کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا ہے
آج ہماری ذلت ورسوای اور فضیحت وپسپای کا واحد علاج ہے قرآن مجید سے کماحقہ اپنا تعلق خاطر جوڑلے
ہم مسلمان اتنے غافل ہیں کہ دنیا کی ہر چیز میں توجہ دکھائیں گے اپنا تعلق ظاہر کریں گے کاروبار تجارت ملازمت نوکریاں دنیاوی تعلیم روزمرہ کے کام کاج سب برابر جاری رکھیں گے لیکن تلاوت قرآن اور تعلیم قرآن کے لےء ہم وقت نہیں نکال سکتے ہیں
کیا ہم مسلمانوں کی یہ مجرمانہ غفلت نہیں ہے ؟
کیا اس طرح کے عمل سے ہم دین ودنیا میں ترقی حاصل کرپائیں گے ؟
کچھ نہیں تو کم ازکم
رمضان المبارک کے مقدس مہینہ ہی کو ہم لوگ غنیمت سمجھ لیتےاور پورے مہینہ کو تلاوت قرآن میں لگالیتے اور کچھ نہ پڑھنے کے بجاے کچھ تو پڑھنے اور سیکھنے کا معمول بنالیتے کسی عالم دین یا حافظ قرآن سے رابطہ کرکے اس کے قیمتی اوقات میں سے کچھ وقت مانگ لیتے اور اپنی قرآن مجید کی تلاوت وقرآت کو درست کروالیتے تو ہمارا رمضان بھی کامیاب گذرتا قرآن بھی درست ہوجاتی اور نمازیں بھی اچھی ہوجاتی
بہر کیف
عظمت قرآن اپنے دلوں میں پیداکرکے تعلیم قرآن پر خصوصی توجہ دینے کی آج بہت زیادہ ضرورت ہے
یہی نہیں بلکہ اپنی اولاد اور آنے والی نسل نو کو بھی اس کی ترغیب وتاکید کرنے کی ضرورت ہے
اللہ پاک توفیق عمل نصیب فرماے
ناقدری سے ہماری اور امت مسلمہ کی حفاظت فرماے
آمین
