رکن کونسل کویتا کی بروقت مدد سے کمسن لڑکی کو ملی نئی زندگی

بین الریاستی تازہ خبر
  1. ریڑھ کی ہڈی کے مرض سے جوجھ رہی ضلع پرکاشم کی کمسن گنا پیکا کی نمس ہاسپٹل میں کامیاب سرجری

حیدرآباد: 4 ؍مئی

(زین نیوز ڈاٹ نیٹ)
چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرشیکھر راؤکی دختر و رکن تلنگانہ قانون ساز کونسل کلواکنٹلہ کویتا نے ایک مرتبہ پھر انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے علاقائی سرحدوں کو نظر انداز کرتے ہوئے پڑوسی ریاست آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والی کمسن لڑکی گناپیکا کے علاج کیلے بروقت تعاون کرتے ہوئے اس کی جان بچائی۔ تفصیلات کے مطابق آندھراپردیش کے ضلع پرکاشم کے کنڈوکور گاؤن سے تعلق رکھنے والی 11سالہ کمسن لڑکی ارپیتا ‘ ریڑھ کی ہڈی کے مرض میں مبتلا تھی۔

مقامی ڈاکٹرس نے بتایا کہ گناپیکا کی ریڑھ کی ہڈی میں زخم ہے اور اسے سرجری کی ضرورت ہے۔ ارپیتا کا خاندان معاشی اعتبار سے اس قیمتی سرجری کے اخراجات برداشت کرنے کا متحمل نہیں تھا۔ اس کے خاندان نے اپنی بیٹی کی جان بچانے کیلئے کئی تنظیموں و افراد سے رابطہ کیا تاہم کسی سے مدد نہ ملی۔ تاہم انہوں نے 21 اپریل کو تلنگانہ کی رکن قانون ساز کونسل کو سماجی پلیٹ فارم ٹویٹر پر ٹیاگ کرتے ہوئے ان سے اپنی بیٹی کی صحت کی روداد سنائی اور مدد کی درخواست کی۔

 

کویتا نے فوری طور پر نظام انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکلسائنسس(نمس ) ہسپتال سے رابطہ کیااور انتظامیہ سے لڑکی کے علاج معالجہ کے تعلق سے بات چیت کی اور لڑکی کی صورتحال سے واقف کروایا۔ کویتا نے علاقائی حدود سے آگے بڑھتے ہوئے لڑکی کو ضلع پرکاشم سے نمس ہسپتال پہونچایا اور ہفتہ کے روز گناپیکا کی ریڑھ کی ہڈی کی ہفتہ کو پہلی کامیاب سرجری ہوئی۔

کویتا نے گناپیکا کے اہل خانہ کو لڑکی کے علاج کے علاوہ معاشی طور پر ہر ممکنہ مدد فراہم کرنے کا تیقن دیا۔ گنپیتا کے افراد خاندان نے ان کے اس آزمائشی وقت میں ان کی بروقت امداد پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ اس طرح کے واقعات انہیں ایک بہتر کل کی امید دلاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :  نیا کا امیر ترین شخص بل گیٹس نے اپنی بیوی ملنڈا کے ساتھ ازدواجی زندگی کے خاتمے کا کیا اعلان

رکن کونسل کویتا کی سماجی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ انسانی ہمدردی کیلئے وہ اپنی منفرد پہچان رکھتی ہیں۔ کویتا کی جذبہ ہمدردی کی مثال آئے دن خبروں کی زینت بنتی ہیں۔ چاہئے وہ کورونا وبا؍ ء کے پہلی لہر میں مہاجر مزدوروں کا مسئلہ ہو یا کورونا مریضوں کی مدد ہو۔

رکن کونسل کویتا ہمیشہ ضرورتمند و پریشان حال افراد کی مدد کیلئے پیش پیش رہتی ہیں۔ وہ کورونا کی دوسری لہر کے اس آزمائشی دور میں لوگوں کی مدد کیلئے سرگرم ہیں اور سماجی پلیٹ فارم ٹویٹر پر کافی متحرک ہیں ۔ کورونا کے مریضوں کو بیڈس کی فراہمی کا مسئلہ ہو یا انہیں پلازما یہ ادویہ کی فراہمی کا مسئلہ۔ کویتا نے تاحال سینکڑوں ایسے ضرورتمندوں کی مدد کی ہے۔

کورونا مریضوں اور ان کے اہل خانہ کی مدد کیلئے رکن کونسل نے حیدرآباد اور نظام آباد میں ہیلپ لائن ڈیسک بھی قائم کیا ہے جس کے ذریعہ روزانہ سینکڑوں مریضوں کو مدد فراہم کی جارہی ہے۔