سابق وزرائے اعظم میں دانشوروں کی باتیں سننے کا کلچر تھا ۔۔۔مگر اب

تازہ خبر تلنگانہ
حیدرآباد۔7؍ا گسٹ
 (زین نیوز)
چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھرراؤ نے کہا کہ سابق میں وزرائے اعظم کے پاس جو بھی اچھی بات کہتا ہے اسے سننے کا کلچر تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی حیثیت سے پنڈت نہرو امریکہ  کیا تو اس وقت کے صدرآئزن ہاور نے ایس کے ڈے نامی شخص کوا ن سے ملوایااور تعارف کرایا کہ وہ بھی آپ کا ہندوستانی ہے۔
اس نے امریکہ کیلئے بہترین خدمات انجام دی ہیں۔نہرو نے اگلے دن  اسے کھانے پر مدعو کیا۔ملککی آزادی کے بعد بھی اگر ایس کے ڈے جیسے دانشوروں کے بیرون ممالک  میں رہنے نہروکودکھ ہو اتو انہوں نے اسے وطن بلایا مگر اس نے انکار کیاکہ آپ کو ملک سے محبت نہیں؟ جب نہرو کو ڈے نے سختی سے کہا کہ آپ کی ترجیحات ٹھیک نہیں ہیں۔ ملک میں لوگ بھوکے مر رہے ہیں اور دریا برباد ہو رہے ہیں۔ ایسے وقت میں، ڈے نے تنقید کی کہ آپ نے پہلے پانچ سالہ منصوبہ میں صنعتی شعبے کو ترجیح دی۔
دوسرے پانچ سالہ منصوبے میں آبپاشی کے منصوبوں کو ترجیح دی گئی۔ بعد میں ایس کے ڈے واپس آئے تو انہیں راجیہ سبھا کا رکن بنایا گیا، کمیونٹی ڈیولپمنٹ کا خصوصی قلمدان بنایا گیا اور انہیں وزیر بنایا گیا۔ اس وقت عوام کے وسیع مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت سے فیصلے کیے گئے۔ملک میں یو پی اے حکومت  کے جانے بعد این ڈی اے حکومت آئی۔ اس کے ساتھ ہی پلاننگ کمیشن کی جگہ نیتی آیوگ وجود میں آیا۔ کے سی آر نے کہا کہ آج اس کے فیصلے ہمارے سامنے ہیں۔