سابق وزیرآندھراپردیش کی تین روزہ پوچھ تاچھ کے بعد جیل منتقلی

بین الریاستی تازہ خبر

حیدرآباد:14جنوری
زین نیوز
سابق وزیرآندھراپردیش اکھیلاپریہ کی جو پروین رائو برادران کے اغواء کے کیس میں اصل ملزمہ ہے آج پولیس تحویل ختم ہوگئی ۔ اس سے قبل انہیں بیگم پیٹ میں واقع ابتدائی طبی مرکزلے جایا گیا جہاں ان کا کورونا ٹسٹ کیا گیاتو اس کی رپورٹ منفی برآمدہوئی ۔ طبی معائینوں کی تکمیل کے بعد اکھیلاپریہ کومجسٹریٹ کے اجلاس پر پیش کیاگیا بعدازاں انہیں خاتون پولیس کی نگرانی میں چنچل گوڑہ ویمنس جیل منتقل کیاگیا۔ دوسری طرح اکھیلا پریہ کے وکیل نے اپنے موکل کی ضمانت کی درخواست داخل کی گئی تاہم مجسٹریٹ نے اس پر یہ کہتے ہوئے غور کرنے سے انکارکیا کہ اس سے قبل ہی اکھیلاپریہ کواغوا کے مقدمہ میں 14 دن کاریمانڈ دیاگیا ہے جس کی تکمیل کے بعد وہ اس پر غور کرے گے ۔14 دن کے ریمانڈ میں دینے کے فوری بعد پولیس نے اکھیلاپریہ کو 7 دن کی پولیس تحویل میں دینے کی عدالت سے استدعا کی تھی تاہم فاضل مجسٹریٹ نے مذکورہ درخواست پرسماعت کے بعدصرف تین دن کے پولیس ریمانڈ کی اجازت دی تھی تاکہ پروین رائو اور ان کے برادران کے اغواء کے مقدمہ میںپولیس کوتحقیقات میں مدد مل سکیں۔ یہ مقدمہ شہر کے مضافاتی علاقہ حفیظ پیٹ کی 50ایکٹراراضی کی ملکیت سے تعلق رکھتا ہے۔عدالت نے ان کی درخواست ضمانت پر16 جنوری کو ایکبارپھرغورکرنے کایقین دلایا پولیس نے تین دن کی تحویل کے دوران اکھیلاپریہ سے زائد ازتین سوسالات کیے جس میں انہیں حفیظ پیٹ زمین کی ملکیت اور اغواء سے متعلق کئی ایک تفصیلات کوحاصل کرنے میں مدد ملی ۔اطلاع ہے کہ پوچھ تاچھ کے دوران اکھیلاپریہ نے پولیس کوبتایا کہ حفیظ پیٹ زمین کے تنازعہ کی یکسوئی کے لیے پروین رائو اوران کے بھائیوں کی جانب سے مثبت ردعمل کے نہ ملنے کی وجہ ان کی بھائیوں کے اغواء کے لیے مجبور ہوناپڑا۔ ابتداء میں اکھیلاپریہ نے اغواء سے متعلق پولیس سوالات کا جواب دینے سے یہ کہتے ہوئے گریزکیا کہ انہیں اس تعلق سے کوئی معلومات نہیں ہے۔تاہم پولیس کی تین روزہ تحویل کے دوران انہوں نے ایک کے بعد دیگرے الزامات کوقبول کرتی گئیں جس کوپولیس نے ان کے سامنے ثبوتوں کے ساتھ پیش کیاتھا۔ان کے شوہر بھرگورام اوران کے برادرجگت ویکھیت ریڈی کے تعلق سے بھی یہ خبر ملی ہے کہ یہ دونوں بوئن پلی میں پروین رائوکے بھائیوں کے اغواء کی راست نگرانی کی تھی۔ اس سلسلے میں تحقیقاتی عہدیداروں نے ثبوتوں کے ساتھ مواد کواکٹھاکیا ہے ۔ بھرگورام اور ان کے برادرنسبتی جگت ویکھیت ریڈی کے بشمول گنٹورسینوکوحراست میں لینے سے اصلیت کا پتہ چلنے کا امکان ہے ان کے لیے پولیس کی خصوصی ٹیمیں تلاشی مہم میں لگی ہوئی ہے ۔حفیظ پیٹ میں اکھیلاپریہ کے والد آنجہانی بھوماناگی ریڈی کی زائد از33ایکٹرکی بے نامی زمین تھی جس کی اے وی سبھا ریڈی نامی شخص نگرانی کرتا تھا 2005 میں کرشنا رائو نامی وکیل کوقانونی مددکے لیے مقرر کیا گیا۔ یہ بھی ایک اطلاع ہے کہ اکھیلا پریہ کے شوہر اورگنٹورسینو کوپولیس نے کل حراست میں لیکر ایک خفیہ مقام پر پوچھ تاچھ کررہی ہیں تاہم اس کی سرکاری طورپر کوئی تصدیق وتوثیق نہیں ہوئی ۔