نکاح میں پائی جانے والی خرابیوں اور رسم و رواج کے خلاف طاقتور آواز بلند کریں: مولانا معین الدین
دیوبند:۔ 6؍ اکتوبر
(رضوان سلمانی) قصبہ نکوڑ میں سابق ایم ایل اے شگفتہ خان اور سابق چیئرمین خالد خان کی جانب سے چھ لڑکیوں کی اجتماعی شادی کی تقریب منعقد کی گئی ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا معین الدین انبہٹوی نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہم نکاح میں پائی جانے والی خرابیوں اور رسم و رواج کے خلاف طاقتور آواز بلند کریں اور ہر قسم کے مفاسد اور بری باتوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔
انہوں نے کہا کہ بیجا رسومات جوڑے گھوڑے اور جہیز کی لعنت سے بچتے ہوئے نکاح کو آسان بنائیں، کیوں کہ کم خرچ، ہلکی پھلکی اور آسان شادیوں کے سلسلے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ وہ نکاح بہت ہی بابرکت ہے جس کا بوجھ کم سے کم ہو۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ آج ہماری شادیاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بالکل برعکس ہو رہی ہیں جس کے نتیجے میں ہم نت نئے خانگی الجھنوں اور پریشانیوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔
ازدواجی زندگی کو خوشگوار، خوش حال اور کامیاب بنانے کے لیے اسلام نے جن باتوں کا ہمیں حکم دیا ہے، آج ہم انہیں باتوں کو پس پشت ڈالے ہوئے ہیں جس کے سبب ہم فساد وبگاڑ کی طرف نہایت تیزی سے رواں دواں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شادی کے شرعی معیار کو نظر انداز کر دینے کے سبب ہم مصیبت عظمیٰ میں گرفتار ہو گئے ہیں۔
اسلامی شادیاں جو کبھی سنت نبوی کے مطابق انجام پانے کی وجہ سے مبارک تھیں، آج رسومات مروجہ کے مطابق ہونے کی وجہ سے نامبارک ہو گئی ہیں۔ ہماری شادیاں جو خانہ آبادی اور مسرت و شادمانی کا ذریعہ و وسیلہ تھیں آج شرعی معیار کو نظر انداز کر دینے کی وجہ سے خانہ بربادی کا ذریعہ بن گئی ہیں۔ آج شادی کے بعد دو خاندانوں کے درمیان محبت کے بجائے عداوتیں وجود میں آ رہی ہیں۔
عورتیں مغربی تہذیب کی اندھی تقلید میں اپنے اعلیٰ و ارفع فرائض کو بھول کر مردوں کی برابری کے چکر میں اپنی بربادی کی طرف رواں دواں ہیں جب کہ اس پر عائد کی گئی ذمہ داریاں کافی تھیں، لیکن نادان عورتوں نے باہر کی دنیا میں قدم رکھ کر اپنے بوجھ کو مزید بڑھا لیا ہے۔ مرد کے شانہ بشانہ چلنے کے چکر میں مردوں کی ہوس بھری نظروں کا نشانہ بن کر اپنے آپ کو ذلیل کر رہی ہیں۔ گھر میں پوری عزت و وقار اور سکون کے ساتھ رانی بن کر بیٹھنے کے بجائے سوسائٹی کی تتلی بن گئی ہیں۔
آج کی عورتوں نے مردوں کی ذمہ داریوں کا آدھا بوجھ اپنے سر لے لیا ہے، آج کی کماؤ عورت کی حالت دن بدن بد تر ہوتی جا رہی ہے، نند، دیورانی، جیٹھانی کی طرف سے شکایات، ساس سسر کی طرف سے ظلم و زیادتی، شوہر کی طرف سے بدگمانی و سخت رویہ لیکن افسوس اسے پھر بھی ہوش نہیں، اس کی کمائی سے معیار زندگی ضرور بڑھ گیا ہے لیکن ازدواجی زندگی منتشر ہوکر رہ گئی ہے، بچے نوکروں اور پالنہ گھروں کے حوالے ہو رہے ہیں اور ماؤں کی محبت، لاڈ پیار اور لوریوں سے محروم ہو رہے ہیں۔
جب بیوی اپنے شوہر کے جائز حقوق پورے نہیں کر پا رہی ہے تو شوہر شا کی اور اپنی ازدواجی زندگی سے غیر مطمئن رہنے لگا ہے اور وہ بھی بدلے میں اپنی بیوی کے حقوق کا پاس و لحاظ نہیں رکھتا جس کی وجہ سے دونوں کی زندگی میں تلخیاں بڑھنے لگی ہیں، میاں بیوی ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے لگے ہیں۔
عورت انا پرستی کے چکر میں جھکنے کو تیار نہیں ہے جس کے نتیجے میں وقوع طلاق و خلع اور فسخ نکاح کی شرحیں دن بدن بڑھتی جارہی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ہم اپنی فرسودہ رسومات ومزعومات فاسدہ کو چھوڑنے کو تیار نہیں، حالانکہ مسلم معاشرے کا بگاڑ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ ہر جگہ بے راہروی دیکھنے میں آ رہی ہے، لوگ افراط و تفریط کے شکار ہیں۔ میاں بیوی کی زندگی کی گاڑی کے پہیے چلنے کے بجائے گھسٹ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام میں نکاح ایک با مقصد اور پر وقار عمل ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو پیغمبروں کی سنت قرار دیا ہے ہے اور نکاح کو سادہ اورآسان رکھا گیا ہے اور اس میں تکلفات اور لوازمات کو ناپسند قرار دیا گیاہے۔ نکاح میں نکاح کا قیام مسجد میں کرنا،مہر کی ادائیگی اور رخصتی کے بعد ولیمہ کرنایہ چیزیں شریعت سے ثابت ہیں، اس کے علاوہ جو رسومات اور تکلفات ہمارے ہاں اختیار کیے جاتے ہیں، ان سے نکاح کی سنت مشکل ہوجاتی ہے یہی وجہ ہے کہ بہت سے خاندانوں میں میں شادیاں انہیں رسومات کے پورا نہ کر سکنے کی وجہ سے اس قدر متاخر ہو جاتی ہیںجس کی وجہ سے ہزاروں بیٹیاں بن بیاہی گھروں میں بیٹھی ہوئی ہیں اورکتنی مسلم لڑکیاں مرتد ہوچکی ہیں۔ اسکے ذمہ دار کسی نہ کسی درجے میں ہم ہی ہیں ۔ مولانا انبہٹوی کی دعا پر تقریب کا اختتام ہوا
