دیوبند،11؍اگست
(رضوان سلمانی)یہ خبر انتہائی افسوس کے ساتھ پڑھی جائے گی کہ جامع مسجد گوجرواڑہ کے متولی اور جمعیۃ علماء یونٹ دیوبند کے سرگرم رکن و حج ٹرینر حاجی چودھری ممشاد احمد کا اچانک انتقال ہوگیاہے، ان کے انتقال کی خبر سے شہر میں غم کی لہر دوڑگئی اور کثیر تعداد میں علماء ،ذمہ شہر و سیاسی سماجی شخصیات کا ان کی رہائش گاہ پر تانتا لگ۔
اہل خانہ کے مطابق حاجی ممشاد کو گزشتہ روز ہارٹ اٹیک آیا تھا، جنہیں ہریانہ کے کرنال میں واقع ہسپتال میں داخل کرایا کیاتھا، جہاں نماز عصر سے قبل اچانک انکاانتقال ہوگیا، وہ تقریباً 58؍ سال کے تھے۔مرحوم نہایت نیک،ملنسار،خوش اخلاق اور صوم و صلوٰۃ کے پابندشخص تھے۔ان کی سماجی اور دینی خدمات قابل تعریف تھی۔ پسماندگان میںبیوہ کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔
ان کے انتقال پر جمعیۃ علماء کے صدر مولانا سید محمود مدنی، مفتی سید عفان منصورپوری، مولانا سلمان بجنوری، رکن شوریٰ مولانا محمد عاقل قاسمی، جمعیۃ علماء کے ضلع صدر مولانا ظہور احمد قاسمی ،ضلع جنرل سکریٹری سید ذہین احمد،امام و خطیب قاری زبیر احمد قاسمی،چودھری صادق، مسلم فنڈ دیوبند کے منیجر سہیل صدیقی،سابق چیئرمین انعام قریشی، سابق رکن اسمبلی معاویہ علی،چیئرمین ضیاء الدین انصاری،ڈاکٹر جمیل احمد،سمیر چودھری، فہیم اختر صدیقی دلشاد نیتاوغیرہ نے گہرے رنج و غم کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ حاجی ممشاد احمد بہترین شخصیت کے مالک اور علماء و بزرگان دین سے نہایت قریبی تعلق رکھتے تھے،
مرحوم سماجی اور دینی کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔ ان کے انتقال پر جامع مسجد کے امام و خطیب قاری زبیر احمد قاسمی نے نہایت افسوس کااظہار کرتے ہوئے محلہ اور شہر کے ساتھ ساتھ اپنا ذاتی خسارہ قراردیا۔نماز جنازہ دیر شب محلہ گوجرواڑہ میں ادا کی گئی ،بعدازیں آبائی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔