اکھلیش یادو اپنا سیاسی طرز بدلیں : امجد نواز
دیوبند،21؍ جنوری
(رضوان سلمانی)
آل انڈیا تحفظ انسانیت ٹرسٹ کے ترجمان امجد نواز نے پریس کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سماج وادی پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ اترپردیش اکھلیش یادو اس مرتبہ اسمبلی انتخابات میں مسلسل مسلمانوں کو نظر انداز کر رہے ہیں پہلے اپنے جلسوں میں نظر انداز کیا اور اب ریاست کے ہر ہر اضلاع میں مسلم لیڈران کو نظر انداز کیا جارہا ہے پارٹی کا ٹکٹ نہیں دیا جارہا ہے اور نہ ہی اکھلیش یادو کسی مسلم پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنے کو تیار ہیں، نفرت کا طوفان پڑھتا چلا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت اکھلیش یادو کا سیاسی طرز دیکھ کر حیرانی ہو رہی ہے حالات بہت تیز سے بدلتے ہوئے نظر آرہے ہیں اگر نفرت کا طوفان اسی طرح پڑھتا گیا تو پھر اس ملک کے اتحاد اور یکجہتی کا کیا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی موقع ہے خواب غفلت سے بیدار ہونے کا اگر آپ مظفر نگر میں اتحاد کی بنیاد پر تمام سیٹوں پر غیر مسلم کو انتخابی میدان میں اتار تے ہیں تو آپ مسلم ووٹ کی طرف بھی نظر ڈالیں۔
انہوں نے کہا کہ اتر پردیش 20 فیصد عوام مسلمان ہیں، آپ مسلم ووٹ کی بنیاد پر اقتدار تو حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن اس وقت مسلمانوں سے کنارہ کشی اختیار کر رکھی ہے، حد تو یہ ہے مسلمانوں کو ووٹ بینک کی شکل میں استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔ اکھلیش یادو کو اپنا سیاسی نظریہ بدلنا ہوگا سازش کے تحت آپ ریاست سے مسلمانوں کی مضبوط آواز کو بند کرنا چاہتے ہیں اور پوری ریاست میں کچھ مسلم چہروں کو ٹکٹ دے کر خوش کر رہے ہیں،
آپ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ مسلمانوں کے ووٹوں سے ہی آپ پہلے اقتدار میں آئے تھے اور آپ کے خاندان کے لوگ اس بات کو کہتے بھی ہیں کہ سماجوادی کو بلندی تک پہنچانے والے مسلمان ہیں، مگر افسوس ہوتا ہے سماجوادی کے اسٹیج سے آپ کی موجودگی میں مسلم لیڈر شپ غائب نظر آتی ہے اور آپ کے سامنے ان کو اسٹیج سے ہٹادیا جاتا ہے مگر آپ خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں ۔آپ کا یہ رویہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ آپ مسلمانوں کے ووٹوں پر اپنی سیاسی روٹیاں سیکنا چاہتے ہیں۔
اگر آپ اقتدار میں آتے ہیں اور مسلمانوں کے مسائل کو انظر انداز کرتے ہیں، اکھلیش یادو کے نظریہ سے مسلمان حیران ہیں۔ اس پر سنجیدگی سے غور وفکر کرنی کی ضرورت ہے کہیں سماجوادی پارٹی کو اس نظریہ کا سیاسی بڑا نقصان اٹھانا پڑا کیونکہ اس بار مسلمانوں کے سامنے مجلس اتحاد المسلمین بھی انتخابی میدان میں ہے۔