سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلانے یا کسی ذات برادری پر تبصرہ کرنے سے گریز کریں

تازہ خبر قومی
ہندوستان سب کا ہے اور ہمیشہ سب کا رہے گا
نفرت کا جواب نفرت  نہیں  – مولانا حکیم الدین قاسمی
جمعیت سدبھاونا منچ پروگرام کا انعقاد
دیوبند،31؍ جولائی
(رضوان سلمانی)
 جمعیت علمائے ہند کی باغپت یونٹ کے زیراہتمام ڈولہ گاؤں میں واقع مدرسہ اسلامیہ عربیہ قاسم العلوم کے صحن میں جمعیۃ سدبھاونا منچ پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام کی صدارت جمعیۃ علماء باغپت کے ضلع صدر مفتی عباس نے کی جب کہ نظامت کے فرائض جمعیت سدبھاؤنا منچ کے نیشنل کنوینر مولانا جاوید صدیقی نے انجام دییے۔ پروگرام میں سبھی مقررین نے ملک کے موجودہ حالات پر مشترکہ طور پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ آج کے حالات میں ہندوستان کی مشترکہ ثقافت کی حفاظت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کے قومی جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی جو اس پروگرام میں مہمان خصوصی تھے، انھوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے ملک بھر میں 1000  پروگرام کے ذریعہ ایک مثبت پیغام عام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی کے تحت آج باغپت میں سدبھاونا منچ پروگرام کا انعقاد کیا گیا ہے۔  انھوں کہا کہ سدبھاونا منچ کا مقصد ملک میں امن اور ہم آہنگی پیدا کرنا، ایک دوسرے کے درمیان فاصلے کو دور کرنا اور ملک میں نفرت کے بیج بونے والوں کو کنارہ کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو ملک کی ترقی کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نفرت کا جواب نفرت سے نہیں بلکہ محبت سے دیا جا سکتا ہے۔ ملک میں حالیہ واقعات میں نفرت کا جواب نفرت سے دینے کی کوشش کی گئی ہے جو کہ کافی مایوس کن ہے۔ اسلام اور انسانیت میں اس کی کوئی جگہ نہیں۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ ہندوستان کی روح اور تمام مذاہب کے گرو ایسے مشکل وقت میں یہاں جمع ہوئے ہیں۔ جو لوگ ملک کو توڑنا چاہتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
یہ ہندوستان سب کا ہے اور ہمیشہ سب کا رہے گا۔ اس ملک کے لیے سب نے قربانیاں دی ہیں، جس کی نشانی سو سال پرانی جمعیت علمائے ہند ہے۔ انہوں نے کہا کہ نفرت کرنے والے ملک سے دشمنی پیدا کر کے ملک کا امن اور اس کی گنگا جمنی تہذیب کو تباہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے جمعیۃ علماء ہند کی تمام ضلعی اکائیوں کو ہدایت دی کہ وہ تحصیل سطح پر ایک سدبھاونا منچ تشکیل دیں جس میں ہندو بھائیوں کو بھی شامل کیا جائے۔ اس پروگرام کے مہمان خصوصی پولیس سپرنٹنڈنٹ نیرج سنگھ جدون نے کہا کہ وقتاً فوقتاً ایسے پروگراموں کا ہونا ضروری ہے جس سے آپسی بھائی چارہ پیدا ہو اور سماج کو سچ آئینہ دکھایا جائے۔
 سوشل میڈیا پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلانے یا کسی ذات برادری کے بارے میں تبصرہ کرنے سے گریز کیا جائے۔ اور مذہب سے متعلق پوسٹ کر کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا کو خراب کرنے کی کوششوں سے گریز کیا جائے۔ اس موقع پر ڈاکٹر مانگے، نوجوت سنگھ، سشیل کھنہ، کے کے شرما، تیج پال سنگھ، بھوپیندر پردھان، رضوان منصوری، تمنا خان، مانو باباجی، بھگت جی، تیج پال، شیوانی، سردار علی پنوار، مولانا عقیل، قاری واجد، حافظ قاسم،  ثقلین، قاری شبیراور دیگراہم ذمہ داران موجود تھے۔