’’ سچ پولنے والے ‘‘’’ سوشیل میڈیا‘‘ پرکسی نہ کسی طرح قدغن لگانے کی کوشش
ئی دہلی:9؍جون
(زین نیوز)
یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں نہیں ہے کہ جمہوریت کا تاسو سمجھنے سمجھانے والا میڈیا ملک کا تقریباً 90 فیصد میڈیا (جس میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بھی شامل ہے) آج ملک کے عوام کو کو حقائق سے باخبر رکھنے میں اور حکومت کو کوتاہیوں اور ناکامیوں پر اس سے سوال کرنے ( میڈیا کی ذمہ داری نہیں بلکہ فرض ہے) حکومت کو عوام کو درپیش مسائل کی جانب توجہ دلانے کے بجائے آج برسراقتدار کا موتھ پیس بنا ہوا ہے۔
یہی وجہہ ہے کہ ملک کے باشعور عوام کے نزدیک ہندوستانی میڈیا کے ساتھ بری طرح متاثر ہوئی ہے اور قارئین کے لئے انہیں غیر ملکی میڈیا اور سوشل میڈیا کا سہارا لینا پڑتاہے جو اپنی بے لاگ اور غیر حاضری اپنی الگ پہچان بنا چکے ہیں اور اسے آزاد نیوز رپورٹ کی حمایت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے حکومت کو آئینہ دکھاتے ہیں حقائق کی پردہ پوشی نہیں کرتےیعنی جن کا تعلق’’ گودی میڈیا ‘‘’’بکاو میڈیا‘‘۔ درباری میڈیا ‘‘سے نہیں ہے اور ابرسرقدار حکمرانوں کو یہ گوارا نہیں کہ ملک کے عوام حقائق سے واقف ہوتے رہے ہے
حکومت کی غلطیوں کوتاہیوں کی انہیں خبر نہ ہواور یہی وجہہ ہےپیچھے دو تین سال سے ہی وہ کسی نہ کسی طرح اس کوشش میں لگی ہے کہ ’’ سوشیل میڈیا‘‘ پرقدغن لگادی جائے تاکہ ملک کے عوام حقائق سے بے خبر رہیں اور انھیں وہی معلومات ہو جو حکومت نے بتانا چاہتی ہوںاور یہی فرض ملک کا 09 فیصد گودی میڈیا بحسن خوبی نبھا رہا ہے! حکومت نے وقتاً فوقتاًً سوشل میڈیا پر کنٹرول کرنے کی کوششیں بھی کیں معاملہ عدالتوں تک بھی پہنچااورعدلیہ نے حکومت حکومت کی ان کوششوں کو یہ کہہ کرناکام بنادیا کہ ’’ دستورہند میں دی گئی اظہار رائے کی ازادی پر قدغن نہیں لگایا جاسکتا‘‘ اورقابل غور یہ بھی ہے کہ وہی سوشیل میڈیا پلیٹ فارم ہیں جن کی مدد سے وزیر اعظم نریندر بھائی دامودھر مودی کی قیادت میں ان کی پارٹی بی ج پی نے ملک کے اقتدار پر پہنچنے کا راستہ بنایا ۔

چاہیے2014ء میں مودی کی پہلی جیت ہو یا ہار 2019میںزیادہ اکثریت کے ساتھ اقتدار پر واپسی بی جے پی کے آئی سیل نے سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس کا اس قدر بڑ ھ چڑھ کر استعمال کیا کہ اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے چاہے و ہ پلوامہ میں حملہ یاپھر پاکستان کے بالاکوٹ میںسرجیکل اسٹرائک ہو ہر مرحلہ میںمودی حکومت کےاپنے گودی میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشیل میڈیا کے پلیٹ فارمس کا بھر پور استعمال کیا او ملک کے عوام کی اپنے حق میں رحجان سازی کرلی لیکن ا ب جبکہ وہی سوشیل میڈیا حکومت کی بول رکھولنے لگایکے بعد دیگر ے حکومت کی مخالف عوام پالیسیوں ‘ کسانوں کے تئیں اس کے بے رحمانہ رویہ اورکورونا وباٗسے نمنٹے میں حکومت کی کوتاہی لاپرواہی اورناکامی کا پردہ فاش ہونے لگا۔
جب گنگاندی میں تیرتی لاشوں نے اصلیت بیان کرنی شروع کردی تو اس پر شکنجہ کسنے کی ٹھان لی۔دنیا کے مقبول ترین سوشیل میڈیاپلیٹ فارمس فیس بک‘ واٹس ایپ ‘ ٹوئیٹر کونشانہ بنایا گیا اورکمپنیاں اب حکومت کے ساتھ راست ٹکراؤ پر اتر آئی ہیں۔ دراصل اس کیش روعات بی جے پی کے قومی ترجمان سمیت پاترا کی جانب سے کانگریس کی طرف سے عوام میں اشیائے ضروریہ کی تقسیم کے سلسلہ میں پارٹی کارکنوں کو دی گئی ہدایت پر مشتمل ایک مکتوب کو’’ ٹول کٹ قرار دے کر پوسٹ کیا گیالیکن محقق کے بعدیہ مکتوب فرضی نکلا اسی کوبنیاد بنا کرٹوئیٹر نے سمیت پاترا کے اس پوسٹ کو تحریف شدہ قرار دے دیا اتنا ہونا تھاکہ حکومت نے اسی بہانے پورے سوشیل میڈ یا پر یلغار کردی اور ان پر اپنی گرفت رکھنے ایک پالیسی بنائی اوران پلیٹ فارمس کو اس پر عمل آوری کو صر ف پندرہ دنکی مہلت دی ۔

حکومت کی اس عجلت سے اسکی بوکھلاہٹ کھل کرسامنے آچکی ہے حکومت کا کہنا ہے کہ کورونا کی ’’ہندوستانی قسم ‘‘سے متعلق سوشیل میڈیا پر جتنے بھی پوسٹ ہیں ان کو حذف کردیاجائے اس سے صا ف ظاہر ہوتا ہے کہ کورونا کی دوسری لہر ہزاروں ہلاکتوں کو روکنے میں اپنی ناکامی کے دنیا پر ظاہر ہوجانے سے حکومت کس قد ر تلملا گئ ہے حالانکہ حکومت نے کہاہے کہ وائرس کی کسی قسم کی نشاندہی کسی علاقے یا ملک کے ساتھ ملاکر کرنے کا ڈبلیو ایچ او نے جو موقف اپنایا ہے اسے ملحوظ رکھاجائے لیکن حکومت کایہ موقف اس وقت کیوں سامنے نہیں آیا جب گذشتہ سال کورونا وائرس کی لہر میں تیزی آنے پر تبلیغی جماعت سے بی جے پی کے ہی قائدین اورحکومت کے دن رات جھوٹ اورنفرت پھیلانے والے گودی میڈیا نے جوڑ دیا تھا؟
یہ بھی پڑھیں : وزیر اعلیٰ کے سی آر کادورہ ضلع جگتیال 🔸 گورنمنٹ وہپ کے ارکان خاندان کو پرسہ
یہ سوال پیدا ہونا لازمی ہےکہ کیا اس وقت حکومت کے لئے کورونا کو تبلیغی جماعت سے جوڑنا ناقابل قبول تھا کیا یہ ڈبلیو ایچ اوکے موقف کےمغائرنہیں تھا؟لیکن ا ب یہ قابل قبو ل نہیں ہےکہ کورونا کی نئ قسم کوہندوستان سے جوڑ جائےبہرحال اب یہ معاملہ عدالت تک پہونچ چکا ہے اورفیصلہ چاہے جوبھی آئے ایک بات صاف ہے کہ ٹوئٹر کے ساتھ ٹکراؤ تو محض بہانہ ہے اصل مقصد ’’ سچ پولنے والے ‘‘ سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس ‘‘ پر شکنجہ کسنا ہےاب دیکھنا ہے حکومت اس میں کہاں تک کامیاب ہوتی ہے
