Superim Court

سپریم کورٹ میں مسلم تحفظات سے متعلق مقدمہ کی سماعت کا 13؍ستمبر سے آغاز

تازہ خبر تلنگانہ
 حیدرآباد۔4؍ستمبر
(ای۔میل)
 تلنگانہ اور آندھراپردیش میں تعلیم اور روزگار میں مسلمانوں کو 4فیصد تحفظات سے متعلق سپریم کورٹ میں مقدمہ کی سماعت کا معاملہ چیف جسٹس آف انڈیا یویو للت کی زیر قیادت بنچ پر آیا ہے۔ سلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی جو آندھراپردیش ہائی کورٹ میں چیف جسٹس سدرشن ریڈی اور چیف جسٹس بلال نازکی کی بنچس اور جسٹس سبرامنیم کی زیر قیادت اے پی بیاک وارڈ کلاس کمیشن کے روبرو عرضی گزار تھی۔
 اب سپریم کورٹ آف انڈیا میں بھی عرضی گزار ہے۔ یہ بات جناب ظفر جاوید سکریٹری سلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی نے ایک صحافتی اعلامیہ میں بتائی۔ حکومت ہند کی جانب سے کے کے وینو گوپال اٹارنی جنرل آف انڈیا، مسٹر تشار مہتا سالیسیٹر جنرل آف انڈیا حکومت ہند کی جانب سے رجوع ہوئے ہیں۔ وکلاء نے عدالت عالیہ سے درخواست کی تھی کہ مقدمہ کی سماعت موثر اور آسان ہونے کے لئے اضافی وقت دیا جائے تاکہ تیاریاں کی جاسکیں۔
 مسٹر شاداں فراست، مسٹر محفوظ احسن نازکی، مسٹر کانو اگروال اور مسٹر نتیکیتا جوشی ایڈوکیٹس کو سپریم کورٹ نے نوڈل کونسل کے طور پر تقرر کیا ہے۔ تاکہ تمام متعلقہ دستاویزات اور متعلقہ اعداد و شمار کے ڈیجیٹلائزڈ ورژن کو تیار کیا جاسکے۔ کپل سبل، راجیو دھون اور ایس نرنجن ریڈی سلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی کی جانب سے مختلف بنچس کے روبرو رجوع ہوچکے ہیں۔
 معاملہ کی سماعت 6؍ستمبر کو مختلف ہدایت کے لئے مقرر ہے جبکہ سپریم کورٹ میں قطعی سماعت کا 13ستمبر سے آغاز ہوگا۔