سپریم کورٹ کا کرناٹک حجاب کیس پر فوری سماعت سے انکار

تازہ خبر قومی

معاملے کو سنسنی خیز بنانے کی کوشش نہ کریں۔سپریم کورٹ
نئی دہلی :24؍مارچ
(اے ایم این ایس)
) سپریم کورٹ نے جمعرات کو کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر فوری سماعت کرنے سے انکار کردیا۔ کرناٹک ہائی کورٹ کے اسکولوں کےمیں حجاب پہننے کی اجازت دینے سے انکار کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔چیف جسٹس این وی رمنا اور جسٹس کرشنا مراری پر مشتمل بنچ نے سینئر ایڈوکیٹ دیودت کامت کی درخواست کو مسترد کر دیا۔بنچ نے کہاامتحانات کا اس مسئلے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

ساتھ ہی سپریم کورٹ نے حجاب کی حمایت میں سامنے آنے والی طالبات کے وکیل سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو غیر ضروری معاملے کو اہمیت نہ دیں۔ دراصل حجاب کی حامی لڑکیوں کے وکیل دیو دت کمال اس معاملے میں فوری سماعت کے لیے سپریم کورٹ سے اپیل کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ امتحانات شروع ہونے والے ہیں، ایسے میں اگر فوری سماعت ہو جائے تو کسی کی پڑھائی میں رکاوٹ نہیں آئے گی۔

سپریم کورٹ نے وکیل دیودت کمال کی دلیل پر سپریم کورٹ نے کہا کہ آپ اس معاملے کو سنسنی خیز بنانے کی کوشش نہ کریں۔ عدالت نے کہا کہ امتحانات کا حجاب کے تنازعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ ان مسائل کو غیر ضروری وزن نہ دیا جائے۔ واضح رہے کہ کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف حجاب کی حامی طالبات نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

کچھ دن پہلے کرناٹک ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ حجاب مذہب کا حصہ نہیں ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ کرناٹک ہائی کورٹ میں اُڈپی کی لڑکیوں نے اسکولوں میں حجاب پہننے کی اجازت دینے کی درخواست دائر کی تھی۔ جس پر ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا تھا۔

جنوری کے مہینے میں کرناٹک کے اڈوپی میں ایک سرکاری کالج کے کیمپس میں حجاب کا تنازع شروع ہوا تھا۔ دراصل حجاب پہننے والی طالبات کالج کیمپس میں داخل ہونا چاہتی تھیں۔ لیکن اسے داخلے سے روک دیا گیا۔ تب سے ریاست کے اسکولوں اور کالجوں میں حجاب کا تنازعہ زور پکڑنے لگا۔ تاہم ہائی کورٹ کے فیصلے سے ناخوش لڑکیاں سپریم کورٹ پہنچ گئی ہیں۔ لیکن، ابھی سپریم کورٹ نے ان کے کیس کی فوری سماعت سے انکار کر دیا ہے۔