لوگو ں نے جان بچانے کھڑکیوں سے چھلانگ لگائی۔
مرکزی اور یاستی حکومت کی جانب سے ایکش گریشا کا اعلان
حیدرآباد: 13؍ستمبر
(زین نیوز)
سکندرآباد کے روبی لاج میں مہیب آتشزدگی کے ایک بڑے حادثہ میں آٹھ افراد کی موت ہو گئی، جبکہ12زخمی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ آگ الیکٹرک بائیک کو چارج کرنے کے دوران یہ آگ لگی جس کی وجہ سے روبی الکٹرانک بائیک کا شوروم جل کر خاکستر ہوگیا۔ اس واقعہ میں اب تک 8 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔۔ فی الحال فائر بریگیڈ عملہ نے آگ پر قابو پالیا ہے۔۔
حیدرآباد نارتھ زون کی ڈی سی پی چندنا دیپتی نے بتایا کہ وٹل کے گراؤنڈ فلور پر ایک الیکٹرانک اسکوٹر ریچارج یونٹ تھا الیکٹرک بائیک کو چارج کرتے وقت آگ لگی۔ اس عمارت میں شوروم کے بالکل اوپر ایک ہوٹل چل رہا ہے جہاں دھوئیں کی وجہ سے کچھ لوگ پھنس گئے۔ اس واقعہ میں اب تک 8 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہوٹل کے کچھ عملہ نے کھڑکی سے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی ہے۔ فی الحال زخمیوں کو بہتر علاج کے لیے قریبی ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے
سکندرآباد آتشزدگی کے متاثرین کا گاندھی اور اپولو ہاسپٹل اور کچھ دوسرے پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کیا جارہا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ12افراد زیر علاج ہیں۔ زخمیوں کی تفصیلات کچھ یوں ہیں۔ کے وی سنتوش (پیندورتھی، ویزاگ)، جینت (بنگلور)، دیباشیش گپتا (کلکتہ)، یوگیتا (پیندورتھی، ویزاگ)، کیشوان (چنئی)، دیپک یادو (ہریانہ)، امیش کمار اچاریہ۔ (اڈیشہ)، منموہن کننا (رام نگر، حیدرآباد) اور راجیش جگدیش (چابرا، گجرات)۔ زخمیوں میں بنگلور کا جینت نام کا ایک شخص سکندرآباد کے اپولو آئی سی یو میں زیر علاج ہے کیونکہ اس کی حالت نازک بن گئی ہے۔ ویزاگ سے یوگیتا ماداپور TCS میں کام کر رہی ہیں12 زخمیوں میں سے دو کا تعلق آندھرا پردیش اور ایک کا حیدرآباد سے ہے۔
وزیر داخلہ محمود علی نے کہا کہ ریاستی حکومت آتشزدگی کے واقعہ میں مرنے والوں کے لواحقین کو تین لاکھ روپے کی ایکس گریشیا فراہم کر ے گی۔تلنگانہ کے وزیر داخلہ محمد محمود علی نے اس واقعہ کو افسوسناک قرار دیا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے لاج سے لوگوں کو باہر نکالنے کی پوری کوشش کی لیکن شدید دھوئیں کے باعث کچھ لوگ دم توڑ گئے۔ کچھ لوگوں کو لاج سے بچایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس واقعہ کی تحقیقات کرے گی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ کیسے ہوا۔ واقعہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ روبی بلڈنگ کا سیلر غیر قانونی طور پر استعمال کیا گیا اور حادثے کے فوراً بعد آگ تیزی سے پھیل گئی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ دھوئیں کے باعث آٹھ افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ زخمیوں کو بہتر علاج فراہم کریں گے۔‘‘ بائک شو روم کے منیجرز کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ حادثے کی اصل وجہ کی تحقیقات جاری رہے گی۔
اس واقعہ پر صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے مرنے والوں کے لواحقین کو دو دو لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا۔