سیرت وسوانح اور تذکرہ نگاری میں اللہ تعالیٰ نے مرحوم کو خاص ملکہ عطا فرمایا تھا: قاری ضیاء الرحمن

تازہ خبر قومی
جامعہ رحمانیہ عربیہ ہاپوڑ میں مولانا محمود حسن حسنی ؒ کے سانحۂ ارتحال پر تعزیتی جلسہ کا انعقاد 
دیوبند 21؍ اگست
(رضوان سلمانی)
جامعہ رحمانیہ عربیہ ہاپوڑ میں مولانا محمود حسن حسنی ندوی ؒ استاذ حدیث وتفسیر دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے سانحۂ ارتحال پر ایک تعزیتی جلسہ کا انعقاد کیا گیا جس میں مرحوم کے لئے دعائے مغفرت اور ان کے اہل خانہ اور پسماندگان کو تعزیت مسنونہ پیش کی گئی۔ اس موقع پر جامعہ رحمانیہ عربیہ کے ناظم مولاناحکیم خلیق الرحمن ندوی نے کہاکہ مرحوم کا اس دنیا سے رخصت ہوجانا ہم سب کے لئے بڑا خسارہ ہے۔
 انہوں نے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا سید محمود حسن حسنی ندویؒ ایک صاحب قلم، صاحب ادب اور صاحب فضل وکمال شخصیت کے حامل تھے ، وہ ایک زبردست خادم علم دین کی حیثیت سے عالم اسلام میں جانے جاتے تھے ۔ خانوادۂ حسنی کے روشن چراغ مولانا سید محمد ثانی حسنی ندوی ؒ کے نواسے اور عالم اسلام کی عبقری شخصیت مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی  ؒ کی نگاہِ شفقت وتربیت سے آراستہ مولانا سید رابع حسنی کے جگر پارہ معروف سوانح نگار، اخلاق وکردار کے پیکر عابد وزاہد متقی اور مخلص عالم دین تھے۔
 آپ مرحوم نے سوانح اور اصلاح وتربیت پر کئی کتابیں تصنیف کی ہیں، انہیں میں ملت اسلامیہ کی تاریخ پر آپ کی کتاب ’’تاریخ اصلاح وتربیت‘‘ تاریخ اسلام کی انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے۔ مرحوم نے اس کے علاوہ بہت بیش بہا قیمتی سرمایہ چھوڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرماکے اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عنایت فرمائے۔
جامعہ کے مہتمم مولانا قاری ضیاء الرحمن قاسمی نے اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا محمود حسنی ندویؒ کا اس دنیا سے رخصت ہوجانا یہ صرف مرحوم کے اہل خانہ ہی کے لئے نہیں بلکہ ہم سب کے لئے بڑے صدمہ کی بات ہے۔ انہوں نے کہاکہ مولانا مرحوم کا ہمارے ادارے سے گہرا تعلق تھا ۔ آپ اہم تقریبات کے موقع پر جامعہ تشریف لاتے اور قیمتی مشوروں سے نوازتے۔
آپ بہت سی خوبیوں کے مالک تھے ، دین کی خدمت کڑھن ، علماء کی تربیت ، مدارس کی محبت علم و حلم ، حکمت ودانائی سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے انہیں نوازا تھا۔ سیرت وسوانح اور تذکرہ نگاری میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاص ملکہ عطا فرمایا تھا ۔
 انہوں نے کہا کہ مرحوم نے بزرگان دین کی سوانح پر کئی کتابیں تصنیف کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی طرف سے اور خدام جامعہ ، اساتذہ اور طلبہ کی طرف سے مرحوم کے اہل خانہ کو تعزیت مسنونہ پیش کرتا ہوں۔ جامعہ کے ناظم مالیات مولانا عبدالرزاق قاسمی نے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا مرحوم عالم باعمل، متواضع، مخلص اور مشفقانہ برتائو اور محبت کرنے والی شخصیت کے حامل تھے اور ان سے میرا مشفقانہ تعلق تھا۔
 مرحوم جب جامعہ تشریف لاتے بڑی حوصلہ افزائی فرماتے، رہنمائی کرتے اور دینی کام کے لئے ہمت دلاتے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے ۔ادارہ کے ناظم تعلیمات مولانا یعقوب قاسمی نے بھی مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے محاسن بیان کئے۔
 ان کے علاوہ جامعہ کے استاذ مفتی عبدالمالک قاسمی ،مولوی محمد مرتضیٰ ندوی اور دیگر اساتذہ نے بھی ان کی زندگی پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر مولانا محمد عمران قاسمی، مفتی طاہر قاسمی، حکیم سعید الرحمن، ڈاکٹر عقیل الرحمن رحمانی، ڈاکٹر عتیق الرحمن رحمانی، حافظ انوار ، حکیم ظل الرحمن رحمانی سمیت شہر کے سرکردہ افراد موجود رہے۔ نظامت مولانا یعقوب قاسمی نے انجام دی۔