شان اقدس توہین آمیز تبصرہ۔شرپسند بی جے پی ایم ایل اے راجہ سنگھ گرفتار

تازہ خبر تلنگانہ
مسلمانوں کا شدید احتجاج۔ تعزیرات ہند کی دفعہ 153A، 295 اور 505 کے تحت مقدمہ درج
حیدرآباد: 23؍اگست
(زین نیوز)
 بی جے پی کے متنازعہ و شر پسند رکن اسمبلی حلقہ گوشہ محل ٹی راجہ سنگھ کوسٹی پولیس  حیدرآبادنے آج صبح حراست میں لے لیا۔  شان اقدسﷺ میں گستاخانہ ویڈیو کے وائرل ہونے بعد پیر کی رات شہر میں احتجاج شروع ہوگیا جب ا س نے پیغمبر اسلام کے خلاف بالواسطہ توہین آمیز تبصرہ کیا  ۔
اس پراگندے رکن اسمبلی کے خلاف دبیر پورہ پولیس اسٹیشن میں تحریری شکایت کی گئی تھی۔جس پر دبیر پورہ پولیس نے  تعزیراتی ہند کی دفعات 153، 153 اے، 188، 121، 295 اے، 298، 505 (1) (بی) (سی)، 505 (2) اور 506 کے تحت مقدمہ درج رجسٹر کرلیا۔

احتجاج اس وقت شروع ہوا جب  راجہ سنگھ یہ ویڈیو سری رام چیانل 2D پر نشر کیا گیا ہے اور اسکے حامیوں کی جانب سے  اپنے فیس بک پیج پر پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز تبصرہ  کرتے ہوئے ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنانے والی ایک ویڈیو اپ لوڈ کی۔ اس نے اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی کا بھی مذاق اڑایا، جنہوں نے ہفتہ کی شام کو سخت سیکوریٹی کے درمیان حیدر آباد کے مضافات میں کامیاب شو منعقد کیاتھا۔
ویڈیو کے منظر عام پرآنے کے فوراً بعد شہر کے مختلف پو لیس اسٹیشنوں پر سینکڑوں مسلمان جمع ہو گئے اور احتجاج شروع کر دیا۔ مسلمانان کی بڑی تعدادکمشنر آفس بشیر باغ کے پاس جمع ہوئی اور احتجاج شروع کیا۔ بھوانی نگر، دبیر پورہ، نامپلی  کے بشمول چند ایک پولیس اسٹیشن حدود میں بھی اسی طرح کے احتجاجی مظاہروں کی اطلاع ہے۔ متنازعہ ایم ایل اے کو پولیس نے آج صبح گرفتار کرکے  کنچن باغ پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا۔
اس واقعہ کے عام ہوتے ہی شہر بھر میں پولیس کو چوکس کردیا گیا اور حساس وانتہائی حساس علاقوں میں مسلح دستوں کوتعینات کردیا گیاجبکہ پولیس کی گشت میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ سینئر عہدیدار    اپنے دفاتر سے  سیکورٹی انتظامات کی نگرانی کررہے ہیں  تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے بروقت نپٹا جائے اور فرقہ وارانہ حالات پیدا نہ ہونے دیا جائے۔
مجلس اتحاد المسلمین سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی حلقہ ملک پیٹ  ا حمد بن عبداللہ بلالہ نے دبیر پورہ پولیس اسٹیشن پہنچ کر شکایت کی جس کے بعدپولیس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 153A، 295 اور 505 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ڈپٹی کمشنر  پولیس ساؤتھ زون (جنوبی منطقہ) پی سائی چیتنیا نے کہا کہ شہر کے مختلف پولیس اسٹیشنوں کے حدودمیں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔انہوں نے کہاکہ "کسی بھی ایسے شخص کے خلاف کارروائی شروع کی جائے گی جس نے پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کئے ہیں۔ ہم عوام سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ پولیس پر اعتمادکریں اور قانون کوہاتھ میں لینے سے گریز کریں۔
راجہ سنگھ نے پہلے ریاستی حکومت سے اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی کے شو کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور یہ الزام لگایا تھا کہ اس نے اپنے پچھلے شوز کے دوران بھگوان رام اور سیتا کے خلاف منفی تبصرے کئے تھے۔  اس نے شو کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کا انتباہ دیا تھا تاہم، انہیں حیدرآد پولیس نے جمعہ اور ہفتہ کو احتیاطی اقدام کے طور پر گھر میں نظر بند کر دیا تھا۔
دریں اثناء کل رات کے واقعہ کے بعد شہر میں سیکوریٹی بڑھا دی گئی ہے۔ شہر کے تمام فرقہ وارانہ حساس مقامات پر پولیس پکٹس تعینات ہیں۔ پولیس کے اعلیٰ حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
 کمشنر سٹی پولیس حیدرآباددفتر  واقع بشیر باغ پر دھرنا دینے والوں کو منتشر کردیا گیا۔ پولیس نے  چند ایک  کو حراست میں لے کر مختلف پولیس اسٹیشنس کو منتقل کر دیا۔