نئی دہلی : 18؍اگسٹ
(اے این ایم ایس)
کیرالہ کے ترواننت پورم سے نمائندگی کرنے والے کانگریس رکن پارلیمنٹ ششی تھرور کو سنندا پشکر موت مقدمہ میں دہلی کی عدالت سے راحت ملی ہے۔ دہلی کی راؤس ایونیو کورٹ نے ششی تھرور کو تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔
خصوصی جج گیتانجلی گوئل نے مسٹر تھرور کو ان الزامات سے بری کرتے ہوئے بانڈ بھرنے کی بھی ہدایت دی۔عدالت سے راحت ملنے کے بعد تھرور نے عدالت کا شکریہ ادا کیا۔
تھرور نے مزید کہا کہ انہوں نے صبر کے ساتھ کئی ’’ بے بنیاد الزامات ‘‘ اور ’’ میڈیا کی بدنامی ‘‘ کا سامنا کیا اور عدلیہ پر ’’ اپنا ایمان قائم رکھا ‘‘۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے یہ سماعت 27 جولائی کو بھی ہوئی تھی ، لیکن ششی تھرور کی جانب سے اس کیس میں کچھ مزید کاغذات پیش کرنے کی اجازت طلب کرنے کی تازہ درخواست کی وجہ سے اسے 18 اگست تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔ جس کے بعد آج دوبارہ سماعت ہوئی
ششی تھرور پر سنگین الزامات تھے۔
سنندا پشکر کی موت 17 جنوری 2014 کو دہلی کے ایک بڑے ہوٹل میں ہوئی تھی جہاں و ہ مردہ پائی گئیں تھیں۔ وہ اور تھرور ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے ، کیونکہ اس وقت ان کے بنگلے کی تزئین و آرائش کی جا رہی تھی۔

اپنی موت سے کچھ دن پہلےاس نے الزام لگایا کہ اس کے شوہر تھرور کے ایک پاکستانی صحافی کے ساتھ تعلقات تھے۔
تھرور کے خلاف دہلی پولیس نے تعزیرات ہند کی دفعات 498A اور 306 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا ، لیکن اس کیس میں گرفتار نہیں کیا گیا۔ انہیں 5 جولائی 2018 کو ضمانت ملی۔
دہلی پولیس نے سال 2019 میں مسٹر تھرور پر محترمہ پشکر کو خودکشی پر اکسانے کے لیے قتل کے الزام میں مقدمہ چلانے کی اجازت مانگی تھی۔
سنندا پشکر کی موت کا معاملہ اس وقت ایک انتہائی ہائی پروفائل کیس سمجھا جاتا تھا۔ 29 ستمبر 2014 کو ایمس کے میڈیکل بورڈ نے سنندا کی لاش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ دہلی پولیس کے حوالے کی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ سنندا کی موت زہر سے ہوئی۔ بورڈ نے کہا تھا کہ بہت سے ایسے کیمیکل ہیں جو پیٹ میں داخل ہونے یا خون میں داخل ہونے کے بعد زہر بن جاتے ہیں۔