حکومت تلنگانہ مسلمانوں کے صبر کا امتحان نہ لے !
سٹی جمعیت العلماء ضلع جگتیال کے ذمہ داران کا بیان
جگتیال : 4؍اگسٹ
(پریس نوٹ)
مسجد خواجہ محمود کی شہادت کے افسوسناک واقعہ پر سٹی جمعیت العلماء ضلع جگتیال کے صدر حافظ خواجہ عقیل جنرل سکریٹری حافظ سید شمس الدین تبریز۔حافظ سید ابرار شریف، مفتی محمد یونس خان، حافظ زبیر خان،حافظ محمد فاروق و دیگر کی جانب سے جاری کردہ پریس نوٹ میں کہا کہ شمس آباد کی گرین ریونیو کالونی میں واقع مسجدمسجد کو حکام کی جانب سے شہید کئے جانے کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور اس مسجد کی سرکاری خرچ پر دوبارہ تعمیر اور خاطی عہد یداروں کے خلاف سخت کاروائی کا حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں ۔
ذمہ داران نے کہاکہ ماضی میں بھی حیدرآباد اور اطراف حیدرآباد میں اس طرح کے واقعات پیش آچکے ہیں اور حکومت تلنگانہ نے اب تک نہ تو کوئی نوٹس لیا ہے اور نہ ہی اُن آفسرس کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
اور اب شمس آباد کی ایک گرین ایونیو کالونی میں بھاری پولیس اور بلدیہ حکام کی زیر نگرانی رات دو بجے کے آس پاس بجلی بند کرکے مسجد خواجہ محمود کو شہید کردیا گیا حکومت تلنگانہ ایک طرف تو سیکولر ہونے کا دعوی ٰکرتے تھکتی نہیں اور دوسری طرف رات کے اندھیروں میں اس طرح کے واقعات کو جنم دیکر مسلمانوں کے ساتھ تنگ نظری کامظاہرہ اور ناانصافی ‘ سیکولرازم کا گلا گھونٹ رہی ہے
سٹی جمعیت العلماء جگتیال اس کارروائی کی سخت مذمت کرتی ہے اور حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ اگر وہ صحیح معنی میں سیکولر ہے اور صوبہ میں امن چاہتی ہے تو فوری اسی جگہ مسجد کی تعمیر کرے اور پورے مسلمانوں سے معافی مانگے اور اس کارروائی میں ملوث افسران کو سزا دے۔اور آئندہ اسطرح کے واقعات کا اعادہ نہ ہو اس کی مسلمانوں کو مکمل یقین دہانی کروائی جائے۔