ضرورت پڑنے پر کنکیاں کھائیں گے

تازہ خبر تلنگانہ

مگر بی جے کو اقتدار سے بے دخل کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے
سب کھ برداشت لیکن تلنگانہ کی توہین ناقابل برداشت۔ہریش راؤ
حیدرآباد: یکم اپریل
(ایجنسیز)
ریاستی وزیر فینانس مسٹر ٹی ہریش راؤ قدم قدم پر تلنگانہ کے کسانوں اور عوام کی توہین کرنے پر مرکزی حکومت کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ مرکزی وزیر پیوش گوئل کے اس بیان پر کنکیاں کھانے کے ریمارک کو تکبر سے تعبیر کیا ۔ انہوں نے پلٹ وار کرتے ہوئے یاد لایا کہ ہم فرزندان تلنگانہ ہیں جو سب کچھ برداشت کرتے ہیں مگر اپنی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرتے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ہم نے کھانے کی فکر کئے بغیر علحدہ ریاست تلنگانہ حاصل کیا۔کنکیا ں کھائیں گے مگر بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کئے بغیر چین کا سانس نہیں لیں گے۔ کیو ں کہ تلنگانہ کچھ بھی برداشت کرسکتا ہے لیکن ذلت برداشت نہیں کرسکتا۔ مسٹر ہریش راؤ نے کہا کہ پیوش گوئل متحدہ ریاست کے قائدین کی ھرح بول رہیں ایک دور میں متحدہ ذہن کے قائدین نے ہماری توہین کی تھی آج پیوش گوئل کی توہین کر رہے ہیں۔

مسٹرہریش راؤ نے تلنگانہ بھون میں کسان رابطہ کمیٹی کے ریاستی صدر پلا راجیشور ریڈی کے ساتھ میڈیا سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گوئل نے ایک بار پھر پارلیمنٹ میں تلنگانہ کے کسانوں کی توہین کی۔ انہوں نے بتا یا کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھرراؤنے پہلے ہی کئی بار واضح کر چکے ہیں کہ وہ تلنگانہ کے کسانوں اور عوام کی توہین کو برداشت نہیں کرسکتے۔ایسا معلوم ہوتا ہے تکبر پیوش گوئل کی فطرت بن گئی ہے۔ریاستی حکومت تلنگانہ کے کسانوں کو 24 گھنٹے معیاری برقی فراہم کر رہی ہے۔

ہم کسان بانڈ دے رہے ہیں۔ کالیشورم پروجیکٹ کو مکمل کر لیا گیا اور کاشت کیلئے وافر مقدار میں پانی فرا ہم کیا جارہاہے۔ کے سی آر تلنگانہ کے کسانوں کے لئے بہت سی اچھی چیزیں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی خودکشی میں کمی آئی ہے اور وہ خوش ہیں۔ تلنگانہ کو پنجاب سے جوڑنا درست نہیں ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ پنجاب اور تلنگانہ کے چاول میں کوئی فرق ہے؟ ریاستی وزیر نے گوئل سے تلنگانہ کے کسانوں اور عوام سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا۔مسٹرہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ ملک کو درکار 60 فیصد بیج فراہم کرتا ہے۔

مگرمسٹر پیوش گوئل ایک تاجر کی طرح بول رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکز کو تلنگانہ کے کسانوں کے مفادات کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیںدھمکی نہیں دے رہے ہیں بلکہ وہ ہمیں ای ٹی اور آئی ٹی کے دھاؤں کی دھمکی دے رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا کسانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا اور ان سے اناج خریدنے کی مانگ کرنا کوئی جرم ہے؟ہم صرف مطالبہ کررہے ہیںورنہ دھمکیاں دینا بی جے پی کی تہذیب کا حصہ ہے۔

انہوں نے ییہ جاننا چاہا کہ کیا کسانوں اور ریاستی حکومتوں کے پاس WTO معاہدوں کو تبدیل کرنے کا اختیار ہے؟ جیسا کہ وہ خود مرکز کو ان معاہدوں کو تبدیل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ان معاہدوں کو تبدیل کرنے اور ریاستوں کے کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کی ضرورت ہے تا کہ کسانوں کی آمدنی دوگنی ہو جائے گی۔مگر حیرت کی بات ہے کہ آمدنی دوگنی کرنے کے بجائے کسانوں کی سرمایہ کاری دوگنی کر دی گئی۔ کھاد کی قیمتیں دبڑھادی گئی ہیں۔ کسانوں کو یہ کہہ کر قرضوں کے جال میں ڈال دیا گیا کہ وہ زراعت کو منافع بخش بنائیں گے۔ بی جے پی نے کسانوں کے لئے سوائے کاروں سے کچلنے کے کچھ نہیں کیا۔