ضیاء الرحمن کے قتل میں لڑکی کے والد سمیت چار افراد کے خلاف مقدمہ درج 

تازہ خبر جرائم حادثات قومی
گائوں میں ابھی بھی پولیس تعینات 
دیوبند:۔ نومبر 
(رضوان سلمانی) 
رام پور منہیاران تھانہ علاقہ کے گائوں اسلام نگر میں گزشتہ دو روزقبل ایک مسلم نوجوان کا پیٹ پیٹ کر قتل کردیئے جانے اور لڑکی کے ذریعہ خودکشی کرنے کے معاملے میں پولیس نے لڑکی کے والد سمیت چار افراد کے خلاف غیرارادتاً قتل کا مقدمہ قائم کیا ہے۔
یہ معاملہ الگ الگ فرقہ سے جڑا ہونے کی وجہ سے کشیدگی کو دیکھتے ہوئے گائوںمیں ابھی بھی پی اے سی اور پولیس تعینات ہے۔
رام پور منہیاران تھانہ پر گائوں اسلام نگر کے رہنے والے مقتول نوجوان ضیاء الرحمن کے والد ایوب نے لڑکی تنو کے والد جنیشور ، چچا، منیشور، پریانشو، شیوم وغیرہ کے خلاف غیرارادتاً قتل کا مقدمہ قائم کرایا ہے ۔
 ایوب نے الزام عائد کیا کہ اس کے لڑکے ضیاء الرحمن کو ملزمان نے فون کرکے گھر بلایا تھا اورپھر لاٹھی ڈنڈوں سے بری طرح سے مارپیٹ کی جس کی وجہ سے اس کے لڑکے کی موت واقع ہوگئی ۔
اس سلسلہ میں ایس پی سٹی ابھیمنیو مانگلک نے بتایا کہ نوجوان فریق کی جانب سے لڑکی فریق کے چار افراد کے خلاف غیرارادتاً قتل کا مقدمہ قائم کرایا گیا ہے۔
لڑکی فریق کی جانب سے ابھی تک تحریر موصول نہیں ہوئی ہے، پولیس تفتیش کررہی ہے۔ اُدھر گزشتہ دیر شام پوسٹ مارٹم کے بعد جب ضیاء الرحمن اور تنو کی لاشیں گائوں میں پہنچیں تو اہل خانہ میں کہرام مچ گیا،
پولیس اور پی اے سی کی موجودگی میں تنو کی لاش کی آخری رسومات ادا کی گئی اور ضیاء الرحمن کی لاش کو سپرد خاک کیا گیا۔
 واضح ہو کہ گائوں اسلام نگر کے رہنے والے ضیاء الرحمن گزشتہ منگل کی رات 11بجے گائوں میں ہی رہنے والے تنو کے گھر میں گیا تھا جہاں لڑکی کے اہل خانہ نے اسے پکڑ کر پٹائی کردی تھی جسے پولیس نے ضلع ہسپتال میں داخل کرایا تھا ،
حالات تشویشناک ہونے پر اہل خانہ ضیاء الرحمن کو دہرہ دون کے جولی گرانٹ اسپتال میں لے کر جارہے تھے لیکن ضیاء الرحمن نے راستہ میںہی دم توڑ دیا تھا۔
 بدھ کے روز پولیس گائوں میں اس معاملہ کی تفتیش کررہی تھی ، اسی وقت تنو نے بھی دوپہر 12بجے گھر میں پھانسی لگاکر خودکشی کرلی تھی۔ یہ معاملہ الگ الگ فرقہ کے ہونے کی وجہ سے ابھی بھی گائوں میں پولیس فورس تعینات ہے۔