طالبان کیا وہ دہشت گرد ہیں یا نہیں؟۔ مودی حکومت سے اسد الدین اویسی کا سوال

تازہ خبر تلنگانہ

پاس آتے بھی نہیں ۔ چلمن سے ہٹتے بھی نہیں
پردہ سے جھانک جھانک کر کیوں محبت کررہے ہیں؟
نئی دہلی:2؍ستمبر
(زین نیوز؍ایجنسیز)
آل آندیا مجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ  ورکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے جمعرات کو کہا کہ طالبان کے حوالے سے مودی حکومت کا کیا موقف ہے؟ کیا وہ دہشت گرد ہیں یا نہیں؟ اگر بھارت طالبان کو دہشت گرد سمجھتا ہے تو کیا وہ انہیں یو اے پی اے کی فہرست میں شامل کرے گا؟ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کو طالبان کے معاملے میں اپنا موقف واضح کرنا ہوگا۔

قطر کی دارالحکومت دوحہ میں طالبان رہنما سے بھارتی سفیر کی ملاقات پر مرکزی حکومت سے سوالات اٹھائے ہیں ۔اور کہا کہ طالبان کے حوالے سے مودی حکومت کا کیا موقف ہے؟ کیا وہ دہشت گرد ہیں یا نہیں؟
انھوں نے مرکز پر طنز کرتے ہوئے کہاکہ مودی حکومت کیوں شرما رہی ہے
پاس آتے بھی نہیں ۔ چلمن سے ہٹتےبھی نہیں
ہہ پردہ سے جھانک جھانک کر کیوں محبت کررہے ہیں
کھول کر بولیئ نا
انھوں نے کہا کہ یہ ملک اور قومی سلامتی کا سوال ہے مرکزی حکومت کو طالبان کے ساتھ مذاکرات پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔

جب اویسی سے پوچھا گیا کہ پاکستان فرض کر رہا ہے کہ اس کا طالبان کے ساتھ برسوں سے تعلق ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ … اور ہم انہیں اپنی سر زمین پر مدعو کرتے ہیں ، ہم انہیں چائے پیش کرتے ہیں ، ہم انہیں بسکٹ کھلاتے ہیں ، ہم انہیں کباب کھلاتے ہیں؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب پاکستان یہ قبول کر رہا ہے تو کیا آپ طالبان کے لوگوں کو مدعو کریں گے اور انہیں کباب کھلائیں گے؟ اویسی نے کہا کہ یہ بالکل سچ ہے کہ پاکستان اور طالبان کے درمیان تعلقات کبھی ختم نہیں ہوں گے

بھارتی سفیر دیپک متل نے منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان رہنما شیر محمد عباس ستانکزئی سے ملاقات کی۔ دونوں فریقوں کے درمیان پہلا اعلیٰ سطح کا رابطہ اس دن ہوا جب امریکہ نے افغانستان سے اپنی فوج کا انخلا مکمل کیا۔

واضح رہے کہ اسد الدین اویسی یوگی حکومت کو شکست دینے کے لیے یو پی کا دورہ کریں گے۔
اویسی نے یہ بھی کہا کہ آئندہ یوپی انتخابات میں وہ ریاست میں حکمراں یوگی حکومت کو شکست دینے کے لیے وہاں جائیں گے۔ وہ 7 ستمبر کو فیض آباد ، 8 ستمبر کو سلطان پور اور 9 ستمبر کو بارابنکی جائیں گے۔