عبودیت اور بندگی کا تقاضہ ہے کہ انسان اپنے رب سے نسبت قائم رکھے

تازہ خبر قومی
جامعہ علوم القرآن میں تحفیظ القرآن کا سنگ بنیاد کے موقع پر مولانا سید بلال کا اظہار خیال 
دیوبند:۔ 8؍ نومبر
(رضوان سلمانی)
جامعہ علوم القرآن موضع ست پورہ میں تحفیظ القرآن کا سنگ بنیاد وکتاب راہِ طریقت کا رسم اجرا بھی علما ء کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ پروگرام میں علماء اکابر سیاسی وسماجی افراد نے کافی تعداد میں شرکت کی ۔جامعہ علوم القرآن موضع ست پورہ میں تحفیظ القرآن کے سنگ بنیاد کے موقع پر ایک پروگرام منعقد ہوا جس کی صدارت مولانا سید بلال باغپتی نے کی اس کے علاوہ علاقہ کے عوام اور مدارس کے ذمہ داران نے شرکت کی۔
 خانقاہ رائے پور سے شاہ عتیق احمد اور بوڑیہ چھٹمل پو ر جامعہ مظاہر علوم سہارنپور ستارہ و مہاراشٹر سے جمعیۃ کے صدر مفتی عبد الحمید جیسے اہل علم حضرات نے شرکت کی۔ مولانا سید بلال نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ عبودیت اور بندگی کا تقاضہ ہے کہ انسان اپنے رب سے نسبت قائم رکھے اور رب کی مرضیات کے مطابق مراقبہ مجاہدہ اور اذکارو اشغال میں وقت لگاکر اللہ تعالیٰ سے قربت پیدا کرے۔
 اس کام میں وقت اور اخلاص کے ساتھ محنت کرنے کا مقصد اللہ تعالیٰ سے نسبت اور گہرا تعلق ہے ۔مولانا محمد ہاشم قاسمی مہتمم جامعہ کاشف العلوم چھٹمل پور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علماء کی زندگی نوجوان نسل کے لئے نمونہ ہے، مولانا محمد احمد استاذ جامعہ مظاہر علوم سہارنپور نے کہا کہ ان بزرگوں کی زندگی سے ہمیں سبق حاصل کرنا چاہئے،
مدرسہ فیض ہدایت رحیمی رائے پور کے شیخ الحدیث مولانا محمد طاہر نے کہا کہ یہ کتا ب راہِ طریقت جس میں ہمارے محسن مولانا ہاشم کے مجلسی افادات ہیں۔ اکابرین کی تصنیفات کے بعد بڑی اہم اور جامع کتا ب ہے اس پر مولانا سلیم احمد مظاہری کو مبارک باد پپش کرتا ہوں، مفتی عبد الحمید صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر نے کہا کہ ہمیں بزرگوں کی محفلوں کو اختیار کرنا چاہئے ہم نے ستارہ مہارشٹر سے سفر کیا۔
 یہاں جامعہ علوم القرآن میں سو سے زائد علماء کی زیارت کی اور انکی نورانی وعرفانی مجلس میں شرکت کی جس سے ہمیں قلبی سکون ملا۔مولانا محمد حبیب اللہ قاسمی نے کہا کہ آج معاشرہ مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہے، نئی نئی رسمیں اور نت خرافات میں امت پھنسی ہوئی ہے، اللہ تعالی پوری امت مسلمہ کی حفاظت کرے۔ مولانا الطاف مظاہری نے کہا کہ ہمارا کردار اسلامی تعلیمات کے منافی ہے اس لئے ہم زندگی میں پریشان اور مصیبتوں میں گرفتار ہیں۔ مولانا محمد شاہد مظاہری نے کہا کہ اصلاح معاشرہ کے لئے اٹھائے جانے والے ہر قدم میں ہمیں وہ کامیابی نہیں ملتی جو ملنی چاہئے۔ مولانا محمد اطہر نے کہا کہ انسان کو چاہئے کہ نفسانی خواہشات کی تقلید نہ کریں اور سنت وشریعت پر عمل کرے۔
مولانا محمد اشفاق نے کہا کہ میرا حق تھا کہ میں یہاں پہلے سے شریک رہتا لیکن آج راہ طریقت کے رسم اجرا کے موقع پر اہل علم حضرات کی موجودگی میں کچھ کہنے کی سعادت میرے حصہ میں آئی یہ میرے لئے سعادت اور نیک بختی کی دلیل ہے۔
 مفتی عطاء الرحمن نے کہا کہ مولانا محمد سلیم ایک اچھے ادیب ہیں ان کی ایک آواز پر علماء کرام تشریف لے آتے ہیں یہ ان کی سعادت کی بات ہے۔ مولانا محمد برہان مظاہری نے خطاب کرتے ہوئے کہا اس نوخیز ادارہ نے قلیل مدت میں جو خدمات انجام دی ہیں اور جتنی اہم شخصیات کو ایک جگہ جمع کیا ہے، دوسرے لوگ اس سے عاجز ہیں۔
پروگرام کی نظامت جامعہ کے مدیر وبانی مولانا محمد سلیم کھجناوری نے انجام دی، تلاوت کلام اللہ قاری محمدمقصود نے کی ،جبکہ نذرانہ عقیدت مولانا محمد عارف باغپتی نے پیش کیا ۔
شرکت کرنے والوں میں حافظ محمد محسن ستارہ، حافظ محمد انعام ، منھاج احمد ،مولانا محمد شاہ رخ ، مولانا محمد شاہد ندوی ،قاری محمد ابرار، قاری مصیب الرحمن، حافظ شکیل، قاری محمدمشکور، مولانا محمد فتح ندوی، مولانا محمد اسلم رشیدی، مفتی عبدالرازق ،مولوی محمد اعظم، قاری عبد الرحمن سندرپور، حافظ مہدی حسن، حافظ محمد ہاشم ، حافظ عبد الستار ،حافظ عبد المنان، مولانا محمد عمر اور قرب وجوار کے عوام وخواص بھی موجود رہے ۔