عمران زین
جگتیال کی سر زمین ادبی اعتبار سے اور اُردو کے کازکیلئے بہت ہی زرخیز مانی جاتی ہے یہاں پر کئی نامور شعرا ء اور کئی ادبی شخصیات جنم لیئے اور اُردو کے مجاہد کہلائے اور اپنا کلام ‘اورتخلیقات کے ذریعہ ان منٹ نقوش چھوڑے۔جن میں قابل ذکر حلیم اظہر ‘ محمد حبیب الدین حبیب صاحب‘شیخ علی عازمؔ صاحب‘ عبدالحکیم حکیمؔصاحب‘محمد حفیظ الدین حفیظ ؔصاحب‘ کلیم پروانہ ؔ‘ صاحب‘ محمد محمود علی فداؔصاحب‘ خواجہ معین الدین موجؔصاحب‘ عبدالقدیرکے علاوہ موجودہ شعراء کرام میں نامور مزاحیہ شاعر ٹپکل جگتیالی ‘ شعیب الحق طالب‘ لیاقت علی محسن‘ ابراہیم علی حسن (مقیم کینڈا)‘ ‘مصباح الحق ادیب‘ مترنم شاعر کرٹیکل جگتیالی(منور) وغیرہ شامل ہیں ۔لیکن یہاں جس شاعر کا تذکرہ کیاجارہاہے اس شاعرنے شہر جگتیال ہی نہیں ضلع کریم نگر‘ ہی میں نہیں بلکہ نظام آباد ‘ حیدرآباد ’ ورنگل‘ عادل آباد میںاپنے کلام اور مترنم آواز کے ساتھ سامعین کے دل میں ایک مخصوص مقام بنالیا اور آپ کی پہچان ایک مترنم ‘ کہنہ مشق شاعر کی حیثیت سے بنی رہی۔اور یہ عصر حاضر کے شاعر عظیم راہی کے نام سے جانے جاتے ہیں کیونکہ عظیم راہی ایک ادبی شخصیت ہونے کے ساتھ انکا کلام پختہ اور معیاری ہے او آپ کا ترنم بہت عمدہ ہے ہر لحاظ سے پختہ شاعری آپ کے کلا م میں ملے گی۔ کئی ایک کل ہند مشاعروں میں آپ نے شرکت فرمائی اور مترنم لہجے میں غزلیات سُنا کر سامعین سے خوب داد تحسین حاصل کی‘ جب اپنا کلام ترنم میں پڑھتے ہیں تو ایک سماں بندھ جاتا ہے اور سامعین خوب محظوظ ہوتے اور داد و تحسین سے نوازتے ہیں۔آپ نے سلیمان خطیب‘ خمار بنکوی‘ معز ممتانی‘ سرور ڈنڈا‘ گلی نلگنڈوی‘ بیکل اتساہی‘ سعید شہدی‘ علی جلیلی‘ رحمن جامی ‘ معین بزمی‘ صلاح الدین نیر‘ خواجہ شوق‘ جوہر کانپوری‘ راحت اندوری‘ الطاف ضیائ‘ اقبال خلش ‘ راہی بستوی‘ مسعود ہاشمی‘ کے علاوہ دیگر نامور شعرا کرام کے ساتھ کلام سنانے کا شرف حاصل رہا۔آپ ایک اُستاد شاعر ہیںکئی نوجوا ن نئے شاعر آپ کے تلامذہ میں شامل ہیں اور جب کھبی غزلوں کی تصیح کا سوال اُٹھتا ہے عظیم راہی ؔ کا نام لیا جاتاہے اس ناچیز کو آپ کے شاگرد ہونے کا شرف حاصل ہے لیکن بہت کم لوگ اس بات کے واقف ہیں میں کسی وقت غزلیں بھی لکھا کرتا تھا اور آپ سے میر ی پہچان ہماری لائبریری جو اُردو گھرکے نام جو محلہ گنج میں تھی تب سے ہے اور یہ ملاقات تقریباًپچیس سال سے زائد عرصہ میں داخل ہوچکی ہے ۔اور آپ کو شہر جگتیال کے پہلے صاحب دیوان شاعر ہونے کا اعزازبھی حاصل ہیعظیم راہی کی شاعرانہ صلاحیت بھی قدرت کا عطیہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ عظیم راہی نیفکری صلاحیتوںکو ‘تعمیری ادب کی تخلیق کیلئے وقف کردیا۔ ابھی کچھ ماہ قبل آپ کے مجموعے کلام’’ نکہت گل‘‘ کی اشاعت عمل میں آئی ہے عظیم راہی ایک پُرخلوص اور ملنسار شخصیت کے مالک ہیںعظیم راہی کا پورا نام محمد عظیم الدین ہے اورراہیؔ تخلص ہے قلمی نام عظیم راہی ہے عظیم راہی 16؍ڈسمبر1943میں شہر جگتیال میں پید ا ہوئے ۔عثمانیہ یونیورسٹی سے بی اے کیا ۔محکمہ صحت وطبابت میں بحیثیت کمیونٹی ہیلت آفیسر2001میںوظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہوئے اور 2003میں حج کی سعادت حاصل کی اور آپ بزم اُردو ادب جگتیال کے سرپرست اور صدر بھی رہے اور بزم اُردو ادب کی شہر ت میں نمایاں کردار ادا کیا ۔بزم کے متعددشعرا کو ماہنامہ گونج کے ذریعہ سارے ہندوستان میں روشناس کرایا جگتیال کی بزم کے مشاعروں کی روداد کیلئے ایک صفحہ مختص رہا کرتا تھا۔عظیم راہی ؔکا شمار اس وقت جگتیال کے کہنہ مشق اور معیاری شاعروں میں شمارہوتا ہے آپ نے ہر اک اصناف سخن میں طبع ازمائی کی ہے آپ کے مجموعے کلام میں ‘حمد و نعت کے بعد انہوں نے غارِ حرا کی تفصیل بیان کی اور اسکے بعد غزلیات کا آغاز ہوا جیسے غزل‘ نظم‘ قطعات‘ حمداور نعت‘ انکے کلام کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ نے ہر موضوع پر طبع آزمائی کی۔راہی ؔ زاہد خشک نہیں بلکہ شاعر ہیں اور شعری رموز سے واقف بھی ہیں اس لئے ان کے کلام میں نشاط افروزموضوعات بھی نظم ہوئے جیسے’’ایک شاعر کا لڑکا‘ جائے پناہ‘ چاہت ‘ اور اُردو زبان‘‘ قابل داد ہیں زیر نظر مجموعہ میں غزلیات کا حصہ بھاری ہے اور اندازہ یہ ہے کہ موصوف غزل ہی کے شاعر ہیں۔بنیادی طور پرصالح روایت سے وابستگی نے انہیں بھٹکنے نہیں دیا ۔مجموعی اعتبار سے راہی ؔ صاحب کی شاعری منجمد نہیں ایک رقیق سیال ہے جو موجودہ دور کے احساسات کو اپنی گرفت میںلیکر اپنی موجودگی کا ادراک کراتی ہے ۔۔ملاحظہ فرمائیں
وقت نے پھونک دیئے کتنے فرعونوں کے چراغ
غرق ہوجاتا ہے جو حد سے گذر جاتا ہے
اَرتھیاں بے گناہوں کی اٹھتی رہیں شامیانے پڑوسی کے سجتے رہے
اور تعصّب کی تپتی سڑک پرکوئی خون انسانیت کا بہاتا رہا
عظیم راہی غزل ہی کے شاعر ہیں۔ چند شعر اُنکی غزلوں سے دیکھیں جس سے آپ کی غزل گوئی اور آپ کیانداز تغزل عیاں ہوتا ہے
عشق پھولوں میں پل نہیں سکتا
حسن کانٹوں پہ چل نہیں سکتا
ہے اُن کے انتظار کی لذت میں زندگی
یارب شبِ فراق کہیں مختصر نہ ہو
مدت کے بعد آپ نے دیکھا میری طرف
اب خوف ہے یہی کہ نظر کو نظر نہ ہو
عشق الہٰی ِ میں چند شعرملاحظہ فرمائیے
ذرا تصور تو کیجئے گا خدائی کو کیوں نہ جوش آئے
جو اسکی چوکھٹ پہ سر رہے گااور ہاتھ میں جب غلاف ہوگا
پوشیدہ ہر اک شئے میں ہے اسکی ہی تجلّی
ہر سمت وہی جلوہ نماہے کہ نہیں ہے
عشقِ رسولﷺ میں ڈوبے ہوئے چند اشعار ملاحظہ فرمایئے
اُمّت پہ ہزاروں ہیں احسان محمدؐ کے
اِس دل میں بسا لینا ارمان محمدؐ کے
چھُونے کو ترستے ہیں اُس روضہ کی جالی کو
پروانے یہ اُمّت کے قربان محمدؐ کے
غزل کا ایک اور شعرجو یکتاکا درس دیتا ہے
ایک ہو جائیں توطوفان کا رُخ موڑ بھی دیں
شاخ سے ٹوٹنے والا توبکھر جاتا ہے
وقت کی اہمیت اور قو م کی غفلت کا درس دیتا ہو ا اُنکا شعرملاحظہ فرمائیں
تو ذرا سوچ زمانہ یہ کدھر جاتا ہے
وقت کا کیا ہے دبے پاؤں گذر جاتاہے
شوخیوں میں ڈوبے ہوئے چند اشعار ملاحظہ ہوں
ہم سے دیکھا نہ گیا اُنکا پشیماں ہونا
ہائے اس شوخ کا انگشت بہ دندان ہونا
مسکرانا تمہارا غضب ڈھاگیا
بات ہونٹوں پہ آکر مچلتی رہی
زندگی کی بے ثباتی اور دوستی پر آپ کا خیال ملاحظہ فرمایئے
یہ تو ہرجائی ہے ہر پل یہ دغا کرتی ہے
زندگی دیکھئے کب کس سے وفا کرتی ہے
یہ وہ بازار ہے یوسف بھی جہاں بکتے ہیں
اَچھے اَچھوں کی قبا چاک ہوا کرتی ہے
دوستی کرکے نبھانا کوئی آسان نہیں
بدگمانی کھبی رشتوں کو قطع کرتی ہے
ہر لحاظ سے پختہ شاعری آپ کے کلا م میں ملے گی عظیم راہیؔ ایک کہنہ مشق اور صاحب قلم شاعر ہیںآپ شہر جگتیال کے محلہ گنج میں رہائش پذیر ہیں
سیل نمبر9704446711
