غلام نبی آزاد نے کانگریس چھوڑدیا، تمام عہدوں اور بنیادی رکنیت سے استعفیٰ 

تازہ خبر قومی
نئی دہلی : 26؍اگست
(زین نیوز)
سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے جمعہ کو کانگریس کے تمام عہدوں اور بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ آزاد نے اپنا استعفی عبوری صدر سونیا گاندھی کو بھیج دیا ہے۔ چند روز قبل کانگریس نے انہیں جموں و کشمیر کانگریس کمیٹی کا صدر بنایا تھا لیکن آزاد نے دو گھنٹے بعد ہی اس سے استعفیٰ دے دیا تھا ۔ غلام نبی آزاد نے کانگریس صدر سونیا گاندھی کو لکھے ایک خط میں کہا، ’’میں نے انڈین نیشنل کانگریس سے اپنی نصف صدی پرانی وابستگی کو توڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور انڈین نیشنل کانگریس کی بنیادی رکنیت سمیت اپنے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔آزاد کا استعفیٰ جموں و کشمیر میں پارٹی کے انتخابی مہم کے سربراہ کے عہدے سے انکار کے چند دن بعد آیا ہے۔
غلام نبی آزاد نے صحت کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے جموں و کشمیر کے تنظیمی عہدے سے استعفیٰ دینے کے چند دن بعد اپنے تفصیلی استعفیٰ خط میں لکھا  آزاد نے لکھاکہ سارا تنظیمی انتخابی عمل ایک مذاق اور دھوکہ دہی ہے۔ ملک میں کہیں بھی تنظیم کے کسی بھی سطح پر انتخابات نہیں ہوئے ہیں۔ اے آئی سی سی 24 اکبر روڈ پر بیٹھی ہے،

آزاد اعلیٰ کمان کے فیصلوں سے ناراض تھے۔73سالہ آزاد اپنی سیاست کے آخری مرحلے میں ریاستی کانگریس کی باگ ڈور سنبھالنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن مرکزی قیادت نے اس کی بجائے 47 سالہ وقار رسول وانی کو یہ ذمہ داری سونپی۔ وانی غلام نبی آزاد کے بہت قریب ہیں۔ وہ بانہال سے ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔ آزاد کو یہ فیصلہ پسند نہیں آیا۔ کہا جا رہا ہے کہ کانگریس قیادت آزاد کے قریبی لیڈروں کو پھاڑ رہی ہے اور آزاد اس سے ناراض ہیں۔
غلام نبی آزاد پارٹی کے علاوہ جی 23 گروپ کا بھی حصہ تھے جو پارٹی میں کئی بڑی تبدیلیوں کی وکالت کرتی ہے۔ ان تمام سرگرمیوں کے درمیان اس استعفیٰ نے غلام نبی آزاد اور کانگریس کے ساتھ ان کے تعلقات پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ مرکز نے اس سال غلام نبی آزاد کو پدم بھوشن ایوارڈ سے نوازا ہے۔
آزاد کی راجیہ سبھا کی میعاد 15 فروری 2021 کو ختم ہوئی۔ اس کے بعد انہیں امید تھی کہ انہیں کسی اور ریاست سے راجیہ سبھا میں بھیجا جا سکتا ہے، لیکن کانگریس نے انہیں راجیہ سبھا نہیں بھیجا۔ وزیر اعظم نریندر مودی آزاد کی میعاد ختم ہونے کے دن انہیں الوداع کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے۔ 2021 میں مودی حکومت نے غلام نبی آزاد کو پدم بھوشن دیا تھا۔ کانگریس کے کئی لیڈروں کو یہ پسند نہیں آیا۔ قائدین نے مشورہ دیا تھا کہ آزاد کو یہ اعزاز نہیں لینا چاہئے۔