نئی دہلی:9؍فروری
ویب ڈیسک
راجیہ سبھا میں الوداعی تقریر کے دوران کانگریس کے رکن پارلیمان غلام نبی آزاد نےکہاکہ انھیں ہندوستانی مسلمان ہونے پر فخرہےاور وہ ان خوش قسمت لوگوں میں سے ایک ہیں ، جو کبھی پاکستان نہیں گئےانھوں نے کہاکہ جب وہ پاکستان کے بارے میں پڑھتے ہیں اور سنتے ہیں تو مجھے ایک ہندوستانی مسلمان ہونے پر فخر محسوس ہوتا ہے۔غلام نبی آزاد نے راجیہ سبھا میں کہا کہ ‘میں اردو کے چند اشعار کے ساتھ رخصت ہونا چاہتا ہوں اردو کے چند اشعار پڑھے اور ایک مختصر تقریر میں اپنے چار دہائیوں سے زیادہ طویل سیاسی سفر کو بیان کیا۔اپنی الوداعی تقریر میں راجیہ سبھا میں کہا کہ میں اپنی 41 سالہ پارلیمانی زندگی میں راجیہ سبھا ، لوک سبھا اور جموں و کشمیر کی اسمبلی میں رہا ۔غلام نبی آزاد نے اپنی تقریر میں سابق وزیراعظم اور بھارت رتن اٹل بہاری واجپئی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ‘حزب اختلاف کے رہنما ہو تو ایوان بالا چلانا کتنا مشکل ہوسکتا ہے لیکن میں کہوں گا کہ سب سے آسان مجھے اٹل واجپئی جی کی پانچ سال کی قیادت کے دوران لگا۔ اٹل جی استاد تھے اور ان سے میں نے سیکھا کہ کیسے کسی مسئلے کا حل دونوں طرف کی باتیں سن کر نکالا جاسکے۔
خون کی مانگ ہے اس دیش کی حفاظت کے لیے
غلام نبی نے کہا کہ جس بات سے میں نے سیاسی کیریئر شروع کیا ہے۔ میں گاندھی، مولانا آزاد، جواہر لال نہرو کو پڑھتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ شعر پڑھا:
خون کی مانگ ہے اس دیش کی رَکشَا کے لیے
میرے نزدیک یہ قربانی بہت چھوٹی ہے دے دو
بھارت کو قریب سے دیکھا
انہوں نے کہا کہ اپنے سیاسی دور میں مجھے بھارت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ مجھے ملک کے تقریباً تمام یوٹیز و ریاستوں کو انچارج کرنے کا موقع ملا۔
جذباتی ہونا لازمی تھا
غلام نبی آزاد نے اپنی الوداعی پر راجیہ سبھا سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا۔ کشمیر میں 30 جولائی 2007 میں ہوئے بس دھماکے، جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے کا تذکرہ کرتے ہوئے غلام نبی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ انہوں نے کہا کہ میری دعا ہے کہ یہ دہشت گردی ختم ہوجائے
دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
غلام نبی آزاد نے ایک اور شعر پڑھے:
دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام، شام ہی تو ہے
سوپور میں پہلی عوامی میٹنگ۔۔
انہوں نے کہا کہ جب میں جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائر ہوا تھا تو پہلی عوامی میٹنگ سوپور میں منعقد کی تھی۔
میں کبھی اِدھر سے نکلا اُدھر ڈوبا اُدھر ڈوبا اِدھر نکلا
وہیں آزاد نے کہا کہ ‘میرے جتنے بھی ایوان میں ساتھی ہیں، چاہے وہ حزب اختلاف کے ہوں یا کانگریس کے، سب نے میرے بارے میں جذباتی ہو کر کچھ الفاظ کہے۔ اس کے ساتھ ہی وزیراعظم بھی اس موقع پر جذباتی ہوگئے، میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں سب کے خیالات سن کر سوچ میں پڑ گیا کہ میں کیا کہوں۔ تو یہ کہوں گا:
میں کبھی اِدھر سے نکلا اِدھر ڈوبا
اِدھر ڈوبا اُدھر نکلا اُدھر ڈوبا اِدھر نکلا
وزیر اعظم نریندر مودی منگل کو راجیہ سبھا رکن غلام نبی آزاد کی وداعی کے وقت جذباتی ہوگئے ۔ بطور راجیہ سبھا رکن غلام نبی آزاد کا آج آخری دن تھا ۔ اس دوران وزیر اعظم نے کہا کہ غلام نبی جب وزیر اعلی تھے ، تو میں بھی ایک ریاست کا وزیر اعلی تھا ۔ ہماری بہت گہری قربت رہی ۔ ایک مرتبہ گجرات کے کچھ یاتریوں پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا ۔ آٹھ لوگ اس میں مارے گئے ۔ سب سے پہلے غلام نبی آزاد کا مجھے فون آیا ۔ ان کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔ اس واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی جذباتی ہوگئے ۔