آروگیہ شری کے تحت 87.50 لاکھ خاندان مستفید ۔ سرکاری ادویات کے تئیں لوگوں کے اعتماد اور اعتماد میں اضافہ
حیدرآباد:۔ 22 ستمبر
(از: فہیم الدین)
سرکاری دواخانوں اورادویات پر لوگوں کے اعتماد اوربھروسہ میں اضافہ ہواہے ۔ عوام کی صحت کے تئیں چیف منسٹرمسٹر کے چندر شیکھر را ؤکے جذبہ سے ریاست صحت مند تلنگانہ کے طور پر ابھر رہی ہے۔گزشتہ آٹھ سال میں حکومت کے کثیر جہتی اقدامات سے یہ قومی صحت کے اشاریوں میں تیسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے۔
حکومت نے صحت کے ذیلی مراکز سے لے کر پرائمری، علاقائی، ضلعی، تدریسی اور ریاستی سطح کے سرکاری دواخانوں تک جدید طبی خدمات کومستحکم کیا ہے۔ مفت سرکاری طبی خدمات اور ٹیسٹوں کو بڑھانے کیلئے نظامی سہولت تیار کیں۔اس سے غریب اور متوسط طبقہ کے لوگوں کو بہتر اور معیاری طبی خدمات میسر ہوئی ہے۔
چیف منسٹر کی امنگوں کے مطابق شہریوں کی صحت کی حالت میں بہتری آئی ہے۔ خاص کر خواتین اور بچے میںصحت کے اہم اشاریوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔زچگی کی شرح اموات(ایم ایم آر)جو ریاست کے قیام سے پہلے 92 تھی، آج گھٹ کر 56 پر آ گئی ہے۔بچوں کی اموات کی شرح (IMR) 39 سے کم ہوکر 21 ہوگئی۔ 5 سے کم عمر کی شرح اموات (USMR) 41 سے کم ہو کر 30 اور نوزائیدہ اموات کی شرح (NMR) 25 سے کم ہو کر 17 ہو گئی۔
نیتی آیوگ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، صحت کے اشاریوں کے لحاظ سے ریاست تلنگانہ کیرالہ اور تمل ناڈو کے بعد ملک میں تیسرے نمبر پر ہے۔ 2017 سے کے سی آر کٹ سے 13,29,951 استفادہ کنندگانمستفید ہوئے ہیں۔ حکومت نیڈی بی ٹی کے ذریعہ فائدہ اٹھانے والوں کے کھاتوں میں 1,176 کروڑ روپے منتقل کئے ہیں۔ 102 ریفرل ٹرانسپورٹ رہائش کے ساتھ 41 لاکھ حاملہ خواتین سہولت ملی۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے کہ ہر بچہ صحت مند پیدا ہو اور پروان چڑھے۔
یونیورسل امیونائزیشن پروگرام کے تحت ریاست میں 99 فیصد ہدف حاصل کیا گیا۔ 35 خصوصی نوزائیدہ نگہداشت یونٹ (SNCUs) فی الحال کام کر رہے ہیں۔ بیمار نوزائیدہ بچوں کے لیے خصوصی دیکھ بھال کی خدمات تک بروقت رسائی ان یونٹوں کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے، جو لیبر رومز کے قریب قائم کیے گئے ہیں۔
جی ایچ ایم سی حدود میں 259 بستی کلینک کام کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کو معیاری صحت کی خدمات فراہم کی جاسکیں۔ شہری غرباء کیلئے 57 قسم کے لیب ٹسٹ دستیاب ہیں خون کے ٹیسٹ، ای سی جی اور ایکسرے، یو ایس جی تشخیصی خدمات حکومت کی طرف سے مفت تشخیصی مراکز کے ذریعہ حب اینڈ اسپوک ماڈل کے تحت فراہم کی جاتی ہیں۔
اس وقت یہ ٹسٹ لیابس 20 اضلاع میں ہیں۔ مزید 13 قائم کئے جارہے ہیں۔ان ٹسٹ لیابس میں ہر ماہ تقریبا 4 لاکھ نمونوں کی جانچ کی جاتی ہے۔ فی الحال یہ مرکز پیتھالوجی، ریڈیولوجی اور وائرولوجی کی خدمات بھی فراہم کررہے ہیں۔ علاوہ ازیں حکومت نے ثانوی صحت کی دیکھ بھال کی خدمات کو وسعت دی ہے۔
175 ہسپتال سیکنڈری کیئر میں 10,170 بستروں کے ساتھ ثانوی صحت کی دیکھ بھال کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ حکومت نے ریاست کے ہر ضلع میں ایک سرکاری میڈیکل کالج کی منظوری دی ہے۔ جس سے منسلک سرکاری ڈسٹرکٹ ہاسپٹلس میں اضافی سہولتیں فراہم کری جارہی ہے۔ 18 مئی 2021 کو، حکومت نے آروگیہ شری کو AB-PMJAY اسکیم سے جوڑ دیا ہے۔ اس سے 87.5 لاکھ خاندانوں کو فائدہ ہوگا۔ آروگیہ شری کے تحت ریاست کی تشکیل کے بعد سے اب تک 25 لاکھ سے زیادہ سرجری کی جاچکی ہیں۔ اس طرح 13 لاکھ سے زائد مریض مستفید ہو چکے ہیں۔
ریاست میں
57 سرکاری بلڈ بنک مراکز اور 17 خون ذخیرہ کرنے کے مراکز مفت خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ 27 بلڈ بنکوں میں اجزا کو الگ کرنے والے ہیں۔ حکومت نے ایک نئی ’’انٹی گریٹیڈ ہاسپٹل فیسیلٹی مینجمنٹ سروسزپالیسی متعارف کرائی ہے تاکہ خوراک کے چارجز کو دوگنا کرکے اور ایک نیا ڈائیٹ مینو متعارف کر کے صحت کی خدمات کو بہتر بنایا جا سکے۔
حکومت ایک نئی ڈرگ پالیسی متعارف کروا رہی ہے۔61 کروڑ روپیئے کی تخمینہ لاگت سے 29 تدریسی ہاسپٹلس ، 20 ضلعی ہاسپٹلس اور 30 ہاسپٹلس /CHCs میں برقی حفاظتی کاموں کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ کام جاری ہیں۔61 کروڑ روپیئے کی لاگت سے 20 ہاسپٹلس میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پی)کی منظوری دی گئی ہے۔ 31 کروڑ روپیئے کی تخمینہ لاگت سے 153 دیگر ہاسپٹلس میں فائر سیفٹی کے کاموں ‘61 ہاسپٹلس میں مردہ خانوں کی مرمت، تزئین و آرائش اور اپ گریڈیشن کی منظوری دی گئی ہے۔
حکومت 134 کروڑ روپے کی لاگت سے 20 ہاسپٹلس میں ایس ٹی پی قائم کر رہی ہے۔ حکومت نے میڈیکل ہیلتھ سروسز ریکروٹمنٹ بورڈ، تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن کو براہ راست 12,755 جائیدادوں کو پر کرنے کی اجازت دی ہے۔ان کثیر جہتی اقدامات سے لوگوں کا سرکاری ادویات پر اعتماد اوربھروسہ میں اضافہ ہوا ہے۔
(از: فہیم الدین)
Cell:9700446657
faheemuddin.m@gmail.com