قوم کی تعمیر و ترقی میں تعلیمی معیاری کا اہم کردار 

تازہ خبر قومی
مدارس عربیہ کے لئے عصری علوم کا منصوبہ لیکر دیوبند پہنچے مفتی عبدالقادر اعظمی گڑھی کااظہار خیال 
دیوبند،19؍ جولائی
(رضوان سلمانی)
کسی بھی قوم کی تعمیرو ترقی میں اس کے تعلیمی معیار کا اہم کردار ہوتاہے، موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ معیاری تعلیم تو دور ہم تعلیم سے ہی دور ہوتے جارہے ہیں، اس کی اصل وجہ مدارس میں عصری تعلیم کا معقول نظم نہ ہونا ہے، اس کمی کو پوری کرنے اورمدارس کے طلبہ کو مین اسٹریم سے جوڑنے کے لئے مدرسہ عربیہ قاسم العلوم منگراواں اعظم گڑھ کی انتظامیہ نے مدرسہ میں علوم دینیہ کے علوم جدیدہ (ہندی ،انگلش ،حساب سائنس،کمپیوٹر) کو انگلش میڈیم میں پڑھانے کا فیصلہ کرکے گزشتہ 7؍ جون سے نافذ بھی کردیاہے ۔
مذکورہ خیالات کااظہار مدرسہ عربیہ قاسم العلوم منگراواں اعظم گڑھ کے پرنسپل مفتی عبدالقادرنے آج یہاں دارالعلوم چوک پرواقع نیوز نیٹ ورک کے دفتر میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ مفتی موصوف مذکورہ بالا منصوبہ جات سے علماء دیوبند کو واقف کرانے ،ان کی تائید اور دعائیں لینے کی غرض سے دیوبند پہنچے تھے۔ انہوں نے اپنے قیام دیوبند کے دوران دارالعلوم دیوبند اور دارالعلوم وقف دیوبند کے بیشتر علماء کرام سے ملاقات کرکے دعائیں حاصل کی۔
 جن میں خاص طورپر دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث مولانا نعمت اللہ اعظمی،نائب مہتمم مولانا عبدالخالق مدراسی، نائب مہتمم مفتی محمد راشد اعظمی،دارالعلوم وقف دیوبند کے شیخ الحدیث اور جامعہ امام محمد انور شاہ کے مہتمم مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی،جامعہ طبیہ دیوبند کے سکریٹری ڈاکٹر انور سعید شامل ہیں ۔
مفتی عبدالقادر نے بتایاکہ ہمارے ادارہ میں درجہ اول سے انٹر میڈیٹ تک مفت اور معیاری تعلیم دی جائیگی، اس کے علاوہ مولوی محمد مسعود خاں کوچنگ سینٹر انسٹی ٹیوٹ اور مولوی محمد مسعود خاں ٹیچر ٹریننگ پروگرام بھی قائم کرنے کافیصلہ کیاگیاہے، انہوں نے بتایاکہ کوچنگ انسٹی ٹیوٹ میں سردست 60؍ فضلاء مدارس کا داخلہ لیکر نیٹ کی تیاری کرائی جائیگی،جو فاضل مدارس عربیہ ہائی اسکول ،انٹر میڈیٹ کا امتحان پاس نہیں کئے ہونگے انہیں یوپی مدرسہ بورڈ سے سیکنڈری اورسینئر سیکنڈری بھی کرائی جائیگی۔
 اسی طرح ٹیچر ٹریننگ پروگرام کے تحت سردست چھ عصری مضامین میں یک سالہ تربیتی کورس چلانے کا فیصلہ کیاگیاہے، جس کے لئے انگلش،حساب،کیمسٹری، فزیکس، بایو لوجی اور کمپیوٹر سے ہر مضمون کی ٹریننگ کے لئے مدارس دینیہ کے دس دس فضلاء کاداخلہ کیاجائیگا، اس یک سالہ کورس میں داخل ہونے والے ہر فاضل کو مدرسہ طرف سے ہاسٹل اور کھانا مفت دیاجائیگا،
کسی طرح کی کوئی تعلیمی فیس نہیں لی جائیگی بلکہ اس میں داخل ہونے والے اقتصادی طورپر کمزور فضلاء کو وظیفہ بھی دیا جائیگا۔ مفتی عبدالقادر نے کہاکہ کوچنگ انسٹی ٹیوٹ اور ٹیچر ٹریننگ پروگرام قائم کرنے کا مقصد صرف اور صرف فضلاء مدارس عربیہ کو عصری علوم سے آراستہ کرنے اورانہیں سماج کے لئے کارآمد بناناہے،انہوںنے یہ بھی بتایاکہ کوچنگ انسٹی ٹیوٹ میں فی الحال تین درسگاہیں ہونگی
، جن میں ہر درسگاہ کے لئے بیس فاضل مدارس کا داخل کیا جائیگا، پہلی درسگاہ انٹر یا اس کے مساوی ڈگری رکھنے والے فضلاء کی ہوگی جنہیں سیدھے نیٹ کے لئے تیار کیاجائیگا، دوسری درسگاہ ہائی اسکول یا مساوی پاس آؤٹ فضلاء کے لئے جنہیں درجہ گیارہ میں داخل کرکے مدرسہ بورڈکا سینئر سیکنڈری امتحان پاس کرانے کے لئے فزیکس، کیمسٹری ،بایولوجی،انگلش ،میتھ اور کمپیوٹر جیسے مضامین پڑھے جائیں گے،تیسری درسگاہ ان فضلاء کی ہوگی جو ہائی اسکول یا اس کے مساوی کوئی بھی امتحان پاس نہ ہوں ۔
 انہیں درجہ نو داخل کرکے مذکورہ بالا مضامین پڑھاکر سیکنڈری امتحان دلایا جائیگا، مفتی موصوف نے بتایاکہ یکساں تربیتی کورس ہوگا، جس میں فضلاء مدارس کو انگلش، میتھ، فریکس ،کیمسٹری، بایو لوجی اور کمپیوٹر کی تربیت دے کر مدارس میں عصری علوم کی تعلیم دینے کا اہم بنایا جائیگا۔ اس طرح کل چھ تربیتی کورس ہونگے اور ہر تربیتی کورس میں دس دس فضلاء مدارس کا داخلہ لیا جائیگا،ایک سال انہیں تربیت دے کر ٹریننگ سرٹیفکٹ دیاجائیگا،
ا نہوں نے بتایاکہ یک سالہ تربیتی کورس میں داخل ہونے والے ہر فاضل کو مدرسہ کی طرف سے ہاسٹل اور کھانا مفت دیا جائیگا،اسی طرح کوئی تعلیمی فیس نہیں لی جائیگی،بلکہ تربیتی کورس میں داخل ہونیوالے اقتصادی طورپر کمزور فضلاء کو وظیفہ بھی دیا جائیگا، اس موقع پر جامعہ امام محمد انور شاہ کے استاذ مولانا ابواطلحہ اعظمی،حافظ محمد ساجد ناظم مدرسہ معاذ بن جبل موجود تھے۔