ماں، میں مرنا نہیں چاہتا، میں ابھی بہت چھوٹا ہوں

تازہ خبر عالمی

شاہ چلتے ہیں جب بھی چال نئی
گود ماؤں کی کیوں اجڑتی ہے؟

روسی فوجیوں نے 6 سالہ یوکرینی معصوم کے جسم میں 7 گولیاں داغ دیں
کیف:25؍مارچ
(اے ایم این ایس)
’’کہاوت ہے کہ ‘دنیا کی سب سے بھاری چیز سب سے چھوٹا تابوت ہے’ سچ ثابت ہوئی ہے۔ماں، میں مرنا نہیں چاہتا،میں مرنے کے لیے بہت چھوٹا ہوں’ کہنے والا معصوم روسی فوج کی سات گولیاں کھا کر ماں کی گود میں پڑا تھا۔ اس ماں کی حالت کا اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے جس کا 6 سالہ بیٹا مرنے سے پہلے کہتا ہے کہ ‘میں مرنا نہیں چاہتا’ اور اگلے ہی لمحے وہ ماں کی آغوش میں موت کی نیند سو گیا

۔اس ہولناک واقعہ سے ماں کا کلیجہ پھٹ گیا ہوگا ۔اس وقت کا منظر وہ لمحہ کتنا دالخراش ہوگیا اور اس ماں کے دل پر کیا بیتی ہوگی اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔

یہ دردناک کہانی یوکرین کے دارالحکومت کیف میں رہنے والی اینا اور اس کے بیٹے کی ہے۔ جب روسی حملے میں کیف کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ پھر انا نے اپنی 13 سالہ بیٹی علینا اور 6 سالہ بیٹے میکسم کے ساتھ شہر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ انا کے دونوں بچے بہت ڈرے ہوئے تھے۔ جب وہ گھر سے نکلنے کی تیاری کر رہے تھے، 6 سالہ میکسم نے اپنی ماں کو بتایا کہ وہ خوفزدہ ہے۔ اس نے انا سے کہا- ‘ماں، میں مرنا نہیں چاہتا۔

میں بہت چھوٹا ہوں.’ بیٹے کے منہ سے ایسی بات سن کر کسی بھی ماں کا دل بھر آئے گا۔ انا اپنے بچے کے خوف کو کم کرتی ہے اور اسے یقین دلاتی ہے کہ جب تک وہ ا ن کے ساتھ ہے، انکے ساتھ کچھ نہیں ہوگا۔

‘ میکسم اور الینا بہت خوفزدہ تھے۔ پھر ہم دونوں خاندانوں نے ایک ساتھ شہر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم مغربی یوکرین میں ریون میں رشتہ داروں کے پاس جائیں گے۔ ہم سب گاڑی سے جا رہے تھے۔ تمام بچے کار کی پچھلی سیٹ پر تھے اور میکسم میری گود میں۔

ہم نے یوکرین کی دو فوجی چوکیوں سے گزرے تھے۔ پھر جیسے ہی ہماری گاڑی آگے بڑھی فائرنگ شروع ہو گئی۔ ایلسکزنڈر گاڑی چلا رہا تھا۔ اس کی فائرنگ سے موت ہو گئی تھی۔ ان کی بیوی نتالیہ کو کم از کم 10 گولیاں لگیں۔ مجھے کان کے قریب سر میں گولی لگی۔ علینہ کے دائیں ہاتھ اور بائیں گھٹنے میں گولی لگی۔ جب میں نے میکسم کو گاڑی سے باہر نکالا تو وہ مر چکا تھا۔ میں چیختے ہوئے بیہوش ہو گئی۔ اسے پیچھے سے سات گولیاں ماری گئیں۔

تو بھیڑ میں سے کسی نے ایمبولینس کو بلایا۔ میں نے پہلے کچھ دن کسی سے بات نہیں کی۔ اپنی بیٹی علینہ سے بھی نہیں۔ میں نے اپنی زخمی بیٹی کو خود سے دور دھکیل دیا۔ میں نہیں چاہتی تھا کہ وہ مجھے کوئی تسلی دے۔ میں اپنے بیٹے کے لیے رو رہی تھی۔ مجھے کئی دنوں تک میکسم کی لاش دیکھنے کی اجازت نہیں تھی۔

میں نے اسے آخری بار مردہ خانے میں دیکھا تھا۔ مجھے اس کی لاش کی شناخت کے لیے بلایا گیا۔ مجھے سرجری کے لیے لیو کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ جب میکسم کو دفن کیا گیا تھا اس وقت میرا علاج چل رہا تھا۔