75ویں یوم آزادی کے موقع پر شیخ الہند ودیگر مجاہدین آزادی کے وارثین کو اعزازات سے نوازا
دیوبند،12؍اگست
(رضوان سلمانی)
آزادی کے 75ویں یوم جشن آزادی پر امرت مہاتسو کے تحت اترپردیش حکومت کی ہدایت پر آج شہر کے مجاہدین آزادی کے اہل خانہ اور شہر کے سینئر سٹیزن کے گھروں پر جاکر انتظامیہ کے افسران کی جانب سے انہیں اعزاز سے نوازا گیا
۔امرت مہاتسو کے تحت ایس ڈی ایم دیوبند دیپک کمار ،سی او رام کرن سنگھ اور نگر پالیکا ای او ڈاکٹر دھریندر کمار رائے نے مجاہدین جنگ آزادی کے اہل خانہ کو ان کے گھروں میں جاکر اعزاز سے نوازا۔
محلہ ابو المعالی میں میں واقع ریشمی رومال تحریک کے روح رواں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی کے خاندانی وارث حاجی ریاض محمود مجاہدین جنگ آزادی کے مولانا راشد عثمانی رحمتہ اللہ علیہ کے سب سے چھوٹے بیٹے اور سینئر صحافی اشرف عثمانی کو اعزاز سے نوازا گیا ۔
اس دوران اشرف عثمانی نے بتایا کہ شیخ الھند حضرت مولانا محمود الحسن نوراللہ مرقدہ کے برادر زادے معروف مجاہد آزادی مولانا راشد حسن عثمانی رحمتہ اللہ علیہ کا نام نامی جانباز مجاہدین آزادی کی تاریخ میں سر فہرست آتا ہے۔
’’شیر دیوبند‘‘ کے لقب سے مشہور مولانا راشد حسن عثمانی نے آنکھ کھول کر گھر کے ماحول میں انگریز سامراجیت کے خلاف نفرت اور بغاوت کا ماحول دیکھا’ اپنے حقیقی چچا شیخ الھند کی گود میں آنکھ کھول کر انہوں نے اپنے ارد گرد حریت کے متوالوں اور جیالوں کا ہجوم پایا اسلئے انگریز کی مخالفت اور جذبہ حب الوطنی دل و دماغ میں رچ بس گیا۔مولانا راشد حسن 1907 میں پیدا ہوئے انکے والد مولانا حامد حسن عثمانی بریلی ژون کے ڈپٹی آف ایجوکیشن جیسے اونچے منصب پر فائز تھے۔
مولانا راشد حسن اپنی کم عمری سے ہی جدو جہد آزادی کی تحریک میں شریک ہوگئے اور 1929 میں گاندھی جی کی ’’ڈانڈی مارچ ‘‘میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
1930 ”میں سول نافرمانی” کی علاقاء قیادت کی جسکی پاداش میں انکی گرفتاری عمل۔میں آئ۔اس دوران نینی جیل میں فروز گاندھی اور دیگر مجاہدین کے ساتھ مولانا نے قید وبند کی زندگی گزاری۔،1930 سے 1946 تک مولانا کء بار بغاوت کے الزام میں جیل گئے۔
مولانا راشد حسن عثمانی کا شماراہنے دور کے شعلہ بیان مقررین میں ہوتا ہے حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی سے ان کو خاص نسبت تھی۔دونوں ہی آستانہ شیخ الھند کے تربیت یافتہ مجاہد تھے۔مولانا راشد حسن نے آزادی ٔوطن کے بعد گرچہ عملی سیاست سے کنارہ کرلیا تھا تاہم قومی خدمتگار کے طور پر جمعیۃ علماء ہند کے ساتھ مصروف عمل رہے۔1969 میں انہوں نے دارفانی سے کوچ کیا۔
مولانا مرحوم کے سب سے چھوٹے فرزند اشرف عثمانی بقید حیات ہیں۔آزادی کے امرت مہاتسو کے موقع پر حکومت کی جانب سے انکو اعزاز سے نوازا گیا۔ان کے علاوہ علامہ انور صابری کی اہلیہ آمنہ خاتون جبکہ جنگ مجاہد آزادی دلیپ سنگھ تیاگی ،وشمبر دیو شاستری کے اہل خانہ کو اعزاز سے نوازا اور ملک کے لئے ان کی جانب سے دی گئی قربانیوں کی تعریف کی ۔
اس کے علاوہ سبھی وارڈروں کے سنیئر سٹیزنوں کو بھی افسران کی جانب سے اعزاز سے نوازا گیا ۔اس موقع پر ایس ڈی ایم دیوبند دیپک کما رنے بتایا کہ آزادی کے 75وے سال پورے ہونے پر امرت مہاتسو کے تحت دیوبند کے سی او رام کرن سنگھ اور نگر پالیکا ای او ڈاکٹر دھریندر کمار کے ذریعہ مجاہدین آزادی کے اہل خانہ کو گھر گھر جاکر انہیں اعزاز سے نوازا۔ایس ڈی ایم دیوبند نے کہا کہ ہم لوگ ان کو اعزاز دیکر فخر محسوس کررہے ہیں ۔
انہوں نے بتایا کہ شہر دیوبند میں 6افراد مجاہدین آزادی کے وارثین ہیں ۔انہوں نے سب لوگوں کے گھر گھر جاکر انہیں اعزاز سے نوازا ہے اور ساتھ ہی جو سنیئر سٹیزن ہیں انہیں بھی گھر جاکر اعزاز دے رہے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ یہ پروگرام حکومت کی ہدایت پر کیا جارہا ہے ۔اس موقع پر چندریکا پرساد،فہیم نمبر دار ،روندر کمار،سید حارث،پوپن کمار،محمد اکبروغیرہ موجود ہے ۔