مخصوص مذہب سے تعلق کا شبہ، 65 سالہ شخص کا قتل

تازہ خبر قومی

کیا آپ کا نام محمد ہے؟ اپنا آدھار کارڈ دکھائیں!!
مدھیہ پردیش میں نعش کی برآمدگی،پولیس ملزم کی تلاش میں مصروف

نئی دہلی : 21؍مئی
(زیڈ ایم این ایس)
ملک میں نفرت اور تعصب اتنا پھیل چکا ہے کہ اسکے سامنے انسانیت اور انسان کے جان کی کوئی قیمت باقی نہیں رہی ہے محض مذہب‘ ذات پات‘ کے نام پر مارا جارہا ہے ۔ ایسے ہی واقعات میںملک میں ابتک کئی بے قصور افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔
ریاست مدھیہ پردیش میں پیش آئے ایک افسوسناک واقعہ میں ایک شخص اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔ تفصیلات کے مطابق مدھیہ پردیش کے نیمچ ضلع کے منسا علاقہ میں ایک 65 سالہ شخص کو مخصوص مذہب سے تعلق کے شبہ میں مارا پیٹا گیا۔ بعد ازاں پولیس نے اس کی نعش برآمد کی اور اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کی گئیں جس سے اس کی شناخت ہوگئی۔

مانسا پولیس اسٹیشن ہاؤس آفیسر کے ایل ڈانگی نے بتایاکہ ہمیں جمعرات کو متاثرہ کی لاش ملی۔ سوشل میڈیا پر اس کی تصویریں جاری ہونے کے بعد، رتلام سے اس کے خاندان کے افراد نے اس کی شناخت بھنور لال جین کے طور پر کی۔خاندان کے افراد کے مطابق، بھنور لال جین مختلف طور پر معذور تھے اور انہیں یادداشت سے متعلق مسائل تھے۔

جمعہ کو لاش کو متوفی کے لواحقین کے حوالے کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا جس میں ایک شخص کو کسی خاص مذہب سے تعلق رکھنے کے شبہ میں بھنور لال جین کی پٹائی کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ویڈیو میں ملزم متاثرہ سے آدھار کارڈ کا مطالبہ کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

ویڈیو میںزعفرانی قمیض میں ملبوس ایک شخص کو بوڑھے کو مسلسل تھپڑ مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور پوچھا جا رہا ہے کہ کیا آپ کا نام محمد ہے؟ مجھے اپنا آدھار کارڈ دکھائیں۔
ملزم کی شناخت دنیش کشواہا کے طور پر کی گئی ہے اور محکمہ پولیس کے ذرائع کے مطابق اس کی بیوی شہر کی کارپوریٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہے۔

ایس ایچ او کے ایل ڈانگی کے مطابق، "ملزم کے خلاف دفعہ 302 اور 304/2 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور اس کا سراغ لگانے اور گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں”۔

ڈنگی نے کہا، "اس کے علاوہ، علاقہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج تک رسائی حاصل کی جا رہی ہے اور اگر مزید لوگ ملوث پائے گئے تو ان کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا جائے گا۔”

دریں اثنا، سابق ایم پی سی ایم کمل ناتھ نے ٹویٹر پر جاکر امن و امان کی صورتحال پر ریاستی حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ حکومت تقریبات کے انعقاد میں مصروف ہے۔