مدارس اسلامیہ کا اچھی حالت میں باقی رکھنا حکومت ہند اور علمائے کرام کی جماعت کی اہم ذمہ داری ہے۔مفتی سید امجدمدنی

تازہ خبر قومی
جمعیۃ علماء یونٹ کا تحفظ مدارس کے تحت میٹنگ منعقد کا انعقاد
دیوبند،9؍ستمبر
(رضوان سلمانی)
جمعیۃ علماء یونٹ دیوبند کی جانب سے ’’تحفظ مدارس اسلامیہ ‘‘کے عنوان سے محلہ پٹھانپور ہ میں واقع جامع مسجدمغل والی ریتی چوک میں ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں تقریباً 78مدارس کے ذمہ داران نے شرکت کی ۔ میٹنگ کا آغاز دارالعلوم دیوبند کے استاذ قاری محمد اقرار بجنوری کی تلاوتِ قرآن سے ہوا۔
اس موقع پر دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم مولانا مفتی راشد اعظمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ  صدیوں سے جاری دینی خدمات کا نظام اور ملک کی خوش حالی کو برقرار رکھنے والی تحریک مدارس اسلامیہ کے نظام کو درہم برہم ، ہم آخری دم تک نہیں ہونے دیں گے یہ ہمارے اکابر علمائے کرام کی دینی حمیت ، غیرت اور فراست ایمانی تھی کہ انھوں نے بروقت انگریز کے غلط ، ناپاک ارادوں کو بھانپ کر سر سے کفن باندھ کر مقابلہ کے لیے میدان میں کود پڑے اور موقع محل کے اعتبار سے وقت جس طرح کی بڑی سے بڑی قربانی کا مطالبہ کر رہا تھا
 اس قربانی کو پیش کرنے کے لیے رائی کے دانے کے برابر بھی ہمت نہ ہماری۔ اس لیے حالات سے ہمیں قطعاً گھبرانا نہیں چاہئے ، ہر طرح کا مقابلہ دستور ہند اور آئین ملک کے مطابق قربانی دے کر اس فریضہ کو انجام دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ اس وقت علمائے کرام اور مسلمانان ہند اور تمام امن پسند ہندوستانی شہری اِن مدارس اسلامیہ کو برقرار اور ترقی دینے کی ہر کوشش کر رہے ہیں لہٰذا ہمیں ڈرنے کی کوئی ضررت نہیں ہے۔ ہم اپنے مدارس اسلامیہ کا ہر طرح سے تحفظ کا یقین دلانا چاہتے ہیں۔
دارالعلوم زکریا کے مہتمم مولانا مفتی شریف خاں نے موجودہ درروں میں مدارس اسلامیہ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ  مدارس اسلامیہ دین اسلام اور ملک میں امن اور سالمیت کے علمبردار ہیں ۔ مولانا مزمل علی مہتمم جامعۃ الشیخ حسین احمد المدنی نے کہا کہ ہمیں مولانا ارشد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند کے حکم کے مطابق اپنے مدارس کا حساب و کتاب صاف و شفاف رکھنا ہوگا، جب ہی ہمارے مدارسِ اسلامیہ ترقی کر سکتے ہیں۔
مولانا مفتی احمد سعد مہتمم المعہد العلمی الاسلامی نے کہا کہ ہمیں آئینِ ہند کے مطابق مدارسِ اسلامیہ کو چلانے کی بھرپور اجازت حاصل ہے  ، بس ہمیں اپنے مدارسِ اسلامیہ کے کردار کو اور اچھا بحال کرتے ہوئے عصری تعلیم کو بھی دینی کی طرح لے کر چلنا پڑے گا، مولانا مفتی سید خبیب الحسنی نے اپنے بیان میں کہا کہ مدارس اسلامیہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں ، ہمیں مسجد میں جیسے امام کی ضرورت پڑتی ہے اور نماز دین کا اہم ستون ہے اس کے لئے مدارسِ اسلامیہ کے اندر کسی امام کو نماز کے لیے اور مؤذن کو اذان کے لیے تیار کیا جاتا ہے ،
لہٰذا مدارسِ اسلامیہ کو زندہ اور باقی رکھا آزاد طریقہ سے قانون کے مطابق ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ مولانا ظہور احمد قاسمی استاذ مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور اور صدر جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور نے اپنے خطاب میں کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کے اکابر روزِ اول سے ملک کی سا  لمیت کے لئے اور بقا کو برقرار رکھنے کے لئے ہر طرح کی قربانی دیتے آئے ہیں ہمیں بھی جمعیۃ علماء ہند کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے مدارسِ اسلامیہ کو ہر طرح سے باقی رکھنا ہے ، تاکہ ملک میں امن کو بحال رکھنے کے لئے مدارس کے طلبہ ہر طرح تیار رہیں۔
مولانا اسعد حقانی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء شہر سہارنپور نے بارہ نکاتی پروگرام جن کے تحت مدارسِ اسلامیہ فروغ پا سکتے ہیں ان کے اوپر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مدارسِ اسلامیہ کے اندر صفائی ستھرائی مذہبِ اسلام کا اہم رکن اور ہمارے ملک کی ایک پہچان ہونی چاہئے ۔
مولانا مفتی سید امجد مدنی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اگر ہمارے اکابرین ملک ہندوستان پر انگریز کے تسلط کو نظر انداز کر جاتے اور انگریز اپنے ناپاک منصوبہ کے تحت مساجد، مدارس اور خانقاہوں کو اجاڑنے میں کامیاب ہوجاتا تو نعوذ باللہ آج اُندلس کی طرح ہندوستان سے بھی اسلام رخصت ہوچکا ہوتا اور نتیجہ یہ ہوتا کہ ہمارے ملک ہندوستان میں کوئی عالم، فاضل، امام، حافظ، قاری، مفتی، مناظر، محقق، مقرر، مساجد و مدارس الغرض ولادت کی اذان سے لے کر جنازے کی نماز اور اِن کے مسائل کے بتانے والے بہت تلاش کے با وجود بھی نہ ملتے۔
 لہٰذا اپنے ملک کی ترقی کی کوشش کے لیے اور مذہب اسلام کو روشن کرنے کے لیے مدارس اسلامیہ کا اچھی حالت میں باقی رکھنا حکومت ہند اور علمائے کرام کی جماعت کی اہم ذمہ داری ہے۔ میٹنگ کی صدارت مولانا مفتی امجد مدنی نے کی اور نظامت مولانا مفتی خادم حسین قاسمی آرگنائزر جمعیۃ علماء ہند (دیوبند) نے انجام دی۔
میٹنگ میں مولانا مفتی اخلاق قاسمی (جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء دیوبند)، حاجی محمد یاسین (صدر جمعیۃ علماء دیوبند)، مولانا مسعود احمد قاسمی، محمد عارف، مولانا محمد عمران قاسمی، مولانا محمد گل نواز قاسمی، مفتی محمد ظفر اللہ قاسمی، مولانا محمد مظفر قاسمی، مولانا قاری گلفام ، حافظ محمد گلفام (نائب صدر ) ، مولانا محمد راشد قاسمی (تلہیڑی) ، قاری محمد ثوبان، قاری محمد بابر، قاری محمد مبین (ہاشم پورہ) ، محمد صدر الدین انصاری کے علاوہ اہم لوگوں نے شرکت کی۔ آخر میں مفتی خادم حسین قاسمی نے تمام مہمانان کرام اور علمائے عظام کا شکریہ ادا کیا اور مفتی محمد راشد اعظمی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند کی رقت آمیز دعا پر یہ مجلس اختتام کو پہنچی۔