اترپردیش کانگریس کمیٹی اقلیتی سیل کی جانب سے میٹنگ کا انعقاد
دیوبند، 18؍ ستمبر
(رضوان سلمانی) اترپردیش کانگریس پارٹی اقلیتی سیل کی جانب سے ’’بعنوان ہم مدرسوں کے ساتھ ‘‘ ڈاک خانہ چوک پر ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا ۔ اس موقع پر کانگریس پارٹی اقلیتی سیل کے ریاستی نائب صدر وترجمان ڈاکٹر خالد محمد اور وصی احمد رضوی، ریاستی نائب صدر اور ہمایوں بیگ کی قیادت میں ہم مدرسوں کے ساتھ مہم کے ذریعہ سروے کی مخالفت میں اس میٹنگ کا انعقاد کیا گیا ۔
اس دوران ڈاکٹر خالد محمد خان نے کہا کہ ریاست اترپردیش حکومت غیرمنظور شدہ مدارس کی شناخت کرنے کے لئے ایک سروے شروع کیا گیا ہے جو کہ ایک سیاسی سازش کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا سروے کراکر ایک خاص طبقے کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔
انہو ںنے کہا کہ فروری 2021کے بجٹ میں وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اسکیم کے تحت 15ہزار سے زائد اسکولوں کو نئی تعلیمی پالیسی کے ذریعہ انہیں جوڑا جائے گا ، آج تقریباً 18ماہ بعد وزیر اعظم ہند نے گزشتہ 5ستمبر کو یوم تعلیم کے موقع پر دوبارہ اعلان کیا مگر اس مرتبہ اس کی تعداد گھٹ کر 14ہزار پانچ سو رہ گئی ۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تک پوری ریاست میں ایک بھی اسکول اپڈیٹ نہیں کیا گیا تو کیا مدارس کو اپڈیٹ کرنے کے بہانے سروے کرائے جانا ایک سازش کا حصہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بی جے پی حکومتیں مسلمانوں کو ٹارگیٹ کرکے ان کے خلاف روزبروز نئی نئی پالیسیاں بنا رہی ہیں۔ خالد خان نے کہا کہ مدارس کے سروے کے بہانے ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنایا جارہا ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔
وصی احمد رضوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مدارس کی تعلیم کے نظام کو لے کر سروے کرانے کے احکامات کی مخالفت میں ملک بھر میں ناراضگی ہے ، یہ سروے سراسر سرکاری دخل اندازی ہے، جب سرکار سروے کرنے آئے گی تو ان میں بہت سے ایسے مدارس ہیں جن کے پاس فنڈنگ کا کوئی ٹریل نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی مرتبہ لوکل فنڈنگ ہوتی ہے ، خاندان کے افراد اپنی جانب سے چندہ دے کر ان کا تعاون کرتے ہیں تو ایسے میں حساب کتاب نہیں رکھے جاتے کیوں کہ سرکار اس میں کوئی چندہ نہیں دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے مدارس لوگوں کے چندہ سے چلتے ہیں اور مدارس انتظامیہ حکومت کی جانب سے کوئی چندہ وصول نہیں کرتے ہیں۔ اس لئے حکومت کا سروے کرائے جانا سراسر غلط اورناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی جگہوں پر لوگ مدرسے کے لئے زمین اپنی طرف سے دیتے ہیں اس کا بھی کوئی حساب کتاب نہیں رہتا ہے، اسی لئے ایسے میں سرکار کی جانب سے سروے کرائے جانا ایک سازش کا حصہ نظر آرہا ہے۔
ریاست کے جنرل سکریٹری ہمایوں بیگ نے کہا کہ مدارس کے سروے کے دوران غیرسرکاری مدارس میں موجود بنیادی سہولتوں کی صورت حال جاننے کے بہانے نفرت کا ماحول بنایا جارہا ہے تاکہ وہ 2024میں ہونے والے پارلیمانی انتخاب میں کامیابی حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کے منظور شدہ مدارس کا حال بھی بہت برا ہے ، اقلیتی اداروں کو ٹارگیٹ کرنا بی جے پی کا مقصد ہے تاکہ وہ اکثریتی طبقے کو یہ باور کراسکے کہ بی جے پی ہی ان کی سچی ہمدرد ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس ملک میں اس وقت نفرت کا ماحول پیدا کرکے ملک کو کمزور کیا جارہاہے۔ اس لئے لوگوں کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ کانگریس پارٹی کے شہر صدر تنظیم صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب سے ریاست اور مرکز میں بی جے پی حکومت برسراقتدار آئی ہے تو اسی وقت سے مسلمانوں کو کسی نہ کسی بہانے سازش کے تحت انہیں ٹارگیٹ کیا جارہاہے۔
اب مدارس کے سروے کے بہانے مسلمانوں کو ٹارگیٹ کیا گیا ہے جو سراسر غلط ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں ہر طبقہ پریشان ہے، تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار ہے، کسان بے حال ہیں، مگر بی جے پی ایک مرتبہ پھر نفرت کا ماحول ملک میں پیدا کرکے 2024کے پارلیمانی انتخاب میں کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے ، مگر اس مرتبہ ان کا یہ خواب پورا نہیں ہوگا۔ اس موقع پر اعجاز احمد، بلال احمد، ڈاکٹر عبدالروٗف ، ایان سیفی، ہارون، راحت علی، حسن عاطف ، دانش سیفی، سونو پٹھان، عمر خالد، پروین شرما، ایشان خان، پرویز عالم، حافظ عثمان نعمانی وغیرہ موجود رہے۔