دیوبند، 19؍ اکتوبر
(رضوان سلمانی)
پچھم پردیش مکتی مورچہ کے دفتر پر ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا ۔ اس موقع پر مورچہ کے قومی صدر بھگت سنگھ ورما نے کہا کہ بی جے پی کی مرکزی اور ریاستی سرکار کسان اور غریب مخالف ہے۔ ہندوستان میں کسان حکومت کی غلط پالیسیوں کے سبب قرض مند ہوکر خودکشی کررہے ہیں جو دہلی میں بیٹھے ہوئے لیڈران کے لئے بہت ہی شرمناک بات ہے۔
انہیں اس پر غور وخوض کرنا چاہئے، پہلے سے ہی کسان زبردست مالی پریشانیوں سے جھونجھ رہا تھا ، اس کے باوجود بی جے پی کی موجودہ حکومت نے تین زرعی کالے قانون لاکر ملک کو برباد کرنے کا کام کیا ہے۔ انہو ںنے کہا کہ کسانوں کو ان کی فصلوں واجبی قیمت نہیں مل پارہی ہے، کھیتوں میں استعمال ہونے والی چیزیں لگاتار مہنگی ہوتی جارہی ہیں ، ڈیژل مہنگا ہوگیا ہے ، کھاد وغیرہ مہنگا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کو بچانے کے لئے ان کے قرض معاف کئے جائیں ۔ ڈاکٹر ایم ایس سوامی ناتھ کمیشن کی رپورٹ کا نفاذ کرکے کسانوں کو ان کی فصلوں کی واجبی قیمت دلائی جائے ۔ بجلی کی قیمتیں کم کی جائیں، کسانو ںکے کارڈ بناکر ان کو 40لیٹر ڈیژل دیا جائے، منریگا اسکیم کو سیدھے طو رپر کھیتی سے جوڑا جائے ۔
بھگت سنگھ ورما نے کہا کہ ملک کا کسان زبردست مالی تنگی سے گزررہا ہے ، اس لئے گنے کی قیمت 600روپے فی کوئنٹل کی جائے اور شوگر فیکٹریوں سے گنے کی بقائے کی ادائیگی فوراً کرائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے مسائل حل ہونے تک لڑائی جاری رہے گی ، کوئی بھی حکومت کسانوں کو نظرانداز کرکے زیادہ روز تک اقتدار میں نہیں رہ سکتی۔
بھاجپا کی مودی حکومت کو ہٹ دھرمی چھوڑ کر ملک کے کسانوں سے گفتگو کرکے کسانوں کے مسائل کو حل کرنا چاہئے ۔ بھگت سنگھ ورما نے ڈیژل ، پیٹرول،گیس، سی این جی، پی این جی کی بڑھتی قیمتوں پر اپنے غصہ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے ۔
مورچہ کے ریاستی جنرل سکریٹری عاصم ملک نے کہا کہ اترپردیش کے کسانوں کو امید تھی کہ ریاست کی یوگی حکومت گنے کی قیمت میںکم سے کم 100روپے فی کوئنٹل کا اضافہ کرے گی مگر اس نے ایسا کچھ نہیں کیا، گزشتہ ایک مہینے کے اندر 600روپے فی کوئنٹل چینی کی قیمت میں اضافہ ہوگیا ہے ۔
اس موقع پر راجندر چودھری ، ونود سینی، وریندر سنگھ، نیرج سینی، سنجے چودھری، حاجی سلیمان، محمد وسیم، محمد فاروق، محمد یٰسین تیاگی، محمد یعقوب، محبوب حسن، بدھو حسن، دھن پرکاش تیاگی وغیرہ موجود رہے۔