مساجد کے ائمہ و مؤذنین‘ اُمت مسلمہ کی ذمہ داری

تازہ خبر مذہبی

شاید کہ اترجاے تیرے دل میں میری بات
لمحہ فکریہ ازقلم عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء امام وخطیب مسجد اسلامیہ نظام آباد9505057866
گذشتہ دوسال سے ایک درد اس دل میں لئےہوا تھا آج اس کو سپرد قرطاس کررہا ہوں اس نیت کے ساتھ کہ کسی کی دل آزاری بھی نہ ہو اورکسی کو احساس ذمہ داری بھی ہوجاےقارئین کرام پوری انسانیت اس بات سے سہمت اور متفق ہیکہ علم دین ایک ایسی لازوال دولت ہے جو اپنے حاملین کو دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں عزتوں سے نوازتی ہے اسی وجہ سے علم کو روشنی اور جہالت کواندھیرے سے تعبیر کیا گیا ہے

یہی وہ علم ہے جس کی وجہ سے حاملین علم دنیا میں اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوے امت مسلمہ کی مختلف اعتبار سے راہ نمای کا فریضہ انجام دیتے ہیں خواہ وہ مساجد کے ائمہ کرام ہوں یا کسی دینی ادارہ کے اساتذہ عظام ہوں یا کسی مسجد کے مؤذن صاحب یا کسی ادنی خدمت پرمامور کسی بھی اعتبار سے اگر وہ قوم وملت کے نونہالوں کی یانمازوں کی ادائیگی سے امت مسلمہ کے نمازیوں کی یااللہ کے مقدس ترین گھروں کی خدمت میں لگے ہوے ہیں تو یہ سب یقینا علم دین ہی کی برکت سے ہے جس علم نے ان کو اپنے آپ کو مٹاکر ملت اسلامیہ کی خدمت کا دینی وملی اور آگے بڑھ کر انسانی جذبہ عطاء کیا اور لاکھ لوگوں کی کڑوی کسیلی سننے کےباوجودوہ اپنی زبان سے اف تک نہیں کرتا اور انتہای ذلت آمیز لہجوں کو برداشت کرتا ہوا اپنی ذمہ داری کو پورے حسن وخوبی کے ساتھ اپنی مفوضہ داری کی ادائیگی کے لئےجان توڑمحنت کرتا ہے

اللہ تعالی نے اس علم دین ہی کی برکت سے اس کو صبر کی دولت سے بھی نوازتاہے جس کا مظاہرہ قوم و ملت اپنی سرکی آنکھوں سے بارہا کرتی ہی رہتی ہےمگرہزار افسوس کےساتھ یہ کہنا اور لکھنا پڑتا ہیکہ آج ملت اسلامیہ خواہ وہ عام آدمی کسی مسجد کامصلی ہوں یا کسی مسجدکا ذمہ دار اورانتظامی کمیٹی کے عہدیداران ہوں مساجد کے آئمہ ومؤذنین اور خدام کے ساتھ انتہائی ناگفتہ بہ رویہ رکھنے کو اپنی بہادری اور دلیری تصور کرتے ہیں حالانکہ جس امام کے پیچھے نیت متابعت کرکے ہی ان کی نماز درست ہوتی ہے اسی امام کی غیبت اس کے خلاف ہرزہ سرائی اور زہر افشانی کو اپنامشغلہ بناکر اپنی دین ودنیا کی تباہی کو یقینی بناتے ہوے نظرآتے ہیں

ابھی حالیہ رمضان المبارک ہی کے مقدس ایام جاری تھے شہر کے ایک مؤذن صاحب نے راقم سطور کو فون کیا اور انتہای لجاجت کےساتھ حقیقت حال اور اپنے ساتھ متولی مسجد کی جانب سے ہونے والی جارحیت کو سنایا اور خواہش کی کہ آپ آکر مجھے انصاف دلائیں بروقت میں جو کارروای کرسکتا تھا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوے کیابعد میں اطلاع ملی کہ صاحب معاملہ کے فرزند نے معافی تلافی کی اور معاملہ کوسلجھادیارمضان 2021 سے ابھی فراغت ہوی ہی تھی کہ عیدالفطر کے دوسرے ہی دن علاقہ بنجر کا ایک دل کو دہلادینے والا واقعہ سامنے آیا جہاں مسجد کے امام کو ظالم مسلمانوں نے انتہاء کردی کہ نماز تراویح نماز عید اور نماز جمعہ پڑھانے عالے عالم دین کو تنخواہ سے بھی محروم کیا اور زدوکوب کرکے امام مسجد عالم دین وحافظ قرآن کو شدید زخمی کردیا

کیا تک ہے اور کیا سلوک ہے قوم مسلم کا اپنے راہ نماؤن مساجد کے ائمہ کرام اور اللہ کی کتاب کے حفاظ عظام اور دینی خدمت گذاروں کے ساتھاللہ ہی ان کو ہدایت دےاسی طرح شہر ہی کی دس سے زائدمساجد کے ائمہ کرام نے گذشتہ تین سال کے دوران کئ ایک واقعات سناے جس کو سننے کے بعد کسی بھی عقلمند انسان کمیٹی کے ذمہ داران کی تائید میں ہرگزکھڑا نہیں ہوسکتابہرحالایک المیہ ہے ہماری امت کا کہ جولوگ کسی کام کے نہیں ہوتے ان کو مساجد میں لاکر ائمہ ومؤذنین اور خادمین مساجد پر مسلط کردیا جاتا ہے جو نہ علم سے واقف ہوتے ہیں اورنہ ہی علماء اور امام کے تقدس واحترام سے آشنا ہوتے ہیں گذشتہ سال 2020 میں ہونے والے ملکی لاک ڈاؤن کے ایام میں بھی کئ ریاستوں اور شہروں سےمتعلق مسلسل یہ خبریں پڑھنے کو مل رہی تھیں کہ ائمہ مساجد اور خدام کے ساتھ کمیٹی کے ذمہ داران نے انتہای ناروا سلوک کیا خود تو اپنے گھروں میں چین وسکون سے کھاتے پیتے رہے مگرمسجد کے امام کی نہ کوی فکر نہ اس کے گھر کی کوئ خبر گیری نہ سامان خورد ونوش کی اطلاع نہ ہی اظہارہمدردیافسوس تو اسوقت زیادہ ہوا جب مہینہ کے آغاز پر متعینہ مشاہرہ اور تنخواہ کی معمولی رقم سے بھی کچھ پیسے منہا کرکے دئیےگئے اور یہ بولا گیا کہ ابھی چندہ نہیں ہوا یا لوگوں کے حالات اچھے نہیں ہیںالامان الحفیظاللہ رحم کرے

ایسی قوم پر جن کی یہ سونچ اور گھٹیا نظریہ ہے ایک عام ذہن سے بھی سوچاجاے تو امام مسجدوخدام مسجد کو کیا آسمان سے کوی وظیفہ آے گا جس پر وہ اپنی زندگی گذر بسر کرےکیا ان حالات میں بھی اس ظلم کے کرنے کو کوی عقل دانا رکھنے والاانسان اچھا سمجھے گا؟جس مسجد کے امام نے اپنی جدوجہد سے پوری فکرولگن کےساتھ نمازوں کو پڑھایارمضان المبارک میں قرآن مجید کو یاد کیا پھر قوم ہی کی نمازوں کوسنوارنے اوراس کوعبادت بنانے کےء پوری تھکاوٹ کے باوجود مصلے پر جاکر قرآن کو سنایا آیات قرآنیہ کو یادرکھا نمازوں کی تعداد رکعات کو ذہن میں رکھا مسائل نماز کوبھی روبہ عمل لایا ایسے ہی کسی مسجد کامؤذن اورخادم جس نے اپنی راحت کو قربان کیا مسجد کی صفای ستھرای کو انجام دیا رمضان المبارک میں اوقات سحر وافطار کے موقع پر تم سے کم کھایا اور وقت پر تمہاری عبادتوں کوانجام دینے کے لےء سائرن کے پاس ہی کھڑارہا روزہ رہ کر بھی بازاروں اور گلیوں میں جاجاکر مسجد کےانتظامات کی خاطر لوگوں سے چندہ اکھٹا کیا جبکہ تم سے روزہ کی حالت میں تمہارے اپنے وقت پر دوکان کھولنا یا ڈیوٹی کو جانا کتنا مشکل اور گراں لگتا تھا

یہ بھی پڑھیں :  کورونا سے فوت ہونے والے ورکرس کے ورثاء کو فی کس 15 لاکھ روپئے ایکس گریشیاء

 

عوام الناس سے چندہ مانگنا جو دراصل انتظامی کمیٹی کی سب سے بڑی ذمہ داری ہوتی جس کو تم نے عار سمجھا ایسا کام بھی اس بیچارہ مؤذن اور خادم ہی نےکیاباوجود اس کے تم اس کی ناقدری کرتے ہو اوراس کی گھریلو ضروریات کا کچھ بھی تمہیں احساس نہیں ہوتا ہے اس کے معمولی مشاہرہ میں سے بھی کٹوتی کرکے چند ایک روپیہ دے کر سمجھ لیتے ہو کہ اتنا بس اورکافی ہے جس کو اگر یومیہ مزدوری کے تناسب سے دیکھا جاے تو ایک لیبر اور عام مزدور کی یومیہ اجرت اور مزدوری سے بھی کم معاوضہ ہوتا ہےخدارامسلمانو سمجھو کہ تم کیا کررہے ہو اللہ کے ان منتخب بندوں کے حق کوپامال کرکے غضب الہی کو دعوت دے کر اپنے دارین کی ناکامی کے اسباب مول رہے ہو خود تو اچھے کھانے پینے عمدہ ودیدہ زیب کپڑوں کو استعمال کرتے قیمتی سے قیمتی گاڑیوں پرسواری کرتے اونچے اونچے محلات اور گھروں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہو اپنے بچوں کے لےءشہرکے اچھے سے اچھے اسکول کاانتخاب کرتے ہواوراپنے محلہ کی مسجد کے امام ومؤذن اور خدام دین کے ساتھ بے اعتنای وبے توجہی بلکہ تنگدستی کو کیسے گوراکرلیتے ہو اور اللہ حفاظت کرے بعض لوگوں کی زبان سے خود راقم کے کانوں نے اس بات کوکہتے ہوےسنا اور ان صاحب کی عقل پر ماتم بھی کیا کہ اماموں اور مؤذنین کی تنگدستی ہماری مرفہ الحالی ہے اور ان کی مرفہ الحالی ہماری تنگدستی ہے لیکن بڑی خوشی بھی ہوتی اور دل سے دعاء بھی نکلتی ہے

اس وقت جب اخبارات میں یہ پڑھنے کو ملتا کہ میوات کے ایک دوردراز کم آبادی والے قریہ کیی ایک چھوٹی سی مسجد کے امام کو بطور ہدیہ مصلیان مسجد کی جانب گاڑی دی گیء یا مہارشٹرا کے بیڑ نامی گاؤں میں امام صاحب کو ایک لاکھ ستر ہزار روپیہ نذرانہ دیا گیا ہے یا کسی علاقہ کے امام صاحب کو پچاس سالہ خدمت دین اور امامت کی ذمہ داری ادا کرنے پر عوام الناس کی جانب سے پچاس لاکھ روپیہ عطیہ دیاگیا ہے

گرچیکہ یہ معزز طبقہ اپنی زبوں حالی کو قوم سے چھپاکر ہی رہنے کو ترجیح دیتا اور اللہ ہی سے اپنی خدمت کااجر مانگتا ہے اور خداے علیم وخبیر اپنے خزانہ غیب سے ان کی حاجت روای فرماتا رہتا ہے جنہوں نے کبھی دنیاوی مال ومتاع کی جانب التفات نہیں کیا اور نہ ہی ان کا مقدس علم ان کو اس کی اجازت دیتا ہے کاش کہ ہر مسجد کے ذمہ داران اورقوم وملت کا ایک ایک فرد ان ائمہ مساجد ومؤذنین اور خدام دین کی ہر ضرورت زندگی کو اپنی ضروریات پر ترجیح دینے والا بن جاتا تو آج سماج ومعاشرہ کی حالت ہی کچھ اور ہوتیاللہ پاک کامل فہم اور توفیق عمل وقدردانی نصیب فرماےآمین