از قلم: عبدالقیوم شاکرالقاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علما نظام آباد
9505057866
آمدعیدسے قبل میں اپنی طرف سے پوری ملت اسلامیہ کو عیدالفطر کی پیشگی مبارکباد دیتے ہوے دعاء گورہوں گا کہ باری تعالی اس عید کو پوری انسانیت کےلۓ ذریعہ انقلاب اور باعث رحمت اور عالمی وباء سے نجات کا سبب بنادے
آمین
رمضان المبارک کی خوشیوں اورعبادات کی لطف ولذات میں دوبالگی پیدا کرنے والا دن یوم العید ہےجو یقینا اللہ رب العزت والجلال کی جانب سےایک انعام واعزاز اور روزہ داروں کے لےء میزبانی کا دن ہے اللہ پاک باربار ایسی عید ہم کو نصیب فرماے
احادیث مبارکہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہیکہ عیدالفطر کےدن فرشتے تمام راستوں کے کناروں اور نکڑ پر کھڑے ہوکر کہتے ہیں کہ اے مسلمانو
اپنے اس رب کے پاس چلو جوبڑاکریم ہے نیکی اور بھلایکی باتیں بتاتا اور اعمال صالحہ کی توفیق دیتا ہے پھر اس پر بہت زیادہ انعام دیتاہے
تمہیں اس کی جانب سے تراویح پڑھنے کا حکم دیاگیا اور دن کو روزہ رکھنے کا حکم دیاگیا تم نے روزے رکھے اوراپنے رب کی اطاعت کی تو اب چلو اپنا انعام لے لو
اور جب لوگ عید کی نماز سے فارغ ہوجاتے ہیں تو خدا کا ایک فرشتہ اعلان کرتا ہیکہ
اے لوگو
مبارک ہو تم کو
تمہارے رب نے تمہاری بخشش کردی تم اپنے گھروں کو کامیاب وکامران لوٹو یہ عید کا دن انعام کا دن ہے اور اس دن کو فرشتوں کی دنیا میں انعام کا دن کہا جاتا ہے
مسلمانوں کو چاہیے کہ عیدکادن ان کو کیا پیغام دے رہا ہے اس پرغور کریں
مگر
ہمارا اصل مسئلہ یہی ہے دوستو کہ ہم رسم ورواج اور ریتی میں الجھ کر مقصد کو فراموش کردیتے ہیں خواہ شب معراج ہوں یا شب برات اور قدر کی رات یا مقدس ایام اور عید کا دن ہر موقع پر ہمیں اس کے مقصد کو پیش نظر رکھنا چاہیے
بچے تو بچے ہوتے ہیں ان کو تو بس نیااور اچھا لباس عمدہ اور لذیذ پکوان عیدی اور ملاقاتوں سے ہی جی بھرنا ہوتا ہے اور یہی ان کی عید ہوتی ہےاور ہونا بھی چاہیے خداتعالی بچوں کو ان کی حقیقی خوشیاں نصیب فرماے
لیکن بالغ عقل مند اور سمجھدار مسلمان کو چاہیے کہ وہ بچوں والی خوشی کے بجاے مقصد عید کی جانب توجہ دیں
کسی بزرگ کےمتعلق منقول ہیکہ ان سے کسی نے سوال کیا کہ عید کب ہوگی انہوں نے جواب دیا
جب دید ہوگی تب عید ہوگی
یعنی جب محبوب سے وصل اور ملاقات ہوگی تو وہی حقیقی عید ہوتی ہے اس لےء مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ رمضان کے ان بقیہ ایام میں دن اور رات کے ہر حصہ میں باری تعالی کاقرب خاص مانگا کریں
اس دن بطور خاص وہ کام کریں جو قرب خداوندی کاوسیلہ ہے جیسے غرباء پروری بے سہارا بچوں کے ساتھ ہمدردی مسکینوں اور ضرورت مندوں کی فریادرسی مجبور وبے بس لوگوں کے ساتھ خوشیوں کوبانٹنا وغیرہ
موجودہ حالات میں ان لوگوں سے ملاقات واظہار یگانگت کریں جنہوں نے اس سال اس وبای بیماری کی وجہ سے اپنوں کو کھویا ہے جن کے دل بالکل ٹوٹے ہوے ہیں جواندر سے اپنے آپ کو بے سہارا اور یتیم سمجھ بیٹھے ہیں ایسے لوگوں سے بات کرکے ان کے حوصلوں کو بڑھایا جاے باری تعالی کی ذات عالی سے اچھی اور خیر کی امیدیں بندھوای جاے ان دکھ درد کو کسی طرح دور کرکے ان کے چہروں مہروں پر چھای ہوی مایوسی اور مردنی کاازالہ کیا جاے
اسی کےساتھ یہ بات بھی ذہن نشین رہے عید صرف نےءکپڑوں اور عمدہ لباس زیب تن کرنے کانام نہیں بلکہ اللہ کی وعیدوں سے ڈرنے کانام ہے
ہم یہ سوچیں کہ رمضان المبارک کاپورا مہینہ کس طرح احتیاط واحتراز سے ہم نے گذارا ہے معمولی سی معمولی بات پر عمل کرنے سے پہلے ہزار بات روزہ کا خیال آتا تھا اور ہم ایک مکروہ وناپسندیدہ عمل سے بھی اپنے آپکو دور کرلیتے تھے اب جب بخشے بخشاے بن گےء تو اور زیادہ محتاط رہ کر اپنی زندگی کو تقوی اللہ سے آراستہ کرنے کی ضرورت ہے
ہم تنافس کےساتھ ایک دوسرے کی حرص میں آکر زیادہ سےزیادہ نیک کام کرتے تھے تو اب ان اعمال کوباقی رکھنے کی ضرورت ہے عموما ہم لوگ نیکیاں تو کرتے ہیں لیکن اس کو محفوظ نہیں کرپاتے اس لےء رمضان سے جو تقوی ہمیں حاصل ہوا ہے اس کو باقی رکھنے کی ضرورت ہے
نیز عیدالفطر کا پیغام بھی امت مسلمہ کے لۓ یہی ہیکہ وہ اپنے اعمال وعبادات کے ذوق کو برقرار وباقی رکھیں
اللہ پاک توفیق ہمت عطاء فرماے آمین