مسلم خاتو ن ڈاکٹرس کی مثالی انسانی خدمات۔ روزوں میں بھی کورونا مریضو ں کی دیکھ بھال

تازہ خبر قومی

اُوجین : 11؍مئی
(زین نیوز)
اگر خدمت خلق کا جذبہ ہوتو سامنے نظر آنے والا پہار بھی رائی کے برابر نظر آتا ہے ور یہ مثال اندور کی دو مسلم خاتون ڈاکٹرس پر صادق آتی ہے ۔ کورونا بحران میں روزہ کے 15 گھنٹے میں یہ دونوں مسلم خاتو ن ڈاکٹرس آٹو سے110 کلومیٹر کا سفر طئے کرکے اجین آتی ہیں ۔

اور اس شہر کا سارا طبی بوجھ اسی اسپتال پر ہے ‘ سردی کھانسی اور بخار کے مریضو ں کی ایک بڑی تعداد یہاں رجوع ہوتی ہے اس صورت میں کووڈ ٹیسٹ سنٹر میں اندور کی ڈاکٹر ثونیہ انصاری اور ڈاکٹر رخسار شیخ اپنے فرائض انجام دیتی ہیں

انھیں صبح آٹھ8 بجے اسپتال پہنچنا ہوتا ہے دونوں روزہ کی حالت میں آتی ہیں اور شام چار بجے تک کورونا کے مریضوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں اس کے بعدوہ اندور واپس ہوجاتی ہیں ۔

 

20    یہ بھی پڑھیں اسرائیل کی فضائی کارروائی
فلسطینی شہید

 

ڈاکٹر رخسار شیخ نے کہاکہ سب سے پہلے میںاللہ تعالیٰ کا شکر بجالاتی ہوں اور دعاء کرتی ہوں اور پھر انسانی خدمت میں مشغول ہوتی ہوں۔ابھی بھیڑ زیادہ ہے اسکے باوجود تمام مریضوں کو دیکھتے ہیں ۔کبھی تھکاوٹ کا احساس نہیں ہوتا ہے

‘ وہیں ڈاکٹر ثوبیہ کہا کہنا ہے کہ صبح اُٹھ کر اللہ کی رضاء کے لئے سحری کرنا اور روزہ رکھنا اورپھر عبادتو ں میں مشغول ہونا ‘ یہ سب اللہ کی خوشنودی کے لئے ہےاور یہ ہمارا مذہب ہے
وہیں صبح کے آٹھ 8بجے تا دوپہر 2؍بجے تک مریضوں کی دیکھ بھال کرنا یہ ان کی ڈیوٹی ہے۔

ڈاکٹر ثوبیہ اورڈاکٹر رخسار دونوں ہی نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت تقریبا 33 ماہ قبل محکمہ آیوش میں وابستہ ہوئی تھیںاُوجین میں گھر تلاش کررہی تھیں کہ کورونا کے پیش نظر کرفیو نافذ ہوگیا جس کے بعد وہ آٹو سے سفر کرتی ہیں