معاملات کی صفائی کے بناعبادات دھرے رہ جائیں گے

بین الریاستی تازہ خبر

نارائن کھیڑمیں سہ روزہ مجالس کی آخری نشست سے مولاناعبدالقوی صاحب کا ذمہ دارانہ خطاب
ازقلم عبدالقیوم شاکر القاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماءنظام آباد
9505057866
کافر سمجھتے ہیں کہ مرنے کے بعد کوی دوسری زندگی نہیں ہوگی بس یہ دنیا کی زندگی ہی سب کچھ ہے یہودی سمجھتے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھاے جائیں گےمیدان حشر قائم ہوگا حساب وکتاب ہوگا لیکن ہم اللہ کے بیٹے ہیں جنت ہماری ملکیت ہے عیسای سمجھتے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھاے جائیں گے حساب وکتاب ہوگالیکن خداوند یسوع مسیح کا خون ہمارے گناہوں کاکفارہ بنے گا اور ہم سیدھے جنت میں چلے جائیں گے اسلام کہتاہیکہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھاے جائیں گے حساب وکتاب ہوگا میزان عدل قائم کیا جاے گا لیکن تمہارے اعمال کی بنیاد پر تمہارے فیصلے کےء جائیں گے

اس وقت نہ مال ودولت کام آے گا نہ اولاد نہ کسی کاخون نہ دوستی نہ لین دین نہ ہی رشوت ہاں البتہ شفاعت کام آے گی مگر وہ بھی ان کی جن کو اللہ نے چاہا جس کو اللہ کی جانب سے اجازت ہوگی وہی شفاعت کرے گا سیدالانبیاء کو اللہ تعالی نے مقام شفاعت عنایت فرمایا ہے لیکن جس کو اللہ چاہیں گے ان کی شفاعت نبی کریں گے من ذالذی یشفع عندہ الاباذنہ فرمایاکہ حقوق العباد کی اللہ کے یہاں معافی نہیں ہے اللہ تعالی اپنے حقوق سے چشم پوشی فرمادیں گے لیکن بندوں کے حقوق کے سلسلہ میں دوہی راستے ہوں گے یاتومعافی یاتلافیدنیاہی میں اپنے حق والے سے معافی مانگ لو یاپھر اس کاحق اداکردو اس دنیامیں آنکھ بند ہونے سے پہلے پہلے جو کرنا ہووہ کرلو مرنے کے بعد کوی راستہ نہیں ہوگا سواے اس کے کہ اللہ تعالی ہماری نیکیاں ان حق والوں کو دے دیں گے اور جب ہماری سب نیکیاں ختم ہوجائیں گی اور حق والے ابھی باقی رہیں گے تو ان کے گناہ ہمارے سر ڈال دییے جائیں گے جس کی وجہ سے ہمارے اپنے گناہ بھی اور دوسروں کے گناہوں کابوجھ بھی تو برائیوں کاپلڑا بھاری ہوجاے گا
اسی بات کو اللہ کے نبی نے فرمایا المفلس من امتی من یأتی یوم القیامۃ بصلاۃ وصیام وزکوۃ ویأتی قد شتم ھذا وأکل مال ھذاایک آدمی نماز روزہ زکوۃ حج اور صدقہ وخیرات سب اپنے ساتھ لاے گا مگر اس نے دنیا میں کسی کو ناحق ماراتھا ناحق کسی کا مال کھالیاتھا ناحق کسی کا قتل کیا تھا تو اللہ تعالی اس کی ساری نیکیاں دوسروں کو دیدیں گے اور یہ سب کچھ اعمال ہونے کے باوجود اب قلاش اور مفلس کہلاے گا

اللہ کے نبی نے فرمایاکہ محشر میں ایک آدمی اپنے سرپراونٹ کو اٹھاے ہوے ہوگااونٹ آواز کررہا ہوگا جس کی وجہ سے سب لوگ اس کو دیکھیں گے وہ آدمی مجھکو پکارے گا کہ یارسول اللہ میری کچھ مدد کیجیےء توجواب دوں گا کہ آج میں تمہاری کوی مدد نہیں کرسکتا میں نے دنیا ہی میں بتادیا تھا کہ یہ سب کچھ ہونے والاہے اس لےء اس بات کو سمجھ لو کہ اصل دین اللہ کی طاعات ومرضیات پر چل کر نافرمانیوں سے اور حقوق العباد کو تلف کرنے سے بچنا جس کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہیکہ ہم اللہ کے اوربندوں کے حقوق کو اداکرنے والے بنیں اپنے تمام معاملات کو صاف کرلیں کسی کو بھی دھوکہ نہ دیں نہ لوگوں کو نہ حکومتوں کو حضرت تھانوی کا مشہور واقعہ ہیکہ کسی نے گنے کی بوری لاکر دی تو آپ نے اس کابھی ٹکٹ کٹوانے لگایا اور کرایہ دیا اور فرمایاکہ مجھے اللہ کے سامنے جانا ہے وہاں اس کا جواب دینا پڑے گاایک صاحب نے اپنے پڑوسی کی دیوار کی مٹی سے ہاتھ صاف کرنے کو معمولی بات کہی اسی رات ان کو خواب میں بتایا گیا کہ جس بات کو تم معمولی سمجھ رہے تھے اس کاعذاب یہ ہوگا اور آج معلوم ہوگا کہ کتنی معمولی بات ہے تو وہ تیس سال تک اس منظر کو یاد کرکے روتے رہے کسی بھی گناہ کو معمولی نہ سمجھیں

حضرت عائشہ کوفرمایا ایاک ومحقرات الذنوب گناہوں کو معمولی سمجھنے سے بچو آج لوگ ملازمتوں میں دھوکہ دیتے ہیں کفار ومشرکین کو دہوکہ دیتے ہیںحالانکہ اسلام نے ان تمام چیزوں سے منع کیا اپنے اعمال کی جزاء وسزاء وہاں ملنے والی ہے اوراللہ کے نبی نے اپنی پھوپی حضرت صفیہ اور چہیتی بیٹی حضرت فاطمہ سے کہا کہ اللہ کی پکڑ سے میں بھی تم لوگوں کو بچا نہیں سکتابندگی تقوی اورپرہیز گاری کا 90 فی صد تعلق معاملات سے ہے معاملات کی صفائی بہت اہم ہے

اسی لےء حضرت تھانوی علیہ الرحمۃ فرمایاکرتے تھے کہ معاملات ومعاشرت کہ درستگی ایک اعتبار سے عبادات سے بھی اہم ہے حسن خاتمہ چاہتے ہوتوپوری زندگی معاملات کو صاف ستھرا رکھو اسی کے ساتھ اپنے والدین کی خدمت کرکے جنت کے حقداربن جاؤ ان کی ناراضگی سے رب ناراض ہوجاتے ہیں شوہروں کو چاہیے کہ اپنی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کریں یہ نبی کہ سنت ہے اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت کی بھی فکر کریں اولاد تمہاری ملکیت نہیں ہے بلکہ اللہ کی امانت ہے اس لےء اللہ تعالی جیسا دیکھنا چاہتے ہیں ان کو ویسا بناؤ روزی روٹی کی ذمہ داری وہ اللہ کی ہے اور تربیت کرنا یہ ہماری ذمہ داری ہے اس لےء اس سے غفلت نہ برتو اسی طرح علماء کو چاہیے کہ وہ اپنے مسلمان بچے اور بچیوں کے ایمان وعوائد کء تحفظ کے لےء جگہ جگہ دینی موثر مکتب قائم کریں اللہ پاک ہم سب کو عمل کی توفیق دے آمین