معطل انسپکٹر پولیس کی مجرمانہ حرکتوں کا حیرت انگیز انکشاف

تازہ خبر تلنگانہ جرائم حادثات
 تعزیرات ہند اور آرمس ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج
حیدرآباد۔21 جولائی
 (ایجنسیز )
تلنگانہ کے حیدرآباد میں بدنام زمانہ مریڈ پلی کے انسپکٹر پولیس ناگیشور راؤ ایک ایسے عہد یدار کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں جو ٹاسک فورس میں اہم معاملات کو حل کرنے سے شہرت رکھتے ہیں۔ بحیثیت انسپکٹر ٹاسک فورس شمالی منطقه 7 سال تک خدمات انجام دیئے اس دوران کئی ایک اہم ترین معاملات کو حل کیا۔ انہوں نے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کی نشاندہی کی اور منشیات کے اسمگلرس کو بھی دھر دبوچا۔ نامی گرامی ایسے مجرموں کو جوفرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے پکڑنے میں کامیاب رہے ۔
معطل انسپکٹر پولیس جس نے بندوق کی نوک پر ایک شادی شدہ خاتون کی عصمت دری کی ۔ تحقیقات کے دوران چوکنا دینے والے حقائق سامنے آئیں۔اس کیس کی تحقیقات کرنے والے عہد یداروان نے ہم شواہد اکٹھے کر لئے ہیں ۔ پولیس ونستھلی پورم نے خاطی معطل انسپکٹر کے خلاف عصمت دری اغواء قتل کی کوشش اور مخالف اسلحہ قانون کے تحت مقدمہ درج رجسٹر ڈ کیا ہے متاثرہ خاتون کا بیان قلمبند بھی کیا قبل از میں اس کا طبی بھی معائنہ بھی کرایا گیا۔
 پولیس کے سراغ رساں ماہرین نے اس کمرہ سے بال، کمبل اور شیشے برآمد کئے جہاں ناگیشور راؤ نامی انسپکٹر نے خاتون کے ساتھ زیادتی کی تھی۔ تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ متاثرہ خاتون کے شوہر نے انسپکٹر ناگیشور راؤ کو قابل اعتراض حالت کے دوران ہی لاٹھی سے ناصرف حملہ کیا تھا بلکہ اس کے کپڑے بھی چھین لئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان تمام کو سائنٹیفک جانچ کے لئے لیباریٹری کو بھیج دیا گیا۔
 اے سی بی ونستھلی پورم مسٹر پرشوتم ریڈی نے جو مذکورہ مقدمہ کی تحقیقات کر رہے ہیں اس علاقہ کا معائنہ کیا جہاں سڑک حادثہ پیش آیا جب متاثرہ خاتون اور اس کے شوہرکور یورالور کی نوک پر اغواءکرتے ہوۓ کار کے ذریعہ نقل کیا جارہا تھا۔ متاثرہ خاتون کے گھر کے قریب الیکٹرک شاپ کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے ۔ ناگیشور راؤ کی کارابراہیم پٹنم روڈ پر نصب سی سی ٹی وی کیمرے میں ریکارڈ ہوئی۔
 جس کو پولیس نے اپنے قبضہ میں لے لیا۔ اغواء میں استعمال ہونے والی کار متاثرہ کے موبائل فون کو بھی پولیس نے حاصل کر لیا۔ ناگیشور راؤ نے موقع پر پہنچی پولیس کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ ایک آکٹوپس آفیسر ہے اور کانسٹبل کے ساتھ سفر کرتے وقت اس کی کارکو حادثہ پیش آیا تھا۔ تا ہم اس کی موٹر کار کو ٹرونگ گاڑی کے ذریعہ چمپا پیٹ منتقل کیا۔ اس معاملہ میں ناگیشور راؤ کا ہوم گارڈ نے بھی اپنا رول ادا کیا ہے ۔
ہوم گارڈ پروین کا بھی پولیس نے بیان قلمبند کیا۔ عصمت دری کے بعد انسپکٹر ناگیشور راؤ نے اپنے کپڑے خود دھوۓ ۔اس کے بعد وہ ماریڈ پلی پولیس اسٹیشن ایسا پہنچا جیسے کہ واقعہ سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ سب پولیس تفتیش کے دوران انکشاف ہوا۔
انسپکٹر نے اپنے ریوالور کو پولیس اسٹیشن میں رکھا اور بنگلورفرار ہو گیا۔ پولیس نے گرین ہلز کالونی اور کتہ پیٹ میں اس کی رہائش گاہوں کی تلاشی لی اور عصمت دری کے دوران زیب تن پتلون شرٹ اور انڈرویر کو ضبط کرلیا۔ پولیس نے 10 جولائی کو خاطی انسپکٹر ناگیشور راؤ کو گرفتار کیا اور ونستھلی پورم علاقہ کے ایک ہاسپٹل میں میڈیکل کوڈ اور جنسی فٹنس کا ٹسٹ کرانے کے بعد حیات نگر کی ایک عدالت کے بیج کے سامنے پیش کیا جسے معزز مجسٹریٹ نے 14 دن کے لئے ریمانڈ میں دیدیا تھا جس کے بعد اسے چیرلہ پلی جیل منتقل کیا ہے
واضح رہےمریڈ پلی کے انسپکٹر آف پولیس کے ناگیشور راؤ، جسے ایک خاتون کی عصمت دری اور قتل کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے، نے ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے، حالانکہ پولیس اس کی 10 دن کی تحویل میں لینے کی تیاری کر رہی ہے۔ عدالت میں جمع کرائی گئی ریمانڈ رپورٹ، جس کی ایک کاپی TNIE کے پاس ہے، میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔