ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو عبرتناک شکست۔

تلنگانہ قومی

آر جے ڈی امیدوار امر پاسوان کی کامیابی
شتروگھن سنہا بنگال کے آسنسول سے ایم پی منتخب۔ ممتا کی مبارکباد

نئی دہلی :16؍اپریل
(اے ایم این ایس)
ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے امیدوار شتروگھن سنہا نے مغربی بنگال کی آسنسول لوک سبھا سیٹ کے ضمنی انتخاب میں اپنے حریف بی جے پی امیدوار اگنی مترا پال پر تقریباً 3 لاکھ ووٹوں کے بڑے فرق سے کامیابی حاصل کی ہے۔ ساتھ ہی ٹی ایم سی امیدوار بابل سپریو نے بالی گنج اسمبلی سیٹ کے ضمنی انتخاب میں تقریباً 20 ہزار ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی ہے۔

آسنسول لوک سبھا سیٹ پر ٹی ایم سی امیدوار شتروگھن سنہا کو 6,46,661 ووٹ ملے۔ جبکہ ان کے خلاف بی جے پی امیدوار اگنی مترا پال کو صرف 3,50,015 ووٹ مل سکے۔ اس طرح بہاری بابو کے نام سے مشہور شتروگھن سنہا ایک بار پھر لوک سبھا میں واپس آگئے ہیں۔

شتروگھن سنہا، جو کہ بی جے پی سے ایک سے زیادہ بار ایم پی رہ چکے ہیں، 2019 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے کانگریس میں شامل ہو گئے تھے۔ کانگریس نے سنہا کو اپنے گڑھ ‘پٹنہ صاحب’ سے میدان میں اتارا تھا، لیکن وہ بی جے پی لیڈر روی شنکر پرساد سے الیکشن ہار گئے۔

واضح رہے کہ 2019 میں اس سیٹ پر بی جے پی کا قبضہ تھا اور بابل سپریو بی جے پی کے ٹکٹ پر یہاں سے ایم پی بنے تھے۔ تاہم، یہ نشست بابل سپریو کے بی جے پی سے استعفیٰ دینے اور ٹی ایم سی میں شامل ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔

ٹی ایم سی نے یہاں سے لوک سبھا ضمنی انتخاب میں شتروگھن سنہا کو اپنا امیدوار کھڑا کیا ہے۔ دوسری طرف بالی گنج سے اسمبلی ضمنی انتخاب میں پارٹی نے بابل سپریو کو میدان میں اتارا تھا

وہیں وچاہن ضمنی انتخاب ( بوچاہن ودھان سبھا اپچوناو ) میں بی جے پی امیدوار بے بی کماری کو عبرتناک شکست ہوئی ہے۔ آر جے ڈی امیدوار امر پاسوان نے انہیں 36,653 ووٹوں سے شکست دی۔ آر جے ڈی کو یہاں 82,562 ووٹ ملے جبکہ بی جے پی امیدوار بے بی کماری کو 45,909 ووٹ ملے۔

ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی یہ شکست حیران کن نہیں ہے۔ ضمنی انتخاب کے اعلان کے بعد سے ہی این ڈی اے یہاں دو دھڑوں میں بٹی ہوئی دیکھی گئی۔ جب کہ آر جے ڈی متحد تھی۔ اس کی وجہ سے الیکشن کے وقت سے ہی یہ قیاس آرائی کی جارہی تھی کہ این ڈی اے بوچاہان میں پھنس سکتی ہے اور ایسا ہی ہوا۔