مغربی بنگال میں ٹی ایم سی لیڈر کے قتل کے بعد تشدد ۔ 10 افراد زندہ جل گئے

تازہ خبر قومی

مشتعل لوگوں کی جانب سے درجنوں گھروں کو آگ لگانے کا الزام
کولکتہ: 22؍مارچ
(اے ایم این ایس)
مغربی بنگال کے بیر بھوم میں ترنمول لیڈر کے قتل کے بعد بھڑکنے والے تشدد میں دس لوگوں کی جانیں گئیں۔  بتایا جاتا ہے کہ بگوٹی گاؤں میں ٹی ایم سی لیڈر بھدو شیخ کے قتل کے بعد مشتعل لوگوں نے مبینہ طور درجنوں مکانات کو آگ لگا دی۔

جس میں 10 افراد زندہ جل گئے۔ پولیس کو ایک ہی گھر سے 7 لاشیں ملی ہیں۔، یہ واقعہ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے ایک لیڈر کے قتل کے بعد پیش آیا۔بتایا جاتا ہے کہ ایک مشتعل ہجوم نے کل دیر رات رام پورہاٹ شہر کے مضافات میں واقع بوگتوئی گاؤں میں گھس کر 10 سے 12 مکانات کو آگ لگا دی۔

رام پورہاٹ فائر اسٹیشن کے ایک اہلکار عزیز الحق نے میڈیا کو بتایا کہ سوموار کی رات تین جلی ہوئی لاشیں برآمد کی گئیں جب کہ مزید سات لاشیں منگل کی صبح ایک گھر سے ملی۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ (بیربھوم) ناگیندر ناتھ ترپاٹھی جنہوں نے صبح پولیس کی ایک جمعیت کے ساتھ علاقہ کا معائنہ کیا تاہم صرف سات دیہاتیوں کی موت کی تصدیق کی۔ رات تک جاری آتشزدگی کے دوران کئی دیگر مکانات کو بھی نذر آتش کر دیا گیا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق ریاست کے بیر بھوم میں آگ لگنے سے 10 لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔  بتایا جا رہا ہے کہ رام پورہاٹ میں ترنمول کانگریس کے نائب صدر کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے یہ واقعہ کچھ لوگوں نے انجام دیا ہوگا۔ تمام لوگوں کو جلانے کی باتیں منظر عام پر آ رہی ہیں۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور آگ بجھانے کا کام شروع کردیا۔ اتنا ہی نہیں ڈی ایم سمیت بیر بھوم کے تمام بڑے افسران بھی موقع پر پہنچ گئے۔ پولیس معاملے کی جانچ کر رہی ہے کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا

بتایا جاتا ہے کہ بوکتوئی گاؤں میں ٹی ایم سی لیڈر بھدو شیخ کے قتل کے بعد تشدد ہوا جو رام پورہاٹ بلاک I میں بوروشال گرام پنچایت کے اپا پردھان (نائب سربراہ) تھے۔
پیر کی شام وہ چائے کے اسٹال پر تھے۔ اچانک چار بدمعاشوں کے ایک گروہ نے جو موٹرسائیکلوں پر اپنے چہرے ڈھانپے ہوئے تھے، اس پر بم پھینک دیا۔ مہلک زخموں کے ساتھ شیخ کو رامپورہاٹ اسپتال لے جایا گیا جہاں اسے مردہ قرار دیا گیا۔