ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی پر ناکام قاتلانہ حملہ، چاقو بردار ملزم گرفتار

تازہ خبر عالمی

کراچی

ویب ڈیسک

ذرائع کے مطابق دارالعلوم کورنگی کے نائب مہتمم اور ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی پر ایک بار پھر قاتلانہ حملہ ہوا تاہم وہ اس بار بھی خوش قسمتی سے محفوظ رہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق حملہ آور نے نماز فجر کے بعد مفتی تقی عثمانی سے علیحدگی میں بات کرنے کا کہاجس پر مفتی تقی عثمان اس کے ساتھ ایک
طرف ہو گئے

جہاں حملہ آور نے چاقو نکال کر مفتی تقی عثمانی پر حملہ کر دیا مگر گارڈز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملے آور کو پکڑ لیا ۔حملے میں مفتی تقی عثمانی کو کوئی گزند نہیں پہنچا ، حملہ آور کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ۔

ایس ایس پی کورنگی شاہجہان خان کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص نے بعد نماز فجر مفتی تقی عثمانی سے علیحدگی میں ملاقات کی خواہش کا اظہار کای، اور دعویٰ کیا کہ گھریلو مسئلے کے حوالے سے مفتی تقی عثمانی سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں، لیکن جب محافظ نے اس شخص کی تلاش لی تو جیب سے چاقو نکل آیا، جیب سے چاقو برآمد ہونے پر محافظوں نے اسے پکڑ لیا اور پولیس کے حوالے کر دیا، زیر حراست مشتبہ شخص سے پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری ہے۔

ایس ایس پی کورنگی کے مطابق ملزم کراچی کے علاقے گلستان جوہر کا رہنے والا ہے اور بظاہر ذہنی پریشان لگتا ہے ۔ میڈیا سے گفتگو میں مفتی زبیر نے بتایا کہ بعد نماز فجر ملزم نے مفتی تقی عثمانی سے بات کرنے کی کوشش کی ، ملزم نے جیب سے خنجر نکالا اور واپس رکھ لیا کہ اس دوران گارڈ نے فوری ملزم کو دبوچ لیا۔

واضح رہے کہ مارچ 2019 میں بھی کراچی کے علاقے نیپا چورنگی کے قریب مفتی تقی عثمانی کے قافلے کو نامعلوم ملزمان کی جانب سے نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہوگئے تھے، فائرنگ کے نتیجے میں مفتی تقی عثمانی محفوظ رہے تاہم ان کے گارڈ سمیت ڈرائیور جاں بحق ہوگیا، جب کہ گاڑی میں سوار مولانا شہاب سمیت 2 افراد شدید زخمی ہوگئے تھے اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔