اللہ تعالی اعلی علیین میں جگہ عطاء فرمائے جمعیۃ علماء کاماریڈی کا تعزیتی اجلاس سے مفتی عمران خان قاسمی کا بیان
کاماریڈی :5؍اپریل
(زین نیوز ڈاٹ نیٹ)
حضرت مولانا سید محمد ولی صاحب رحمانی رحمتہ اللہ علیہ کے انتقال کی خبر عالم اسلام بالخصوص بھارت کے مسلمانوں کو بہت بڑا صدمہ پہنچا جمعیۃ علماء کاماریڈی کی جانب سے آج 4 اپریل بعد نماز ظہر دعائیہ نشست منعقد ہوئی تعزیتی کلمات پیش کرتے ہوئے مولانا مفتی عمران خان صاحب سکریٹری جمعیۃ علماء کاماریڈی نے اپنےبیان میں کہا کہ جانے والے تو چلے گئے لیکن وہ اپنے اعمال کے ساتھ ایک سبق دے کر گئے کہ ہم آنے والی زندگی کو درست کریں
بڑے بڑے اکابر اس دنیا سے جارہے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان کا کوئی جانشین نہیں بن رہا ہے ہماری صفوں کے اندر بہت زیادہ خلاء ہو رہی ہے ہم اہل علم کا طبقہ ان بزرگوں کی زندگی کو سامنے رکھ کر آئیڈیل بنا کر کام کرنے کی ضرورت ہے حضرت مولانا ولی رحمانی صاحب رحمت اللہ علیہ کی زندگی علمی میدان کے علاوہ وہ عملی میدان میں بھی بہت آگے تھے سیاسی میدان میں بے باک ہو کر مولانا نے ہمارے لیے بھرپور نمائندگی کی ہے

مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری کا عہدہ پر بہت بڑی خلاء پیدا ہوگئی ہے اس کا پورا ہونا بظاہر مشکل ہے اللہ تعالی امت کو مولانا کا نعم البدل عطاء فرمائے مولانا رحمت اللہ علیہ بہت سی خوبیوں کے مالک تھے مولانا کی زندگی کو آئیڈیل اور نمونہ بنائیں اور اسی کے مطابق اپنی زندگی کو گزارنے کی پوری کوشش کریں گے یہی خراج عقیدت دعا کرتے ہیں کہ اللہ پاک مولانا کی ساری خدمات کو قبول فرمائیںمولانا منظور عالم مجلس تحفظ ختم نبوت کاماریڈی نے کہا کہ اچھے لوگوں کی نام وکام کبھی نہیں مرتے وہ اپنی مادی جسمانی صورت سے تو آزاد ہوجاتے ہیں لیکن ان کی یادیں اور روحانی تعلق دلوں میں ہمیشہ رچ بس جاتا ہے ان ہی میں ایک حضرت مولانا سید محمد ولی صاحب رحمانی رحمتہ اللہ علیہ جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ہیں، سچائی تو یہ ہیکہ اب آپ نہیں رہے مگر آپکے اعلیٰ محاسن و کمالات، منفرادانہ اوصاف جمیلہ زندہ رہیں گے
حقیقت یہ ہیکہ آپکی وصال کا سانحہ بہت دیر تک ملت پر باقی رہے گا۔ حضرت کی شخصیت خدمات اور دوراندیشی کا احاطہ کرنا گویا دریا کو کوزے میں سمانا ہے حضرت مولانا جہاں عظیم المرتبت محقق و مدقق عالم دین، مدبر ومفکر دین تھے، وہیں جامع الکمالات، صادق الاعتقاد، حسن اخلاق کے مظہر، شرع محمدی کے امین، احیائے دین اور اعلاء کلمتہ اللہ کے اولوالعزم داعی، حرمت شریعت کے بلند نظر علمبردار، ملت اسلامیہ ہند کے صف اول کے جرأت مند بے باک حق گو رہنما، فصیح البیان تھے تو دوسری طرف صاحب نسبت ہونے کی وجہ سے اپنے دور کے اتقیاء اصفیاء اور اولیائے کاملین میں ممیز وممتاز اللہ والوں سے اکتساب کئے ہوئے فیض کو روحانی باپ کی حیثیت سے خانقاہ رحمانی مونگیر (بہار) کے سجادہ نشینی کی نسبت سے امت کی روحوں کو مضبوط اور دلوں کا تجلی فرمارہے تھے، یہی نہیں آپ علوم دینیہ، علوم عصریہ اور ملکی قوانین و سیاست کے داؤپیچ پر مکمل دسترس رکھتے تھے یہ خداداد صلاحیت تھی،
نیز جہاں معرفت و تصوف میں خانقاہ رحمانی کی وسیع خدمات سے انکار ممکن نہیں، وہیں رحمانی فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے بے مثال کاوشیں بھی آپ کی مرہون منت ہیں جہاں آپ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریڑی تھے تو امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ کے امیر شریعت اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کورٹ ممبر ہونے کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی ہیں
.حافظ محمد فہیم الدین منیری صدر جمعیۃ علماء نے مولانا کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ذمہ داران جمعیۃ علماء کاماریڈی کے علاوہ معلمین مکاتب دینیہ و علماء حفاظ و ائمہ مساجد کی کثیر تعداد نے ایصال ثواب اور دعاء مغفرت کی اللہ تعالی ہمیں حضرت والا کا نعم البدل عطاء فرماکر حضرت والا کے درجات کو بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے، آمین
