وزیر اعظم مودی نے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو بھی یاد کیا
لال قلعہ کی فصیل سے آٹھویں بار قوم سے خطاب
نئی دہلی :15؍اگسٹ
(زین نیوز؍ایجنسیز)
وزیر اعظم نریندر مودی نے 75 ویں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے آٹھویں بار قوم سے خطاب کیا۔ پی ایم مودی نے اپنی نیک خواہشات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ میں ان لوگوں کو مبارکباد دیتا ہوں جو ملک کو آگے لے جاتے ہیں۔ ملک عظیم شخصیات کا مقروض ہے۔ پی ایم مودی نے تالی بجا کر اولمپک جیتنے والوں کا استقبال کیا۔’، پی ایم مودی نےلال قلعہ سے تقریر کے اختتام پر’’یہ صحیح وقت ہے’ نظم پڑھی۔
57ویں یوم آزادی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو بھی یاد کیا۔ چھوٹے کسانوں کے لیے ایک نیا نعرہ دیا۔ نیز ، حالیہ اولمپکس میں ، کھلاڑیوں کے لیے تالیاں بجائی گئیں جو ملک کا نام بلند کرکے واپس اآئے ہیں

وزیر اعظم مودی اکثر بڑے مواقع پر پہلے وزیر داخلہ سردار پٹیل کو یاد کرتے ہیں ، لیکن اس بار انہوں نے یوم آزادی پر اپنے خطاب کا آغاز مہاتما گاندھی ، سردار پٹیل ، بھگت سنگھ ، کے ساتھ پنڈت نہرو کو بھی یاد کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ملک عظیم شخصیات کا مقروض ہے ،چاہے وہ قابل احترام باپو ہیں جنہوں نے آزادی کو ایک عوامی تحریک بنایا یا نیتا جی سبھاش چندر بوس ، جنہوں نے سب کچھ قربان کردیا۔ بھگت سنگھ ، چندرشیکھر آزاد ، بسمل اور اشفاق اللہ خان ، چاہے وہ رانی لکشمی بائی ہو یا آسام میں ماتنگنی ہزارہ کی طاقت ، پنڈت نہرو جی ، ملک کے پہلے وزیر اعظم ، سردار پٹیل ، جس نے ملک کو متحد کیا ، ایک جنہوں نے ہندوستان کی سمت اور راستہ طے کیا۔وہ بابا امبیڈکر ہوں ، ملک آج ہر شخصیت کو یاد کر رہا ہے۔ یہ ملک تمام عظیم شخصیات کا مقروض ہے
وزیراعظم نے تقسیم کے سانحہ کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا ، ‘تقسیم کا درد آج بھی ہندوستان کے سینے کو چھیدتا ہے۔ یہ گزشتہ صدی کے سب سے بڑے سانحات میں سے ایک ہے۔ آزادی کے بعد یہ لوگ بہت جلد بھول گئے۔ یہ کل ہی تھا کہ ہندوستان نے ایک پرجوش فیصلہ لیا کہ اب سے ہر سال 14 اگست کو تقسیم ویشیکا یادگار دن کے طور پر منایا جائے گا۔ جو لوگ تقسیم کے دوران غیر انسانی سلوک سے گزرے ، جنہوں نے مظالم سہے ، جنہوں نے عزت کے ساتھ آخری رسومات تک نہیں حاصل کیں ، ان لوگوں کو ہماری یادوں میں زندہ رہنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ مجھے بہت سی درخواستیں ملی ہیں کہ بیٹیاں بھی سینک سکولوں میں پڑھنا چاہتی ہیں۔ ڈھائی سال قبل میزورم کے سینک سکولوں میں تجرباتی بنیادوں پر بیٹیوں کو داخل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اب لڑکیاں بھی ملک کے تمام سینک سکولوں میں داخلہ لے سکیں گی۔ یہ بیٹیوں کے لیے کھول دیے جائیں گے۔

پی ایم مودی نے قومی ہائیڈروجن مشن کا اعلان کیا۔ یہ توانائی کے میدان میں ہندوستان کی نئی پیش رفت ہوگی۔ اس سے ہندوستان خود انحصار ہو جائے گا۔ اس سے سبز ملازمتوں کے مواقع کھلیں گے۔ ہندوستان کو آج ایک نئے نقطہ نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
خطاب میں پی ایم مودی نے کہا کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی میں زبان کی کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ کھیلوں کو اس کا اہم حصہ بنا دیا گیا ہے اب کھیل کے بارے میں آگاہی بڑھ گئی ہے۔ پہلے والدین کہتے تھے کہ اگر تم پڑھائی نہیں کرو گے تو تم کھیلتے رہو گے لیکن آج ان کا رویہ بھی بدل گیا ہے۔ اولمپکس بھی ایک بڑا موڑ ہے۔ بورڈ کے نتائج ہوں یا اولمپک گراؤنڈز ، بیٹیاں بہت اچھی کارکردگی دکھا رہی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کے نئے عہد کا آغاز ہو گیا ہے اور اس نئے عہد کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا اور کچھ ہی سالوں میں ہمیں اپنے مقصد کو حاصل کرنا ہوگا۔ کئی ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کے پیش نظر انہوں نے ریزرویشن کے مدے کو بھی بھنانے کی کوشش کی اور کہا کہ ملک کی ترقی میں کوئی پیچھے نہیں رہنا چاہیئے۔ اس موقع پر انہوں نے شمال مشرق، کشمیر، لداخ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ دور کنکٹیوٹی (روابط) کا دور ہے جس میں دلی کنیکٹوٹی کے ساتھ زمینی کنیکٹیوٹی بھی ضروری ہے

سینکڑوں پرانے قوانین کو ختم کر دیا گیا۔
ملک کے سینکڑوں پرانے قوانین کو ختم کر دیا گیا۔ 200 سال پہلے سے ایک قانون چل رہا تھا ، جس کی وجہ سے ملک کے شہری کو نقشہ سازی کی آزادی نہیں تھی۔ ایسے قوانین کا بوجھ اٹھانا درست نہیں تھا۔ اس لیے غیر ضروری قوانین کو ختم کر دیا گیا۔
وزیر اعظم نے آخر میں چند لائن پڑھیں کہ ترقی کا یہی صحیح وقت ہے اور اس سے پہلے انہوں نے بہت خوبصورتی سے دفعہ 370، جی ایس ٹی، رام جنم بھومی، سرجیکل اسٹرائک وغیرہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہندوستان بدل رہا ہے، ہندوستان بدل سکتا ہے، ہندوستان کڑے سے کڑے فیصلے لینے سے چوکتا نہیں ہے۔‘‘ وزیر اعظم نے بہت سے منصوبوں کا ذکر کیا لیکن وہ لوگوں میں وہ جوش نہیں بھر پائے جو ہر بار بھرتے تھے۔