مودی کی حکومت میں رجعت پسندی ملک کی جمہوریت کو کھوکھلا کر رہی ہے
حکومت نہیں کرسکتے تو اقتدار سے کنارہ کشی اختیار کرلیں
آپ تلنگانہ سرکار گرائیے ہم آپ کو دہلی سے اتار دیں گے۔وزیر اعلیٰ تلنگانہ
حیدرآباد 2؍ جولائی
(زین نیوز)
چیف منسٹر مسٹر چندرشیکھر راؤ نے تنقید کی کہ مودی کی حکومت میں رجعت پسندی سے بھر مار ہے جو ملک کی جمہوریت کو کھوکھلا کر رہی ہے۔وہ آج جل وہار میں اپوزیشن کے صدارتی امیدوار مسٹر یشونت سنہا کی حمایت میں جلسہ سے خطاب کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ مودی کے دور حکومت میں کوئی خوش نہیں ہے۔انہوں نے کہا که مودی وزیر اعظم کے بجائے ملک کے لیے سیلز مین کا کام کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سری لنکا کے سرکاری دورے کے دوران ملک کی ساکھ کو کم کرنے اور سری لنکا کی حکومت کو "اپنے تاجر دوست” کو پاور پروجیکٹ کا ٹھیکہ دینے پر مجبور کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے دراصل ایک سیلز مین کے طور پر کام کیا ہے تاکہ ’’اپنے تاجر دوست‘‘ کے مفادات کو آگے بڑھایا جا سکے۔
Modi is not Prime Minister..
He is Working as a salesman for Ambani and Adani – CM KCR 🔥🔥#ModiMustAnswer@KTRTRS @ysathishreddy @pbhushan1 pic.twitter.com/fDRnuCLkzz
— Akshay (@AkshayBRS) July 3, 2022
انہوں نے یاد دلایا کہ سری لنکا میں لوگوں نے مودی کے روۓ کے خلاف احتجاج کیا۔ چیف منسٹر نے یہ جاننا چاہا کہ وزیراعظم سری لنکا کے الزامات پر خاموش کیوں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم مودی سری لنکا کے معاملے پر جواب نہیں دیتے ہیں تو انہیں قصوروار کے طور پر دیکھنا پڑے گا۔ کے پی آر نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ مودی کے آٹھ سال کے دور حکومت میں مہنگائی میں حد درجہ اضافہ ہوا ہے جو عام آدمی کیلئے نا قابل برداشت ہو گیا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ترقی کے نام پر ملک کو تباہ کیا اور کہا کہ وزیر اعظم مودی نے بدعنوانی سے پاک ہندوستان کی تشکیل پر بلند بانگ دعوے کئے ہیں انہوں نے یہ جاننا چاہا کہ وہ کتنا کالا دھن واپس لاۓ ہیں۔انہوں نے کہا کہ مودی کے دور حکومت میں بدعنوان افراد کا اضافہ ہوا۔ کالے دھن پر قابو پانا تو درکنار اس میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ تر قی ہے؟ کے سی آر نے تنقید کرتے ہوۓ کہا کہ مودی وزیراعظم نہیں ہیں بلکہ اپنے دوستوں کیلئے کام کر رہے ہیں وہ ملک کے سہوکاروں کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔
انہوں نے ہفتہ کے روز یہاں وزیر اعظم کو نشانہ بناتے ہوئے کہا، ’’ہندوستان کو کبھی بھی شرم سے سر جھکانا نہیں پڑا کیونکہ کسی اور وزیر اعظم نے مودی کی طرح ہندوستان کی ساکھ کو ‘نقصان نہیں پہنچایا’۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ہندوستان کے 15ویں وزیر اعظم ہیں اور سابقہ 14 وزیر اعظم کے معاملے میں ہندوستان کی امیج کبھی بھی اتنی متاثر نہیں ہوئی ہے۔
ٹی آر ایس صدر نے کہا کہ کسی اور وزیر اعظم کے دور میں روپے کی قدر میں اتنی کمی نہیں ہوئی ہے۔ اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ دوسرے ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا ملک کی اشد ضرورت ہے، انہوں نے امریکی انتخابات کے دوران مودی نے ’اب کی بار ٹرمپ حکومت‘ کہہ کر ٹرمپ کی حمایت کا مذاق اڑایا۔ "ایسا غیر ذمہ دارانہ بیان کہنے کے پیچھے آپ کا کیا مقصد تھا؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ احمد آباد میونسپل الیکشن تھے؟
Why is only Indian Rupee falling, Modi ji?#ModiMustAnswer pic.twitter.com/DZgX9CgOzN
— BRS Party (@BRSparty) July 2, 2022
انہوں نے مودی پر سرکاری نظام کا غلط استعمال کا الزام بھی لگایا۔ ملک میں کسان ، فوجی ، بے روزگار اور ملازمین پریشانی کا شکار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مودی کی کارکردگی سے بین الاقوامی سطح پر ملک کی ساکھ متاثر ہورہی ہے۔ چیف منسٹر نے نشاندہی کی کہ ملک میں کوئلے کے کافی ذخائر ہونے کے باوجود مرکز ریاستوں کو بیرون ملک سے کوئلہ خریدنے کا حکم دے رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مودی کے خلاف عوام کا غصہ بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہاسمجھ سکتے ہیں کہ مودی کا راج کیا ہے۔مودی کو شاکروں کے سیلز مین کے طور پر مچنڈا لگایا گیا تھا۔ کے سی آر نے کہا کہ مودی کا میک ان انڈیا ایک فریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی سے ان کا کوئی ذاتی اختلاف نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں مودی کی پالیسیوں پر اعتراض ہے۔ چیف منسٹر نے واضح کیا کہ وہ خاموش نہیں رہیں گے بلکہ انکی لڑائی جاری رہے گی ۔مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور راست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ حکومت نہیں کر سکتے تو اقتدار سے کنارہ کشی اختیار کر لیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں ملک کی ساکھ دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ کسی تاخیر کے بغیر کے سی آر نے اپوزیشن کے صدارتی امیدوار یشونت سنہا کی حمایت میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ کے سی آر نے کہا کہ اقتدار مستقل نہیں ہوتا۔
مودی سے پہلے کئی وزیر اعظم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی کوئی خدا تو نہیں ہیں جو ہمیشہ اقتدار سے جڑے رہیں گے ۔ ملک کا تمام محاذوں پر دیوالیہ نکل رہا ہے زندگی کے تمام شعبوں کے لوگ پریشان ہیں۔مودی انتظامیہ ہر محاذ پر نا کام ہو چکا ہے۔
مودی کی زیر قیادت حکومت جمہوریت کے تانے بانے کو تباہ کر رہی ہے۔ تمام محکموں کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ مودی کے دور حکومت میں 8 حکومتیں گرائی گئیں۔ حیدرآباد میں جو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں وہ کہہ رہے ہیں مہاراشٹر میں جیسا سرکار گرائے ہیں تلنگانہ میں دیکھنے کو ملے گا تلنگانہ میں بھی سرکار گرایں گے۔ ٹھیک بات ہے گرائیے ہم بھی انتظار کررہے ہیں اس بات کا ہم بھی فری ہوجائیں گے۔آپ کو دہلی سے اتار دیں گے
CM KCR SIR👌🔥
DON'T MISS THE END 🔥@KTRTRS#ByeByeModi pic.twitter.com/WM3iW4SURg— Seeker (@CA_ASQ) July 3, 2022
کے سی آر نے کہا کہ مودی کی حکومت میں عوام کا کوئی بھی طبقہ خوش نہیں ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا مودی نے اپنا کوئی ایک وعدہ پورا بھی کیا ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر مودی ایک بھی وعدہ پورا کئے ہیں تو وہ کی نشاندہی کر یں۔انہوں نے کہا کہ ٹارچ کی روشنی سے تلاش کرنے کے بعد بھی مودی کا وعدہ پورا ہوا دیکھائی نہیں دیتا۔ مودی حکومت نے کسی بھی برادری کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ کسانوں نےمرکز کے سیاہ زرعی قوانین کے خلاف 3 1ماہ تک احتجاج کیا۔
مگر انہوں نے ان کسانوں کی توہین کی ۔ اس احتجاج میں 700 کسان فوت ہوئے ۔ ٹی آرایس حکومت ان کسانوں کے متاثرین کو فی کس 3لاکھ روپیئے دی تو میدان کو برداشت نہیں ہوا۔
چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ وزیر اعظم کی متضاد پالیسیوں کی وجہ سے ملک نے بین الاقوامی سطح پر تمام اشاریہ جات میں بری کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت تمام محاذوں پر ناکام ہو چکی ہے یہاں تک کہ قومی دارالحکومت نئی دہلی کو بھی پانی کے بحران کا سامنا ہے۔ قوم دیکھ رہی ہے اور جواب مانگ رہی ہے۔ سیاسی تبدیلی آئے گی۔ اس ملک میں اب بھی جمہوریت ہے،” انہوں نے کہا، اتوار کی شام پریڈ گراؤنڈ میں اپنی تقریر میں وزیر اعظم سے تمام الزامات کا جواب دینے کو کہا۔
یشونت سنہا کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل
مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے صدارتی انتخاب میں پارٹی کے ہے۔ مقننہ ارکان سے کہا کہ وہ ضمیر کی آواز پر مسٹر یشونت سنہا کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی ۔انہوں یفکیشن نے کہا کہ وہ عوامی نمائندوں کی جانب سے ہم یشونت سنہا کا تہہ دل سے خیر مقدم کرتے ہیں ۔ یشونت انکہ سنہا ایک عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز بطور وکیل کیا اور مختلف حیثیتوں میں ملک کی دوں کو خدمت کی ۔انہوں نے کہا کہ وہ وزیر فینانس کے طور پر کام کر چکے ہیں اور انہیں تمام شعبوں میں وسیع تر ں میں تجربہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں معیاری تبد یلی لائی جائے۔
کے سی آر نے تیسری بار ہوائی اڈے پر پی ایم مودی کا استقبال نہیں کیا
قابل ذکر بات یہ ہے کہوزیر اعظم نریندر مودی ہفتہ کو بی جے پی کی قومی ایگزیکٹو میٹنگ کے لئے حیدرآباد پہنچے۔ تلنگانہ کے وزیر اعلی کے چندر شیکھر راؤ وزیر اعظم کے استقبال کے لیے ہوائی اڈے پر موجود نہیں تھے، چھ ماہ میں یہ تیسرا واقعہ ہے۔ لیے ہوائی اڈے پر موجود نہیں تھے، چھ ماہ میں یہ تیسرا واقعہ ہے۔
چیف منسٹر کے اس اقدام سے حکمراں تلنگانہ راشٹرا سمیتی اور بی جے پی کے درمیان لفظی جنگ چھڑ گئی ہے۔ اس کے بعد کے سی آر اپوزیشن کے صدارتی امیدوار یشونت سنہا کا استقبال کیا جو وزیر اعظم سے کچھ گھنٹے قبل ریاستی دارالحکومت میں اترے تھے۔
پی ایم مودی کاریاستی وزیر سینما آٹوگرافی، انیمل ہسبنڈری و فشریز تلسانی سرینواس یادو اور تلنگانہ راشٹرا سمیتی (ٹی آر ایس) کے کئی دیگر قائدین نے استقبال کیا۔ "وہ اسے کیوں قبول کرے؟ پروٹوکول کے مطابق ریاست کے نمائندے کو جا کر دعوت نامہ دینا ہوتا ہے۔ لہذا، میں بطور وزیر ان کا استقبال کرنے جا رہا ہوں،