اتنا بڑا کام خدا کی توفیق ساتھیوں کی رہبری اور دارالعلوم کی روحانی تربیت کی بدولت ہی ممکن ہوسکا۔قاری ابو الحسن اعظمی
دیوبند،30؍اگست
(رضوان سلمانی)
دیوبند کے قاسم پورہ روڑ پر واقع معروف دینی ادارہ دارالعلوم اشرفیہ دیوبند میں رسم اجراء کی ایک تقریب منعقد ہوئی ۔اس تقریب میں صدر القراء اور 134؍کتابوں کی مصنف قاری ابو الحسن اعظمی کی تین کتابوں کا اجراء عمل میں آیا۔ادارہ کے شیخ الہند حال میں ارباب وعلم وفضل کی موجودگی میں اس تقریب رسم اجراء کا آغاز حافظ محمد سعد لکھنوی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔
نظامت کے فرائض ادارہ کے مہتمم مولانا سالم اشرف قاسمی نے انجام دیئے۔ دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ اور معروف قلم کار حضرت مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے قاری ابو الحسن اعظمی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا موصوف تجوید وقرأت کا روشن چراغ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک ہی موضوع پر 134؍کتابیں لکھنا کسی کرامت سے کم نہیں ہے۔
حضرت قاری صاحب منکسر المزاج،بلند اخلاق،ہمدرد وغمگسار،مہذب ومہمان نواز،معاملات کے کھرے،نہات نفیس طبیعت اور اعلی ظوق کے حامل ہیں۔مولانا نسیم اختر نے کہا کہ قاری ابو الحسن نے محنت شاقہ و تحقیق وجستجو کی جتنی منزلیں طے کی ہیںاور اس فن قرأت پر تن تنہا جو کارہائے نمایاں انجام دیا ہے وہ ایک ادارہ اور اکیڈمی سے بھی انجام دینا ممکن نہیں تھا۔
معروف عالم دین مولانا ندیم الواجدی نے کہا کہ قاری ابو الحسن تجوید وقرأت کی دنیا کا ایسا نام ہے جس کے ارد گرد عظمتوں کا ہالہ بنا ہوا ہے آپ علم وادب کا کوہ ہمالہ ،عظمتوں رفعتوں کا نشان ،فضائل وکمالات کا مخزن،دیدہ وری اور دانشوری کا عنوان،علم وقلم کا دھنی،تقوی وطہارت کا پیکر،ابو الحسن اعظمی نام آتے ہیں یہ صفات عملی شکل میں ذہن کے ارد گرد گردش کرنے لگتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان سے میرابڑا قدیم رشتہ ہے وہ بڑے بااخلاق اور باوضع انسان ہیں۔بعد ازاں مولانا فضیل احمد ناصری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تجوید وقرأت جیسے خشک موضوع پر 134؍کتابیں لکھنا ان کی کرامت اور توفیق خداوندی کا کرشمہ ہی کہا جاسکتا ہے جس سے ہمیں کام کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔
آن لائن فتوی کے چیئرمین مولانا ارشد فاروقی نے کہا کہ قاری صاحب گلشن علم وفن کا مہکتا ہوا پھول ہیں۔انہوں نے کہا کہ قاری صاحب کی زندگی میں بہت سے ایسے مشکل مراحل آئے جس کی وجہ سے ان کی ملازمت کا چراغ بھی بجھتا دکھائی دینے لگا لیکن آپ نے پروردگار کی رزاقیت پر یقین رکھتے ہوئے کسی بھی حاکم کی دہلیز پر اپنے خود داری کو سجدہ نہیں کرنے دیا۔عالمی شہرت یافتہ شاعر ڈاکٹر نواز دیوبندی نے کہا کہ قاری صاحب کے دماغ کو اللہ تعالیٰ نے عقل ودانش کے چراغ سے منور کیا ہے آپ کے قلب کو حقیقت آشنااور صالح افکار وخیالات کا حامل بنایا۔
انہوں نے کہا جو ایک دفعہ ان سے مل لیتا ہے ہمیشہ کے لئے ان کا ہوجاتا ہے۔نگلہ راعی سے تشریف لانے والے مولانا مفتی بلال نے مجلس کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضرت مولانا قاری ابو الحسن اعظمی کا رشتہ قلم وقرطاس سے بہت پرانا اور مسلسل ہے جس کا دنیاکے ارباب علم وفضل اعتراف کرچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دارالعلوم اشرفیہ کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ اس نے اتنے عظیم مصنف کے کتب کی رسم اجراء کی تقریب اپنے یہاں منعقد کی ادارہ کے اس قابل ستائش اقدام سے یہ پیغام جاتا ہے کہ سماج کے باصلاحیت افراد کا اعزاز لازمی طور پر ہونا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ ایسے پروگراموں میں شرکت کرکے ہمیں کچھ سیکھنے اور کام کرنے کا حوصلہ بھی ملتا ہے ۔مولانا مفتی بلال نے کہا کہ قاری ابو الحسن اعظمی قرون اولی کی صفات سے مالا مال ہیں۔
دارالعلوم اشرفیہ کے مہتمم مولانا سالم اشرف نے قاری ابو الحسن اعظمی کی کاوشوں اور ان کی تصانیف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قاری صاحب موصوف علم و فکر اور فہم وتدبر سے مالا مال ہیں۔بعد ازاںقاری ابو الحسن اعظمی نے پورے جذباتی انداز میں حاضرین اور بالخصوص اپنے ساتھیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اتنا بڑا کام خدا کی توفیق ساتھیوں کی رہبری اور دارالعلوم کی روحانی تربیت کی بدولت ہی ممکن ہوسکا ہے۔
پروگرام کے آخر میںمجلس میں موجود ارباب علم وفضل کے بدست عالمی مجدد علم قرأت ایوارڈ مجلس تعلیمی دارالعلوم اشرفیہ دیوبند کی طرف سے قاری ابو الحسن اعظمی کو پیش کیا گیا۔حضرت مولانا سید انظر میاں رکن شوری دارالعلوم کی دعاء پر تقریب کا اختتام ہوا۔اس تقریب رسم اجراء کے پروگرام میں ادبی، علمی،وسماجی شخصیات کے علاوہ مدارس کے اساتذہ اور طلبہ بڑی تعداد میں موجود رہے۔