قاری صاحب کی کتابیں موجودہ اور آئندہ نسلوں کے لئے قیمتی سرمایہ ہیں : مولانا ندیم الواجدی
دیوبند، 27؍ جون
(رضوان سلمانی)
دارالعلوم دیوبند کے سابق شیخ القراء اور رکن رابطہ عالم اسلامی مکۃ المکرمہ مولانا قاری ابوالحسن اعظمی کی کتاب’’ چند اہم علمی اور دینی شخصیات ‘‘ کی رسم اجرا علماء کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس موقع پر مولانا قاری ابوالحسن اعظمی کی کتاب کے اجرا کے موقع پر معروف عالم دین مولانا ندیم الواجدی نے کہا کہ قاری صاحب کی شخصیت محتاج تعارف نہیںہے۔انہوں نے قرطاس وقلم کے حوالہ سے جو خدمات انجام دی ہیں وہ سرزمین دیوبند کا امتیاز قرار پاتی ہیں۔
مولانا کی اس سے پہلے 133کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں جن میں اکثر کتابیں تحقیق اور علم وفضل کا بہترین عنوان ہیں ۔ قاری صاحب کا میدان گو تجوید وقرأت ہے مگر ان کے قلم نے مختلف علوم کا طواف کیا ہے ، ان کی سب کتابیں مقبول ہوئیں اور خاص طورپر قرأت وتجوید کے عنوان پر جو انہو ںنے کچھ لکھا وہ بہت کارآمد ، منفرد بڑا مضبوط کام ہے۔
یہ کتاب چند اہم دینی علمی اور دینی شخصیات میں بھی انہو ںنے شخصیات کا مختصر مگر جامع تعارف کرایا ہے، ان کا اسلوب نکھرا ہوا اور زبان پرتاثیر ہے۔ قاری صاحب کو اللہ رب العزت نے لکھنے کے جس کمال سے سرفراز کیا ہے وہ ہر ایک کا حصہ نہیں بنتا ، قاری صاحب جب لکھتے ہیں توخود کو چہار جانب سے یکسو کرکے لکھتے ہیں۔ میں انہیں ان کی 134ویں کتاب پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں ، اس دعا کے ساتھ کہ وہ کاغذ اور قلم کے رشتوں کو یوں ہی باقی رکھنے اور نباہنے میں کامیاب رہیں۔
استاذ وقف دارالعلوم ومستند ادیب مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے کہا کہ زندگی کی جتنی بہاریں قاری صاحب دیکھ چکے ہیں اس سے دگنی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں، اوسطاً دیکھا جائے تو دو کتابیں ہر سال شائع ہونے کا نقشہ سامنے آتا ہے، یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ کم ازکم چالیس سال سے قاری صاحب کا قلم مصروف عمل ہے اور اس عرصہ میں انہوں نے دیوبند کے امتیاز اورا ختصاص کو باقی رکھنے میں بڑا بنیادی اور اہم رول ادا کیا ہے۔ کم لوگ ہیں جن کی شناخت اتنی مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے ،پھر عمر کی اس منزل میں تو کام کرنے والے انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں ۔
’’چند اہم علمی اور دینی شخصیات‘‘ کے سرسری مطالعہ کے بعد یہ بات گہرے نقوش کی صورت اختیار کرلیتی ہے کہ اللہ نے قاری صاحب کو شاید اسی لئے پیدا فرمایا تھا کہ وہ کاغذ اور قلم اور رشتوں کو مضبوط سے مضبوط کریں۔
ان کی یہ کتاب بھی شخصیات کو مختلف پہلوئوں سے نمایاں کرنے میں کامیاب ہیں۔ مختصر ہی سہی مگر انہو ںنے ہر شخصیت کو کمال درجہ میں اپنے قلم سے سجایا اور سنوارا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب اپنے عنوان کا مکمل اظہار ہے اور خوبصورتی کے ساتھ اس عنوان کا احاطہ کرتی ہے۔ اس موقع پر حافظ عمر الٰہی ، قاری ارشاد، مولانا مقیم الدین، عبدالرحمن سیف وغیرہ موجود رہے۔