موہالی ویڈیو لیک معاملہ: ہنگامہ آرائی کے بعد وارڈن کا تبادلہ، 6 دن کے لیے کلاسز معطل

تازہ خبر قومی
چندی گڑھ: 19؍ستمبر
(زیڈ این ایم ایس)
چندی گڑھ یونیورسٹی (سی یو)، موہالی میں زیر تعلیم 60 سے زائد طالبات کے نہانے کے وائرل ہونے والے ویڈیو کے سلسلے میں کیمپس میں کلاسوں کو 6 دنوں کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔ بہت سے طلباء یونیورسٹی کیمپس چھوڑ رہے ہیں۔
 انتظامیہ کی جانب سے تمام مطالبات تسلیم کرنے کے بعد طلباء کا احتجاج دوپہر ڈیڑھ بجے ختم ہوا۔ روپڑ رینج کے ڈی آئی جی گرپریت بھلر اور موہالی کے ڈی سی امیت تلوار نے یقین دلایا کہ ان کے تمام مطالبات پورے کئے جائیں گے۔ یونیورسٹی نے اب 24 ستمبر تک غیر تدریسی دن کا اعلان کیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد ہاسٹل کے تمام وارڈنز کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔
تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے مسلسل اس بات کی تردید کی ہے کہ ملزم ایم بی اے طالب علم نے دوسری لڑکیوں کی ویڈیوز بھی بنائی تھیں۔ اس معاملے میں درج ایف آئی آر کی کاپی بھی طلباء کو فراہم کر دی گئی ہے۔ احتجاج کے دوران ہفتہ کو بے ہوش ہونے والے طالب علم کو بھی مظاہرین کے سامنے پیش کیا گیا۔
 ہماچل پولیس نے اس معاملے میں دو نوجوانوں کو دیر رات گرفتار کیا ہے۔ ان میں وہ نوجوان جس کی تصویر لڑکی نے دکھائی تھی وہ شملہ کے دھلی سے پکڑا گیا تھا۔ اس کا نام رنکج ورما ہے۔
 جبکہ دوسرے ملزم سنی مہتا کو روہڑو سے گرفتار کیا گیا۔ اس سے قبل پنجاب پولیس نے ویڈیو بنانے والی لڑکی کو گرفتار کیا تھا۔ لڑکی بھی شملہ کے روہڑو کی رہنے والی ہے۔ وہ لڑکوں کو کافی عرصے سے جانتی تھی۔
یہ معاملہ17   ستمبر کو اس وقت سامنے آیا جب ہاسٹل کی لڑکیوں نے الزام لگایا کہ ایک طالبہ نے کئی طالبات کی ویڈیو بنا کر اپنے بوائے فرینڈ کو بھیج دی ہے۔ ہنگامہ بڑھ گیا تو اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ ملزم طالب علم کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس سے پوچھ گچھ کرنے پر شملہ میں رہنے والے بوائے فرینڈ کے بارے میں معلومات ملی۔
 اگلے دن 18 ستمبر کو ہنگامہ آرائی تیز ہوگئی۔ یونیورسٹی میں دن بھر ہزاروں طالبات نے احتجاج کیا۔ یہاں پولس نے پریمی کی تلاش میں شملہ میں آپریشن شروع کیا اور شام کو اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اب بوائے فرینڈ سے اس امید پر پوچھ گچھ کی جارہی ہے کہ کیس میں مزید اہم انکشافات ہوسکتے ہیں۔