پوری ریاست میں اسی طرح کی پابندیوں کے تحت لانے کا حکم جاری ہونے کا امکان
اذان سے 15 منٹ پہلے اور بعد میں لاؤڈ اسپیکر بجانے کی اجازت نہیں۔ناسک پولیس کمشنر
ممبئی : 18؍اپریل
(اے ایم این ایس)
ملک میں جاری لاؤڈ اسپیکر تنازعہ کے درمیان، مہاراشٹر کے ناسک میں ضلع انتظامیہ کی جانب سے مذہبی مقامات پر بغیر اجازت کے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی لگا دی ہےاور یہ بھی کہا کہ ہنومان چالیسہ کو اذان سے 15 منٹ پہلے اور بعد میں لاؤڈ اسپیکر پر بجانے کی اجازت نہیں ہوگی۔پولیس نے مسجد کے 150 میٹر کے دائرے میں ہنومان چالیسہ ‘ بھجن پڑھنے پر بھی پابندی عائد کردی
اذان سے 15 منٹ پہلے اور اذان کے 15 منٹ بعدبھجن یا ہنومان چالیسہ بجانے کے لیےاجازت نہیں ہوگی۔ اب ناسک پولیس نے پابندی لگا دی ہے مہاراشٹر کے محکمہ داخلہ نے کہا کہ پوری ریاست کو اسی طرح کی پابندیوں کے تحت لانے کا ایک تفصیلی حکم دو دنوں کے اندر جاری ہونے کا امکان ہے۔
Maharashtra | Permission has to be taken for playing Hanuman Chalisa or Bhajan. It will not be allowed within 15 minutes before and after the Azan. It will not be allowed within 100 metres of the mosque. The aim of this order is to maintain law & order: Deepak Pandey, Nashik CP pic.twitter.com/zRrnyHdMqq
— ANI (@ANI) April 18, 2022
پولیس نے مذہبی مقامات پر بغیر اجازت لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ اب تمام مذہبی مقامات کو لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے لیے 3 مئی تک اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا۔ 3 مئی کے بعد اگر کوئی حکم کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا تو خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پولیس کمشنر دیپک پانڈے نے بتایا ہے کہ اس آرڈر کا مقصد امن و امان برقرار رکھنا ہے۔انہوں نے کہاکہ پولیس نے اب پیشگی اجازت کے بغیر مذہبی عمارات میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے کے انتباہات کے پس منظر میں، ناسک پولیس کمشنر نے کہا کہ لاؤڈ اسپیکر پر ہنومان چالیسہ یا بھجن بجانے کے لیے اجازت لینی ہوگی۔ ضلع میں امن و امان برقرار رکھنے کے مقصد کا حوالہ دیتے ہوئے پانڈے نے کہا کہ اذان سے پہلے اور بعد میں 15 منٹ کے اندر ہنومان چالیسہ یا بھجن کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کو امن برقرار رکھنے کے لیے نوٹس جاری کرنے کا حق ہے۔ ایم این ایس نے 2005 کے قانون کے تحت اس قاعدہ کو اذانوں کے دوران صوتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے لاگو کیا ہے جو دن میں 5 بار ادا کی جاتی ہیں۔
ادھر میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مہاراشٹر کے ہوم ڈپارٹمنٹ کی جانب سے اس معاملے میں بڑا فیصلہ لیا جا سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مہاراشٹر میں مذہبی مقامات پر ریاستی پولیس کی اجازت کے بعد ہی لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ مہاراشٹر کے وزیر داخلہ دلیپ والسے پاٹل اس سلسلے میں پولیس کے ڈائریکٹر جنرل اور اضلاع کے پولیس کمشنروں کے ساتھ بھی میٹنگ کریں گے۔
ذرائع کے حوالے سے میڈیا رپورٹ میں بتایا جا رہا ہے کہ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے اس معاملے پر پولیس کے علاوہ متعلقہ محکموں کے افسران کے ساتھ بھی میٹنگ کریں گے۔ اس دوران وہ ریاست میں امن و امان اور عوامی مقامات پر لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر بات کریں گے۔
واضح رہے کہ مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے صدر راج ٹھاکرے نےنے اتوار کو پونے میں MNS سٹی آفس میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے "ہندو بھائیوں کو تیار رہنے کو کہا” اگر 3 مئی تک مساجد سے لاؤڈ اسپیکر نہیں ہٹائے جاتے ہیں تو مسجد کے سامنے 5 بار ہنومان چالیسہ پڑھیں گے
