نوجوان کسی بھی قوم اور ملک کا سب سے بہترین سرمایہ

تازہ خبر قومی

جامعہ رحمت گھگھرولی میںمنعقدہ پروگرام سے مولانا نسیم اختر شاہ قیصر کا اظہار خیال

دیوبند، 9؍ جنوری
(رضوان سلمانی)
ممتاز ادیب اور صاحب اسلوب ، انشاء پرداز مولانا نسیم اختر شاہ قیصر استاذ حدیث دارالعلوم وقف دیوبند کی قیادت میں علماء و دانشوران کے ایک وفد نے جامعہ رحمت گھگھرولی سہارنپور کا دورہ کیا اور موجودہ بگڑتی صورت حال تعلیمی بحران اور معاشرہ کی بے راہ روی کو لیکر تبادلہ خیال کیا۔

جامعہ رحمت گھگھرولی میں منعقد میٹنگ میں مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ اومیکرون کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر اداروں میں وائرس سے بچنے اور محفوظ رہنے کی تدابیر اختیار کریں،اس سلسلے میں بالکل لاپرواہی نہ برتیں۔موجودہ وبائی دور میں تعلیم کا جو نقصان ہوا ہے وہ ہر کسی پر عیاں ہے اور ہماری مزید لاپرواہی اس میں مزید نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

انھوں نے آگے نوجوانوں کی بابت کہا کہ پڑھے لکھے اور باشعور نوجوان کسی بھی قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں اور اگر کسی قوم پر آفت طاری ہو تو بھی نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اس آفت کا مقابلہ کرنے میں اپنا کردار نبھائیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ان نوجوانوں کی صحیح رہنمائی ہو ، انہیں صحیح راہ پر لے جانے والا ہو کوئی ، ایک نسل کے بعد دوسری نسل سے امیدیں وابستہ کی جاتی ہیں لیکن عملی طور پر اس نسل کو تیار کرنا پچھلی نسل کی ذمہ داری ہے۔ نوجوان کسی بھی قوم اور ملک کا سب سے بہترین سرمایہ ہوتے ہیں ، ان کی تربیت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ نوجوان خون جوش میں رہتا ہے ، مگر اس کو ہوش کی سمت میں لے جانا بڑوں کی ذمہ داری ہے ۔

ممتاز قلم کار مفتی محمد ساجد قاسمی کھجناوری نے کہا کورونا کی ایک نئی قسم اومیکرون کے خوف کی وجہ سے حال ہی میں شروع ہوئے تعلیمی اداروں کو دوبارہ بند کرنے یا آن لائن تعلیم پر بحث شروع ہوگئی ہے جو ہمیں تعلیم اور بچوں کے مستقبل کے حوالے سے گہری تشویش میں مبتلا کرتی ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم احتیاطی تدابیر کو اختیار کرتے ہوئے اپنی تعلیم جاری رکھیں اور کسی بھی طرح کی لاپرواہی سے پرہیز کریں۔

مولانا ڈاکٹر بدر عالم ندوی ترجمان خانقاہ رحیمی رائے پور نے کہا کہ اومیکرون کے کیسز میں بہت سارے ممالک میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور ہمارے ملک میں یہ تعداد بڑھتی جارہی ہے جس کے لئے انتظامیہ الرٹ ہوچکی ہے،لیکن ہم یہ یاد رکھیں کہ کسی بھی وبائی مرض میں سب سے بہتر علاج احتیاط ہوتی ہے، خود کو پاک صاف رکھنے سے بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکتاہے،آفت کے ان دنوں میں ہم آگے بڑھیں،گھبرائے نہیں اور طلبہ کو چاہیے کہ وہ کسی بھی طرح خود کو تعلیم سے الگ نہ کریں بلکہ اس سے جڑے رہیں۔

نظامت کے فرائض انجام دے رہے مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی مہتمم جامعہ رحمت گھگھرولی نے اصلاح معاشرہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ارتداد کی لہر امت کے لئے ایک بڑی آزمائش اور بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔کئی علاقوں میں یہ فتنہ تیزی سے سر اٹھا رہا ہے اور اس فتنے کے زہریلے اثرات تیزی سے پھیل رہے ہیں، رات دن مسلم خواتین کو مرتد بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اور انکی ذہن سازی کی جارہی ہے جسکے لئے باطل طاقتیں خفیہ طریقے سے کام کررہی ہیں۔

اس حوالے سے مزید بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور دینی احکامات گھر گھر تک پہنچانے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔میٹنگ کے اختتام پر موجودہ علماء کرام کے ہاتھوں مغیثی کیلنڈر 2022 کا اجراء عمل میں آیا۔علماء کے وفد میں مفتی صادق مظاہری، قاری ناصر،عارف عثمانی، رضوان سلمانی،مفتی طارق قاسمی،قاری ثوبان،قاری اسجد،قاری وسیم،قاری اجود،حافظ احکام،حافظ مشکور،وغیرہ موجود رہے۔