مسجد ریحانہ سبھاش نگر کریمنگر، جناب حافظ عبد السمیع صاحب امام وخطیب مسجد ریحانہ کے نکاح کے موقع پر جناب مفتی محمد غیاث محی الدین صاحب مدظلہ ناظم مدرسہ عربیہ حفظ القران کریمنگر کے خطاب کا مختصر خلاصہ
رشتے کے انتخاب میں لوگ چار چیزیں مد نظر رکھتے ہیں ایک مال، دوسرا جمال، تیسرا حسب نسب اور چوتھا دینداری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم دینداری کو ترجیح دو.
جس طرح دیگر بہت سی چیزوں میں ہم بہتر سے بہترین کو ترجیح دیتے ہیں، اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر ہر لڑکی اور لڑکے والے دینداری کو ترجیح دیں، جب معاشرے میں ایسا کرنے لگیں گے تو دنیا میں دینداری کا اضافہ ہو جائے گا، ہر ایک دیندار بننے کی کوشش کریں گے، نکاح کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت یہی ہے کہ دینداری کو ترجیح دی جائے.
ہر خوشی کے مواقع پر خوشی کے اظہار کے لئے شریعت نے ایک حد مقرر کر دیا ہے، شادی کا موقع بھی خوشی کا موقع ہے، لہٰذا اس میں بھی خوشی کے اظہار کے لئے شریعت مطہرہ نے حد بندی کر دی ہے، لہٰذا اس سے تجاوز نہیں کرنا، ڈھول تاشا، بینڈ باجا، ناچنا گانا یہ تمام امور شریعت میں منع اور اللہ کی ناراضگی کا باعث ہے، لہٰذا ہمیں شادی کے موقع پر بھی اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے، بلکہ حکم خداوندی پر عمل کرتے ہوئے شادی کی خوشی کے موقع پر اپنے ناراض رشتہ دار اور متعلقین کو خوش کریں، جو ہم سے دور ہیں انہیں خود سے قریب تر کریں، آپسی اختلافات اور رنجش کو ختم کر کے پیغامِ محبت کو عام کریں.
نکاح سنت کے مطابق کریں، اللہ کے گھر (مسجد) میں نکاح کریں، مسجد میں فرشتوں کا ہجوم ہوتا ہے، نکاح سے ایک قسم کی زندگی کا آغاز ہوتا ہے، لہٰذا اپنی یا اپنی اولاد کی زندگی کا آغاز فرشتوں کی نورانی محفل سے کریں تاکہ اس کے برکات و ثمرات مکمل زندگی ملتے رہیں، مسجد میں نکاح نہ کرنے سے تمام طرح کی خرافات میں مبتلا ہوا جاتا ہے، مسجدوں میں تمام تر خرافات سے حفاظت ہوتی ہے، دیگر اقوام عالم خصوصاً عیسائیوں کے پاس نکاح کا عملی نمونہ نہ ہونے کے باوجود وہ اپنی عبادت گاہوں میں نکاح کرتے ہیں تو مسلمانوں کے پاس عملی نمونہ ہونے باوجود کیونکر مسجد میں نکاح نہ کیا کریں؟
نکاح کو آسان بنائیں، کیونکہ شریعت میں سب سے آسان کام نکاح ہے، لہٰذا بڑی بڑی شادی ہالوں کو بک کرنے کے بجائے مسجدوں میں سادہ اور آسان طریقہ پر نکاح کریں، اسلام میں نکاح کے موقع پر کوئی رسم و رواج نہیں ہے سوائے ولیمہ کی تقریب کے، نکاح اسلام میں اتنا آسان ہے کہ اس میں صرف دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول ہو جائے بس!
جہیز اور دیگر چیزوں کے ذریعہ نکاح کو مشکل کرنے سے جہاں بہت سے دیگر مفاسد ہیں وہیں آج کل سب سے اہم یہ کہ بچیاں ارتداد کی شکار ہو رہی ہیں، حالانکہ مہر دینے، گھر بسانے اور تمام اخراجات لڑکے کے ذمہ ہے لیکن آج کل تمام اخراجات لڑکی کے والدین کو اٹھانا پڑ رہا ہے، جائیداد اور پراپرٹی گروی رکھ کر یا بیچ کر اپنی بیٹیوں کی شادی کرانی پڑ رہی ہے.
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب با برکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو، یہ اصول ہر کسی کے لئے ہے خواہ مالدار ہو یا تنگدست، صاحب نصاب ہو یا صاحب نصاب نہ ہو.
اپنی اولاد کو دینی تعلیم سے روشناس کرائیں، حافظ و عالم، مفتی بنائیں، اسباب کی جانب نہ دیکھیں کہ عالم حافظ بن کر کیا کمائے گا کیا کھائے گا، اور شریعت کے حکم کی تعمیل میں شادی کے وقت اسی علم اور دینداری کو ترجیح دیتے ہوئے اپنی اولاد کا نکاح کرائیں.
اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے. (آمین)