حیدرآباد۔10؍فروری
زین نیوز
بنجارہ کارپوریٹرمسز گد والا وجیالکشمی بحیثیت میئر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) کے میئر منتخب ہوگئیں۔ ڈپٹی میئر کی حیثیت سے تارناکہ کی کارپوریٹر مسز موٹے سرلتا منتخب ہوگئیں۔ اس کا باضابطہ اعلان الیکشن آفیسر وکلکٹر ضلع حیدرآباد مسز شویتا موہنتی نے کیا ۔ انہوں نے میئر، ڈپٹی میئر اور تمام کارپوریٹرس کو مبارکباد ی بھی دی ۔ نومنتخب میئر وجیالکشمی اور ڈپٹی میئر سرلتا کو ٹی آر ایس پارٹی ورکنگ پریسیڈنٹ مسٹر کے ٹی راماراؤ کی بشمول بیشتر ارکان اسمبلی‘ کونسل اور ارکان پالیمان نے مبارکباد پیش کی۔ قبل ازیں کارپوریٹر مسٹر بابافصیح الدین اور کارپوریٹر گاجولارامارم مسٹر شیشاگیری نے میئر کے عہدہ کیلئے مسز وجیالکشمی کے نام کی تجویز پیش کی جبکہ ڈپٹی میئر کے عہدہ کیلئے کارپوریٹر مچھا بلارم مسٹر راج جتیندر ناتھ اور کارپوریٹر کوکٹ پلی مسٹر جوپلی ستیانارائن نے سرلتا کے نام کی تجویز پیش کی۔ اس کے بعد الیکشن آفیسر شویتا موہنتی نے انتخابی عمل کا آغاز کیا۔ میئر کا انتخاب ہاتھ اٹھا کر کیا گیا۔ اس موقع پر مجلس اتحادالمسلمین نے میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخابات میں ٹی آر ایس امیدواروں کی حمایت کی میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخا با ت بغیر کسی ہنگامے کے پرامن انداز میں منعقد ہوئی جبکہ اس عہدہ کیلئے امیدواروں کے ناموں کو لیکر پچھلے تین و چار دن سے الجھن جیسی صورتحال تھی مگر چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھرراؤ نے بند لفافہ ان کے ناموں کو اجلاس کے دن روانہ کرتے ہوئی ناموں کے قطعی اعلان کا پہلے ہی اشارہ دیا تھا آج اس پر عمل کیا گیا ۔ نتیجہ کے اعلان کے ساتھ ہی نومنتخبہ میئر اور ڈپٹی میئر نے چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھرراؤ‘ وزیر بلدی نظم نسق و شہری ترقی مسٹر کے ٹی راماراؤ اور بہ اعتبار رتبہ ارکا ن کا شکریہ ادا کیا اور عظیم تر مجلس بلدیہ میں تمام کے مشورہ سے ترقیاتی کام انجام دینے کے اپنے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ شہر میں خواتین کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کر نے کی ہرممکنہ کوشیش کریں گی اور کرپشن کے خلاف ان کی جنگ بھی شروع ہوگی۔ وجیالکشمی نے بیک وقت میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدو کو خواتین کے ذریعہ پر کرنے پر مسرت ظاہر کرتے ہوئے ایک با رپھر کے سی ار کا شکریہ ادا کیا۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ٹی ار ایس نے 65 فیصد مسلم آبادی کے حامل شہر حیدرآباد کے مسلمانوں کو نظر انداز کیا ہے جبکہ ٹی ار ایس کے ٹکٹ پر 2مسلم خاتون اور 2مسلم مرد کارپوریٹرس منتخب ہوئے تھے۔ کے سی ار جو اپنی پارٹی کے قیام سے لیکر اب تک یہی کہتے رہے ہیں کانگریس اور تلگودیشم نے مسلم نمائندگی اور ان کو پارٹی ٹکٹس دینے میں ناانصافی سے کام لیا ہے۔وہ مسلم اقلیتوں کی سیاسی نمائندگی میں اضافہ کی نہ صرف یقین دہانی کرواتے رہے بلکہ مقننہ ایوانوں میں % 12اور ادارہ جات مجالس مقامی اور کاپوریشنس وغیرہ میں کم از کم تین مسلم امیدواروں کو نمائندگی دینے کا متعدد مرتبہ وعدہ کیا لیکن یہ سب صرف باتوں کی حد تک محدود رہا جبکہ5 فیصد تناسب کے حامل ریڈی طبقہ کو 65یا 70فیصد کی نمائندگی دی جارہی ہے چاہے ٹکٹوں یا پھر نامزد عہدوں کا معاملہ ہی کیوں نہ ہو۔
میئر کا خاکہ:
گد والا وجیالکشمی (بنجارہہلز)
عمر: 56
شوہر کانام: بابی ریڈی
تعلیم: ایل ایل بی
طبقہ: منور کاپو (بی سی)
میئر وجیالکشمی کی تعلیم حیدرآباد میں جاری رہی۔ انہوں نے حیدرآباد کے ہولی میری اسکول میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ ریڈی ویمنس کالج سے انٹر اور بھارتیہ ودیا بھون سے صحافت میں ڈگری لی۔ سلطان نے العلوم لا کالج سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔
شادی کے بعد 18 سال تک امریکہ میں رہیں۔ اس دوران انہوں نے شمالی کیرولینا کی ڈیوک یونیورسٹی میں شعبہ امراض قلب میں ریسرچ اسسٹنٹ کی حیثیت سے کام کیا۔ 2007 میں امریکہ سے وطن واپس ہوئیں اس کے بعدسے وہ سیاست سے وابستہ ہوئیں۔ہ 2016 کے جی ایچ ایم سی انتخابات میں، بنجارا ہلز سے ٹی آر ایس پارٹی کے ٹکٹ پر بھاری اکثریت کے ساتھ کارپوریٹر منتخب ہوئیں ڈویژن کی ترقی کے لئے انتھک محنت کی۔
ڈپٹی میئر:
موٹے سرلتا ا (تارناکہ)
عمر: 49
شوہر: ایم ۔ شوبن ریڈی
اولاد: راجیوی، سری تجسوی
تعلیم: بی اے
سیاسی تجربہ: کچھ عرصہ تک وہ ٹی آر ایس خواتین شعبہ کی ریاستی جنرل سکریٹریرہیں۔